مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1176. حَدِيثُ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26750
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ كُرَيْبٍ , أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ , تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ أَكْثَرَ مِمَّا يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ , وَيَقُولُ:" إِنَّهُمَا عِيدَا الْمُشْرِكِينَ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عام دنوں کی نسبت ہفتہ اور اتوار کے دن کثرت کے ساتھ روزے رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ مشرکین کی عید کے دن ہیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ ان کے خلاف کروں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26750]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
1177. حَدِيثُ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 26751
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , وَإِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسَائِهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " هَذِهِ، ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ" , قَالَ: فَكُنَّ كُلُّهُنَّ يَحْجُجْنَ إِلَّا زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، وَسَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، وَكَانَتَا تَقُولَانِ: وَاللَّهِ لَا تُحَرِّكُنَا دَابَّةٌ بَعْدَ أَنْ سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ فِي حَدِيثِهِ: قَالَتَا: وَاللَّهِ لَا تُحَرِّكُنَا دَابَّةٌ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ، ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ" , وَقَالَ يَزِيدُ: بَعْدَ أَنْ سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات سے فرمایا یہ حج تم میرے ساتھ کر رہی ہو، اس کے بعد تمہیں گھروں میں بیٹھنا ہوگا چنانچہ تمام ازواج مطہرات کے حج پر جانے کے باوجود حضرت زینب بنت جحش اور سودہ بنت زمعہ نہیں جاتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ واللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سننے کے بعد ہمارا جانور کبھی حرکت میں نہیں آسکتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26751]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 26752
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , أَنَّهَا كَانَتْ " تُرَجِّلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَتْ مَرَّةً: كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِخْضَبٍ مِنْ صُفْرٍ" .
حضرت زینب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کو کنگھی کرتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیتل کے ٹب میں وضو کر رہے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26752]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري
حدیث نمبر: 26753
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: " يَتَوَضَّأُ فِي مِخْضَبٍ مِنْ صُفْرٍ" .
حضرت زینب سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کو کنگھی کرتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیتل کے ٹب میں وضو کر رہے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26753]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الدراوردي يغلط فى أحاديث عبدالله بن عمر العمري، فيجعلها عن عبيد الله بن عمر، ثم إنه اضطرب فيه
حدیث نمبر: 26754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ , إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
حضرت زینب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت پر جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو اپنے شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے البتہ شوہر پر وہ چار مہینے دس دن تک سوگ کرے گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26754]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1282، م: 1487
1178. حَدِيثُ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حدیث نمبر: 26755
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ لَهَا: " أَصُمْتِ أَمْسِ؟" , قَالَتْ: لَا، قَالَ:" تَصُومِينَ غَدًا؟" , قَالَتْ: لَا، قَالَ:" فَأَفْطِرِي" .
حضرت جویریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن جبکہ وہ روزے سے تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم اپنا روزہ ختم کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26755]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 1986
حدیث نمبر: 26756
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , دَخَلَ عَلَيْهَا يوم جمعة وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَالَ: " أَصُمْتِ أَمْسِ؟" , فَقَالَتْ: لَا , قَالَ:" أَتُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا؟ ," قَالَتْ , لَا , قَالَ:" فَأَفْطِرِي" .
حضرت جویریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ جمعہ کے دن جبکہ وہ روزے سے تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ آئندہ کل کا روزہ رکھو گی؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم اپنا روزہ ختم کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26756]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26757
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ عُثْمَانَ ، عَنْ الطُّفَيْلِ ابْنِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ حَرِيرٍ، أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت جویریہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ریشمی لباس پہنتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کا لباس پہنائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26757]
الحكم على الحديث:
إسناده مسلسل بالضعفاء والمجاهيل على نسق
حدیث نمبر: 26758
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُدْوَةً وَأَنَا أُسَبِّحُ، ثُمَّ انْطَلَقَ لِحَاجَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ، فَقَالَ:" مَا زِلْتِ قَاعِدَةً؟" , قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: " أَلَا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ لَوْ عُدِلْنَ بِهِنَّ، عَدَلَتْهُنَّ أَوْ لَوْ وُزِنَّ بِهِنَّ وَزَنَتْهُنَّ يَعْنِي بِجَمِيعِ مَا سَبَّحَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ" .
حضرت جویریہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت تسبیحات پڑھ رہی تھی کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام سے چلے گئے پھر نصف النہار کے وقت واپس آئے تو فرمایا کیا تم اس وقت سے یہاں بیٹھی ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن کا وزن اگر تمہاری اتنی لمبی تسبیحات سے کیا جائے تو ان کا پلڑا جھک جائے گا اور وہ یہ ہیں سبحان اللہ عدد خلقہ تین مرتبہ سبحان اللہ زنۃ عرشہ تین مرتبہ سبحان اللہ رضا نفسہ تین مرتبہ سبحان اللہ مداد کلمات تین مرتبہ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26758]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2726
1179. حَدِيثُ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَاسْمُهَا رَمْلَةُ
حدیث نمبر: 26759
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ , وَجَدَ رِيحَ طِيبٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَقَالَ: مِمَّنْ هَذِهِ الرِّيحُ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مِنِّي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: مِنْكَ لِعَمْرِي، فَقَالَ: طَيَّبَتْنِي أُمُّ حَبِيبَةَ، وَزَعَمَتْ أَنَّهَا طَيَّبَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ، فَقَالَ: اذْهَبْ، فَأَقْسِمْ عَلَيْهَا لَمَا غَسَلَتْهُ، فَرَجَعَ إِلَيْهَا، فَغَسَلَتْهُ .
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق کو ذوی الحلیفہ میں خوشبو کی مہک محسوس ہوئی، پوچھا کہ یہ مہک کہاں سے آرہی ہے؟ تو حضرت امیر معاویہ نے عرض کیا کہ امیر المؤمنین یہ مہک میرے اندر سے آرہی ہے حضرت عمر نے پوچھا کیا واقعی تمہارے اندر سے آرہی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے یہ خوشبو (میری بہن ام المؤمنین) حضرت ام حبیبہ نے لگائی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام پر بھی خوشبو لگائی تھی، حضرت عمر نے فرمایا ان کے پاس جاؤ اور اسے دھونے کے لئے انہیں قسم دو، چنانچہ وہ ان کے پاس واپس گئے اور انہوں نے اسے دھو دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26759]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لانقطاعه، سليمان بن يسار لم يسمع من عمر