مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26001
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" , ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ أَنْ تَحْتَجِبَ مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ , فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد بن زمعہ سے فرمایا بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سودہ! تم اس سے پردہ کرنا چنانچہ وہ ان کے انتقال تک انہیں دیکھ نہیں سکا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26001]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، محمد بن إسحاق توبع، خ: 2218، م: 1457
حدیث نمبر: 26002
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ , قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ؟ , فَقَالَتْ:" كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا وَهُوَ جَالِسٌ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ , قَامَ , فَرَكَعَ" .
علقمہ بن وقاص لیثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کردو رکعتیں کس طرح پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرأت تو بیٹھ کر کرتے تھے لیکن جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوجاتے اور پھر رکوع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26002]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 731
حدیث نمبر: 26003
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَتْ: " نَعَمْ , وَلَكِنَّهُ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَغْسِلَ فَرْجَهُ , وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو شرمگاہ کو دھو کر نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26003]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 26004
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ , قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّهْ , فَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ؟ قَالَتْ:" الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ , غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَتْ لَهُمْ رَبَائِبُ , فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26004]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972
حدیث نمبر: 26005
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ , فَإِنْ كَانَتْ لَتَدْخُلُ الْمِرْكَنَ مَمْلُوءًا مَاءً , فَتَغْتَمِسُ فِيهِ , ثُمَّ تَخْرُجُ مِنْهُ , وَإِنَّ الدَّمَ لَغَالِبُهُ , فَتَخْرُجُ فَتُصَلِّي" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زینب بنت جحش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26005]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لتدليس محمد بن إسحاق وقد عنعن
حدیث نمبر: 26006
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُحْرِمُ وَحِينَ يَحِلُّ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26006]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 1754، م: 1189
حدیث نمبر: 26007
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أُهْدِيَتْ لِحَفْصَةَ شَاةٌ وَنَحْنُ صَائِمَتَانِ , فَأَفْطَرَتْنِي , وَكَانَتْ ابْنَةُ أَبِيهَا , فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " أَبْدِلَا يَوْمًا مَكَانَهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدیئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26007]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، سفيان - هو ابن حسين - ضعيف فى الزهري
حدیث نمبر: 26008
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَ: سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ فَأَعْطَتْهَا , فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ , فَلَمَّا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَهُ , فَقَالَ:" لَا" قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ: " إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودیہ عورت نے ان سے کچھ مانگا، انہوں نے اسے وہ دے دیا، اس نے کہا کہ اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، انہیں اس پر تعجب ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے ان سے اس کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ پر یہ وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26008]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، سفيان توبع
حدیث نمبر: 26009
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: " لَقَدْ فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ؟ , فَبَعَثَ بِهَا وَأَقَامَ , فَمَا تَرَكَ شَيْئًا كَانَ يَصْنَعُهُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے بھیج کر ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے اور کوئی چیز نہ چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26009]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1696، م: 1321
حدیث نمبر: 26010
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ , فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءً" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں نگینے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نگینے آزاد اور غلام عورتوں میں تقسیم کردیئے اور میرے والد بھی غلام اور آزاد میں اسے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26010]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح