🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26720
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الصَّهْبَاءِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12 , قَالَ:" النَّوْحُ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ولا یعصینک فی معروف سے مراد یہ ہے عورتیں اس شرط پر بیعت کریں کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26720]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26721
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا، وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا، خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ: أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ"، قَالَتْ: وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ , قَالَ:" أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُذْهِبُ عَنْكِ غَيْرَتَكِ" , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَأَنَا امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ , قَالَ:" هُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ" , قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَأَتَاهَا، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ، فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَتَاهَا، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ، فَانْصَرَفَ , قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، فَأَتَاهَا، فَقَالَ: حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ، هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ، قَالَ: فَأَخَذَهَا، فَاسْتَرْضَعَ لَهَا، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيْنَ زُنَابُ؟" يَعْنِي زَيْنَبَ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَهَا عَمَّارٌ , فَدَخَلَ بِهَا، وَقَالَ:" إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً" , قَالَ: فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي، وَإِنْ شِئْتِ، قَسَمْتُ لَكِ" , قَالَتْ: لَا، بَلْ اقْسِمْ لِي .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26721]

الحكم على الحديث:
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26722
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الصُّفَيْرَا ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنُ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَنْهَا، وَانْقَضَتْ عِدَّتُهَا، خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِيَّ ثَلَاثَ خِصَالٍ: أَنَا امْرَأَةٌ كَبِيرَةٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ" , قَالَتْ: وَأَنَا امْرَأَةٌ غَيُورٌ , قَالَ:" أَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُذْهِبُ غَيْرَتَكِ" , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَإِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ , قَالَ:" هُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ" , قَالَ: فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَأَتَاهَا، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ، فَانْصَرَفَ، ثُمَّ أَتَاهَا، فَوَجَدَهَا تُرْضِعُ، فَانْصَرَفَ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، فَأَتَاهَا، فَقَالَ: حُلْتِ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِ، هَلُمَّ الصَّبِيَّةَ، قَالَ: فَأَخَذَهَا، فَاسْتَرْضَعَ لَهَا، فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيْنَ زُنَابُ؟" يَعْنِي زَيْنَبَ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَذَهَا عَمَّارٌ , فَدَخَلَ بِهَا، فَقَالَ:" إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً" , قَالَ: فَأَقَامَ عِنْدَهَا إِلَى الْعَشِيِّ، ثُمَّ قَالَ:" إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي، وَإِنْ شِئْتِ، قَسَمْتُ لَكِ" , قَالَتْ: لَا، بَلْ اقْسِمْ لِي .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوسلمہ کی وفات اور ان کی عدت گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ میں تین خصلتیں ہیں، میں عمر میں بڑی ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم سے بھی بڑا ہوں انہوں نے کہا کہ میں غیور عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ سے دعا کردوں گا وہ تمہاری غیرت دور کردے گا، انہوں نے کہا میرے بچے بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔ انہوں نے عرض کیا نہیں آپ باری مقرر کرلیجئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26722]

الحكم على الحديث:
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26723
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ابْنِ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّهُ بَلَغَهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ، فَيَقُولُ إِنَّا لِلَّهِ، وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَاخْلُفْ عَلَيَّ بِخَيْرٍ مِنْهَا، إِلَّا فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: هَذَا، فَآجَرَنِي اللَّهُ فِي مُصِيبَتِي، فَمَنْ يَخْلُفُ عَلَيَّ مَكَانَ أَبِي سَلَمَةَ؟ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر یہ دعا کرلے کہ اے اللہ! مجھے اس مصیبت پر اجرعطا فرما اور مجھے اس کا بہترین نعم البدل عطاء فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت پر اجر فرمائے گا اور اسے اس کا نعم البدل عطا فرمائے گا جب میرے شوہر ابوسلمہ فوت ہوئے تو میں نے سوچا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت کی قوت دی اور میں نے یہ دعاء پڑھ لی اور عدت گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس پیغام نکاح بھیج دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26723]

الحكم على الحديث:
بعضه صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالعزيز بن بنت أم سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26724
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ : إِنَّ ظِئْرَكَ سُلَيْمًا لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ , قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرَ سُلَيْمٍ , وَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنْهَا كَانَتْ تَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ" .
محمد بن طحلاء کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ سے کہا کہ آپ کی دائی کا شوہر سلیم آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد نیا وضو نہیں کرتا، تو انہوں نے سلیم کے سینے پر ہاتھ مار کر کہا کہ میں حضرت ام سلمہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ تھیں کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کرنے کی شہادت دیتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26724]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26725
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يُوتِرُ بِسَبْعٍ، أَوْ خَمْسٍ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِكَلَامٍ وَلَا تَسْلِيمٍ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سات یا پانچ رکعتوں پر وتر پڑھتے تھے اور ان کے درمیان سلام یا کلام کسی طرح بھی فصل نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26725]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، مقسم لم يسمع من أم سلمة ، وقد اختلف فى إسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26726
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ، مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ " أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَكَانَ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جس وقت وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر نمازیں بیٹھ کر ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ تھا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26726]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، أبو إسحاق مختلط ولم يتبين لنا أمر أبى الأحوص أسمع قبل اختلاط أبى إسحاق أم بعده، وقد توبع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26727
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ: " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" , فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِهَا، وَمَا يَفِيضُ .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا اور اپنے غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہی کہتے کہتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک کھڑکھڑانے اور زبان رکنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26727]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو الخليل لم يسمع من سفينة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26728
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مُحْصِنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ، يَعْرِفُونَ وَيُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ، وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ، وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا نُقَاتِلُ فُجَّارَهُمْ؟ قَالَ:" لَا، مَا صَلَّوْا" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب چھ حکمران ایسے آئیں گے جن کی عادات میں سے بعض کو تم اچھا سمجھو گے اور بعض پر نکیر کروگے سو جو نکیر کرے گا وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوجائگا اور جو ناپسندیدگی کا اظہار کردے گا وہ محفوظ رہے گا، البتہ جو راضی ہو کر اس کے تابع ہوجائے (تو اس کا حکم دوسرا ہے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم ان سے قتال نہ کریں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جب تک وہ تمہیں پانچ نمازیں پڑھاتے رہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26728]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1854
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 26729
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ , قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ قَالَ شُعْبَةُ: أَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَدْ قَالَهَا , قَالَ: وَقَدْ ذَكَرَهُ سُفْيَانُ عَنْهُ، وَلَيْسَ فِي بَقِيَّتِهِ شَكٌّ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أَزِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أو أُظْلَم، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے نکلتے تو یہ دعا پڑھتے، اللہ کے نام سے میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اے اللہ! ہم اس بات سے آپ کی پناہ میں آتے ہیں کہ پھسل جائیں یا گمراہ ہوجائیں یا ظلم کریں یا کوئی ہم پر ظلم کرے یا ہم کسی سے جہالت کا مظاہرہ کریں یا کوئی ہم سے جہالت کا مظاہرہ کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26729]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من أم سلمة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں