مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26031
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّوَاوِينُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ دِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا , وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا , وَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ , فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ سورة المائدة آية 72 وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ مِنْ صَوْمِ يَوْمٍ تَرَكَهُ أَوْ صَلَاةٍ تَرَكَهَا , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ ذَلِكَ وَيَتَجَاوَزُ إِنْ شَاءَ , وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا , الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے یہاں تین قسم کے دفتر ہوں گے، ایک قسم کے دفتر (رجسڑ) تو ایسے ہوں گے جن کی اللہ کوئی پرواہ نہیں کرے گا، ایک قسم کے رجسڑ ایسے ہوں گے جن میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا اور ایک قسم کے رجسڑ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا، ایسے رجسڑ جنہیں اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے " جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اللہ اس پر جنت کو حرام کردیتا ہے اور وہ رجسڑ جن میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا، وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے جن کا بہر صورت بدلہ لیا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26031]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأجل صدقة بن موسي
حدیث نمبر: 26032
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ فَسَارَّهَا، فَبَكَتْ , ثُمَّ سَارَّهَا، فَضَحِكَتْ , فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَتْ: أَمَّا حَيْثُ بَكَيْتُ , فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ فَبَكَيْتُ , ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ , فَضَحِكْتُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہ کو بلایا، ان کے ساتھ سر گوشی میں باتیں کرنے لگے، اس دوران حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہ رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں، تو بعد میں حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا سرگوشی کی تھی جس پر تم رونے لگیں اور دوبارہ سرگوشی کی تو تم ہنسنے لگی تھیں؟ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھ سے سرگوشی کی تو مجھے اپنی وفات کی خبر دی تو میں رونے لگی اور دوبارہ سرگوشی کی تو یہ بتایا کہ ان کے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے میں ہی ان سے جا کر ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26032]
الحكم على الحديث:
إستاده صحيح، خ: 3625، م: 2450
حدیث نمبر: 26033
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا مَا لَيْسَ مِنْهُ , فَهُوَ رَدٌّ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26033]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2697، م: 1718
حدیث نمبر: 26034
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَلَى عَائِشَةَ , فَأَخْبَرَاهَا، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الطِّيَرَةُ مِنَ الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ" , فَغَضِبَتْ , فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ , وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ , وَقَالَتْ: وَالَّذِي أَنْزَلَ الْفُرْقَانَ عَلَى مُحَمَّدٍ , مَا قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ , إِنَّمَا قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ" .
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بدشگونی لیا کرتے تھے (اسلام نے ایسی چیزوں کو بےاصل قرار دیا ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26034]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26035
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْدٍ , عَنْ أُمِّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی مہک سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26035]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم السائب الراسبية
حدیث نمبر: 26036
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ , أَفَكَانَ طَلَاقًا؟" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26036]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 5263
حدیث نمبر: 26037
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً يَعْنِي الْغَيْمَ , تَلَوَّنَ وَجْهُهُ , وَتَغَيَّرَ , وَدَخَلَ , وَخَرَجَ , وَأَقْبَلَ , وَأَدْبَرَ , فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَتْ: فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ , فَقَالَ: " وَمَا يُدْرِينِي لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الأحقاف آية 24" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بادل یا آندھی آتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور وہ اندر باہر اور آگے پیچھے ہونے لگتے، جب وہ برس جاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! لوگ بادل کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اب بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ بادلوں کو دیکھ کر آپ کے چہرے کے تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں عذاب تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26037]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3206، م: 899
حدیث نمبر: 26038
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا حَصِيرَةٌ نَبْسُطُهَا بِالنَّهَارِ , وَنَحْتَجِرُهَا بِاللَّيْلِ , فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَسَمِعَ الْمُسْلِمُونَ قِرَاءَتَهُ , فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ , فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الثَّانِيَةُ كَثُرُوا , فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ , فَقَالَ: " اكْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا" وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ , وَإِنْ قَلَّ , قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَثْبَتَهَا .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک چٹائی تھی جسے دن کو ہم لوگ بچھا لیا کرتے تھے اور رات کے وقت اسی کو اوڑھ لیتے تھے، ایک مرتبہ رات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، مسجد والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اگلے دن لوگوں سے اس کا ذکر کردیا، چنانچہ اگلی رات کو بہت سے لوگ جمع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا اپنے آپ کو اتنے اعمال کا مکلف بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کسی وقت نماز شروع کرتے تو اس پر ثابت قدم رہتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ عمل وہ ہوتا تھا جو دائمی ہوتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26038]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن لأجل محمد بن عمرو وقد توبع
حدیث نمبر: 26039
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا , وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا , وَكَانَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ جَالِسًا , رَكَعَ جَالِسًا" .
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم طویل فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26039]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 26040
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ دَاوُدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ , قَالَ: قُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: وَلَقَدْ رَآهُ بِالأُفُقِ الْمُبِينِ سورة التكوير آية 23 , وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى سورة النجم آية 13 قَالَتْ: أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا , فَقَالَ: " إِنَّمَا ذَاكِ جِبْرِيلُ" , لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَآهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ , سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .
مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا " تحقیق پیغمبر نے اسے آسمان کے کنارے پر واضح طور پر دیکھا ہے " اور یہ کہ " پیغمبر نے اسے ایک اور مرتبہ اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے؟ " انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے پہلے میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، جنہیں میں نے ان کی اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، میں نے ایک مرتبہ انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو ان کی عظیم جسمانی ہیئت نے آسمان و زمین کے درمیان کی فضاء کو پر کیا ہوا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26040]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 177