🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1171. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25751
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ" . قَالَتْ: وَإِنَّمَا" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، جَهِدَ النَّاسُ، ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ گندم کے کھانے سے کبھی پیٹ نہیں بھرا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا ممنوع قرار دے دیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ قربانی کرنے والے ان لوگوں کو بھی کھانے کے لئے گوشت دے دیں جو قربانی نہیں کرسکے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25751]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2970
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25752
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ . وَأَسْوَدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْإِحْرَامِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ قَالَ أَسْوَدُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25752]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5923، م: 1190
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25753
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَّةُ فَاسِقَةٌ، وَالْعَقْرَبُ فَاسِقَةٌ، وَالْغُرَابُ فَاسِقٌ، وَالْفَأْرَةُ فَاسِقَةٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سانپ نافرمان جانور ہوتا ہے، اسی طرح بچھو، کوا اور چوہا بھی نافرمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25753]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1829، م: 1198
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25754
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذُكِرَ لَهَا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ. قَالَتْ: وَهِلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمَا وَهِلَ يَوْمَ قَلِيبِ بَدْرٍ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ" يَعْنِي الْكَافِرَ .
کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس بات کا ذکر کیا کہ میت پر اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہو رہا ہے، حضرت عائشہ فرمانے لگیں کہ انہیں وہم ہوگیا ہے، دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کافر کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ اس وقت اسے عذاب ہو رہا ہے اور اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25754]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3978، م: 932
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25755
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ بَرِيرَةَ كَانَتْ مُكَاتَبَةً وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُيِّرَتْ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بریرہ نے اپنے مالک سے " مکاتب " کا معاملہ کر رکھا تھا اور اس کا شوہر ایک غلام تھا، لہذا جب وہ آزاد ہوئی تو اسے نکاح برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا اختیار مل گیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25755]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25756
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَأْثَمٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25756]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 6786، م: 2327
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25757
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ نَافِعٍ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ سُعَيْدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا فَقَدَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَضْجَعِهِ، فَلَمَسَتْهُ بِيَدِهَا، فَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، وَهُوَ يَقُولُ: " رَبِّ أَعْطِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، زَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، وہ ہاتھوں سے ٹٹولنے لگیں تو ان کے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کو جا لگے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ پروردگار! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اس کا تزکیہ فرما کیونکہ تو ہی سب سے بہترین تزکیہ کرنے والا ہے، تو ہی اس کا مالک اور کار ساز ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25757]

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25758
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحْشٌ، فَكَانَ إِذَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَدَّ وَلَعِبَ فِي الْبَيْتِ، فَإِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَنَ فَلَمْ يَتَحَرَّكْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُؤْذِيَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک وحشی جانور تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر جاتے تو وہ کھیلتا کودتا اور آگے پیچھے ہوتا تھا، لیکن جیسے ہی اسے محسوس ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لا رہے ہیں تو وہ ایک جگہ سکون کے ساتھ بیٹھ جاتا تھا اور جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں رہتے کوئی شرارت نہ کرتا تھا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25758]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأن مجاهدا لم يسمع هذا الحديث من عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25759
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ میں پڑھتی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25759]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 25760
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ هَمَّامٍ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، إِيَّاكُنَّ وَقَشْرَ الْوَجْهِ، فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ عَنِ الْخِضَابِ؟ فَقَالَتْ:" لَا بَأْسَ بِالْخِضَابِ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ، لِأَنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ رِيحَهُ" .
کریمہ بنت ہمام کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ مسجد حرام میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ لوگوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لئے ایک الگ جگہ بنا رکھی ہے، ان سے ایک عورت نے پوچھا کہ اے ام المومنین! مہندی کے متعلق آپ کیا کہتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا رنگ اچھا لگتا تھا لیکن مہک اچھی نہیں لگتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25760]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأجل كريمة بنت همام فإنها مستورة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں