🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1171. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25071
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِي شَيْئًا مِنَ الشِّعْرِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، شِعْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، كَانَ يَرْوِي هَذَا الْبَيْتَ: " وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ" .
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی شعر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر کبھی کبھی پڑھتے تھے۔ " اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہ دیا ہوگا "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25071]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شريك وتمثل النبى صلى الله عليه وسلم بشعر ابن رواحة صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25072
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی اذان اور نماز کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25072]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25073
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاء ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رضاعت کا تعلق تو بھوک سے ہوتا ہے (جس کی مدت دو ڈھائی سال ہے اور اس دوران بچے کی بھوک اسی دودھ سے ختم ہوتی ہے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25073]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2647، م: 1455
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25074
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّهَا رَكِبَتْ جَمَلًا، فَلَعَنَتْهُ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَرْكَبِيهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ ایک اونٹ پر سوار ہوئیں تو اس پر لعنت بھیجی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر سواری نہ کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25074]

الحكم على الحديث:
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأن أعمش لم يسمع من شمر و كذا يحيى بن وثاب لم يسمع من عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25075
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَكَّ بُزَاقًا فِي الْمَسْجِدِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں تھوک کو مٹی میں مل دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25075]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 407، م: 549
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25076
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ إِسْحَاقَ بنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهُ لَيُهَوِّنُ عَلَيَّ أَنِّي رَأَيْتُ بَيَاضَ كَفِّ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے لئے یہ بات باعث اطمینان ہے کہ میں نے جنت میں عائشہ کی ہتھیلی کی سفیدی دیکھی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25076]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة مصعب بن إسحاق بن طلحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25077
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ كَلَامُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصْلًا يَفْقَهُهُ كُلُّ أَحَدٍ، لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُهُ سَرْدًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو بالکل واضح ہوتی تھی اور ہر شخص اسے سمجھ لیتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح احادیث بیان نہیں فرمایا کرتے تھے جس طرح تم بیان کرتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25077]

الحكم على الحديث:
إسناده حسن لأجل أسامة بن زيد الليثي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25078
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَلَّيْتُ صَلَاةً كُنْتُ أُصَلِّيهَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ أَنَّ أَبِي نُشِرَ، فَنَهَانِي عَنْهَا، مَا تَرَكْتُهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں ایک نماز پڑھتی ہوں جو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں بھی پڑھا کرتی تھی اگر میرے والد بھی زندہ ہو کر مجھے اس سے منع کریں تو میں اسے نہیں چھوڑوں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25078]

الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25079
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: ذُكِرَ لَهَا: أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ كَافِرٍ:" إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ" .
کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بات کا ذکر کیا کہ میت پر اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کافر کے متعلق فرمائی تھی کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25079]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25080
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَرَمْيُ الْجِمَارِ، لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیت اللہ کا طواف، صفا مروہ کی سعی اور رمی جمار کا حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25080]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأجل عبيدالله بن أبى زياد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں