🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1172. تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26021
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا , وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26021]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لأجل على بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26022
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ , وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: رَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا , وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , وَكَانَ يَقُولُ: نِعْمَ السُّورَتَانِ هُمَا يَقْرَءُونَهُمَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و َقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ دو سورتیں کتنی اچھی ہیں " قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " اور " وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26022]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26023
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاخْتَرْنَاهُ , فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلَاقًا" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ سَقَطَ مِنْ كِتَابِي أَبُو الضُّحَى.
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26023]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الثوري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26024
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ " كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کھرچ دیا کرتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26024]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 288
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26025
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26025]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26026
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جَارَيْنِ , فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ , قَالَ: " إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26026]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 2595
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26027
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ , قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , فَذَكَرُوا الرَّجُلَ يَجْلِسُ عَلَى الْخَلَاءِ فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ , فَكَرِهُوا ذَلِكَ , فَحَدَّثَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَوَقَدْ فَعَلُوهَا؟ حَوِّلِي مَقْعَدِي إِلَى الْقِبْلَةِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26027]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف خالد بن أبى الصلت على نكارة فى متنه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26028
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ , وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشُقُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26028]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26029
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ , عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" يَا عَائِشَةُ , لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ , فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ , وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ , وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا , وَبَابًا غَرْبِيًّا , فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ بِنَائِهِ , فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے اسے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیونکہ قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا تھا اور میں اسے زمین سے ملا کر اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بناتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26029]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1586، م: 1333
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26030
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ , وَهِيَ أَنْجَالٌ وَغَرْقَدٌ , فَاشْتَكَى آلُ أَبِي بَكْرٍ , فَاسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَةِ أَبِي , فَأَذِنَ لِي , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ , كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ , وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ , قَالَتْ: قُلْتُ: هَجَرَ وَاللَّهِ أَبِي , ثُمَّ أَتَيْتُ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ , فَقُلْتُ: أَيْ عَامِرُ , كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ , إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فُوقِهِ , قَالَتْ: فَأَتَيْتُ بِلَالًا , فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ , كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً , بِفَخٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ , قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ , قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا , وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا , وَحَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ , كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ , وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى خُمٍّ، وَمَهْيَعَةَ" .
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال رضی اللہ عنہ بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے "۔ پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی "۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ! مدینہ منورہ ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب رکھ جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26030]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف وانقطاع لان عبدالرحمن بن الحارث ضعيف ولم يدرك عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں