مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1187. حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
حدیث نمبر: 26950
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ رُءُوسَهُمْ" , قَالَتْ: وَذَلِكَ أَنَّ أُزُرَهُمْ كَانَتْ قَصِيرَةً، مَخَافَةَ أَنْ تَنْكَشِفَ عَوْرَاتُهُمْ إِذَا سَجَدُوا.
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ سجدے سے اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھایا کرے جب تک ہم مرد اپنا سر نہ اٹھالیں، دراصل مردوں کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ خواتین کی نگاہ مردوں کی شرمگاہ پر نہ پڑیں اور اس زمانے میں لوگوں کا تہبند یہ چادریں ہوتی تھیں۔ (شلواریں نہیں ہوتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26950]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام مولاة أسماء، وقد اختلف على عبدالله بن مسلم فيه
حدیث نمبر: 26951
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ , مَنْ كَانَ مِنْكُنَّ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى يَرْفَعَ الْإِمَامُ رَأْسَهُ" مِنْ ضِيقِ ثِيَابِ الرِّجَالِ.
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ سجدے سے اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھایا کرے جب تک ہم مرد اپنا سر نہ اٹھا لیں دراصل مردوں کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ خواتین کی نگاہ مردوں کی شرمگاہ پر پڑے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26951]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد أخطأ فيه سريج بن النعمان
حدیث نمبر: 26952
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ:" حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنَا، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، فَأَحْلَلْنَا كُلَّ الْإِحْلَالِ، حَتَّى سَطَعَتْ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرے کا احرام بنا لیا اور ہمارے لئے تمام چیزیں حسب سابق حلال ہوگئیں حتی کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان انگیٹھیاں بھی دہکائی گئیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26952]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26953
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَدَّتِهِ فَمَا أَدْرِي أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَوْ سُعْدَى بِنْتَ عَوْفٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بْنتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: " مَا يَمْنَعُكَ مِنَ الْحَجِّ يَا عَمَّةُ؟" , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ، وَإِنِّي أَخَافُ الْحَبْسَ , قَالَ:" فَأَحْرِمِي، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلَّكِ حَيْثُ حُبِسْتِ" .
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیربن عبد المطلب کے پاس آئے، وہ بیمار تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں بیمار ہوں مجھے خطرہ ہے کہ میری بیماری آپ کو روک نہ دے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم حج کا احرام باندھ لو اور یہ نیت کرلو کہ اے اللہ! جہاں تو مجھے روک دے گا، وہی جگہ میرے احرام کھل جانے کی ہوگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26953]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى بكر بن عبدالله
حدیث نمبر: 26954
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا قَالَتْ:" فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ، فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أَدْرَكَ بِرِدَائِهِ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا، يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَكْبَرُ مِنِّي قَائِمَةً، وَإِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي قَائِمَةً، فَقُلْتُ: إِنِّي أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ مِنْكِ" , وقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعَ.
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس دن سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بےچین ہوگئے اور اپنی قمیص لے کر اس پر چادر اوڑھی اور لوگوں کو لے کر طویل قیام کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران قیام اور رکوع کرتے رہے میں نے ایک عورت کو دیکھا جو مجھ سے زیادہ بڑی عمر کی تھی لیکن وہ کھڑی تھی، پھر میں نے ایک عورت کو دیکھا جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی لیکن پھر بھی کھڑی تھی یہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ تم سے زیادہ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کی حقدار تو میں ہوں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26954]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 906
حدیث نمبر: 26955
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يَقْرَأُ، وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الرُّكْنِ قَبْلَ أَنْ يَصْدَعَ بِمَا يُؤْمَرُ، وَالْمُشْرِكُونَ يَسْتَمِعُونَ فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ سورة الرحمن آية 13" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود کے سامنے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مشرکین کے سامنے دعوت پیش کرنے کا حکم نہیں ہوا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں جبکہ مشرکین بھی سن رہے تھے،، یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا فبای آلاء ربکما تکذبن۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26955]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، تفرد به يحيي بن إسحاق
حدیث نمبر: 26956
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لِابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ أَيْ بُنَيَّةُ: اظْهَرِي بِي عَلَى أَبِي قَبِيسٍ , قَالَتْ: وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ , قَالَتْ: فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ، مَاذَا تَرَيْنَ؟ قَالَتْ: أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا، قَالَ: تِلْكَ الْخَيْلُ، قَالَتْ: وَأَرَى رَجُلًا يَسْعَى بَيْنَ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، قَالَ: يَا بُنَيَّةُ، ذَلِكَ الْوَازِعُ يَعْنِي الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ، فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ إِذَا دَفَعَتْ الْخَيْلُ، فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي، فَانْحَطَّتْ بِهِ، وَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى بَيْتِهِ، وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ، فَتَلَقَّاها رَّجُلُ، فَاقْتَلَعَهُ مِنْ عُنُقِهَا , قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ، يَعُودُهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ فِيهِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِيَ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تَمْشِيَ أَنْتَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" أَسْلِمْ" , فَأَسْلَمَ، وَدَخَلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ" , ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ، فَقَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ وَبِالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ، احْتَسِبِي طَوْقَكِ .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مقم ذی طوی پر پہنچ کر رکے تو ابوقحافہ نے اپنے چھوٹے بیٹے کی لڑکی سے کہا بیٹی! مجھے ابوقبیس پر لے کر چڑھو! اس وقت تک ان کی بینائی زائل ہوچکی تھی، وہ انہیں اس پہاڑ پر لے کر چڑھ گئی تو ابوقحافہ نے پوچھا بیٹی! تمہیں کیا نظر آرہا ہے؟ اس نے کہا کہ ایک بہت بڑا لشکر جو اکٹھا ہو کر آیا ہوا ہے ابوقحافہ نے کہا کہ وہ گھڑ سوار لوگ ہیں ان کی پوتی کا کہنا ہے کہ میں نے اس لشکر کے آگے آگے ایک آدمی کو دوڑتے ہوئے دیکھا جو کبھی آگے آجاتا تھا اور کبھی پیچھے ابوقحافہ نے بتایا کہ وہ واضح ہوگیا یعنی وہ آدمی جو شہسواروں کو حکم دیتا اور ان سے آگے رہتا ہے، وہ کہتی ہے کہ پھر وہ لشکرپھیلنا شروع ہوگیا، اس پر ابوقحافہ نے کہا واللہ پھر تو گھڑ سوار لوگ روانہ ہوگئے ہیں، تم مجھے جلدی سے گھرلے چلو، وہ انہیں لے کرنیچے اترنے لگی لیکن قبل اس کے کہ وہ اپنے گھرتک پہنچتے لشکر وہاں تک پہنچ چکا تھا، اس بچی کی گردن میں چاندی کا ایک ہار تھا جو ایک آدمی نے اس کی گردن میں سے اتار لیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں تشریف لے گئے تو حضرت صدیق اکبر بارگاہ نبوت میں اپنے والد کو لے کر حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا آپ انہیں گھر میں ہی رہنے دیتے، میں خود ہی وہاں چلا جاتا، حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ ان کا زیادہ حق بنتا ہے کہ یہ آپ کے پاس چل کر آئیں بہ نسبت اس کے کہ آپ ان کے پاس تشریف لے جائیں پھر انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بٹھادیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیر کر انہیں قبول اسلام کی دعوت دی چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے، جس وقت حضرت ابوبکر انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تو ان کا سر ثغامہ نامی بوٹی کی طرح (سفید) ہوچکا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے بالوں کو رنگ کردو پھر حضرت صدیق اکبر کھڑے ہوئے اور اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر کہتاہوں کہ میری بہن کا ہار واپس لوٹا دو، لیکن کسی نے اس کا جواب نہ دیا، تو حضرت صدیق اکبرنے فرمایا پیاری بہن اپنے ہار پر ثواب کی امید رکھو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26956]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 26957
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَالَهُ كُلَّهُ مَعَهُ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ , قَالَتْ: وَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ , قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ، قَالَتْ: قُلْتُ كَلَّا يَا أَبَتِ، إِنَّهُ قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا , قَالَتْ: فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا، فَتَرَكْتُهَا فَوَضَعْتُهَا فِي كُوَّةِ الْبَيْتِ، كَانَ أَبِي يَضَعُ فِيهَا مَالَهُ، ثُمَّ وَضَعْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، ضَعْ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ , قَالَتْ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ، إِنْ كَانَ قَدْ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَفِي هَذَا لَكُمْ بَلَاغٌ , قَالَتْ: لَا , وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا، وَلَكِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْكِنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ" .
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ہمراہ حضرت صدیق اکبر بھی مکہ مکرمہ سے نکلے تو حضرت صدیق اکبر نے اپنا سارا مال جو پانچ چھ ہزار درہم بنتا تھا بھی ساتھ لے لیا اور روانہ ہوگئے تھوڑی دیر بعد ہمارے دادا ابوقحافہ آگئے، ان کی بینائی زائل ہوچکی تھی، وہ کہنے لگے میرا خیال ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہی اپنا سارا مال بھی لے گیا ہے، میں نے کہا ابا جان! نہیں وہ تو ہمارے لئے بہت سا مال چھوڑ گئے ہیں یہ کہہ کر میں نے کچھ پتھر لئے اور انہیں گھر کے ایک طاقچے میں جہاں میرے والد اپنا مال رکھتے تھے، رکھ دیا اور ان پر ایک کپڑا ڈھانپ لیا پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا ابا جان! اس مال پر اپنا ہاتھ رکھ کر دیکھ لیجئے! انہوں نے اس پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ اگر وہ تمہارے لئے یہ چھوڑ گیا ہے تو کوئی حرج نہیں اور اس نے بہت اچھا کیا اور تم اس سے اپنی ضروریات کی تکمیل کرسکو گے، حالانکہ والد صاحب کچھ بھی چھوڑ کر نہیں گئے تھے، میں نے اس طریقے سے صرف بزرگوں کو اطمینان دلانا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26957]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 26958
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ، غَطَّتْهُ شَيْئًا حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرُهُ، ثُمَّ تَقُولُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ" .
حضرت اسماء کے حوالے سے مروی ہے کہ جب وہ کھانا بناتی تھیں تو کچھ دیر کے لئے اسے ڈھانپ دیتی تھیں تاکہ اس کی حرارت کی شدت کم ہوجائے اور فرماتی تھیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے کھانے میں خوب برکت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26958]
الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، رواية حسن عن ابن لهيعة بعد احتراق كتبه ، لكنه توبع، وقد توبع ابن لهيعة ايضاً
حدیث نمبر: 26959
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ، غَطَّتْهُ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26959]
الحكم على الحديث:
إسناده حسن