مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1260. حَدِيثُ مُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27243
قَالَ سُفْيَانُ ، وَكَانَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرٌ ، عَنْ أَبِيهِ , فَسَأَلْتُهُ , فَقَالَ:" لَيْسَ مِنْ أَبِي سَمِعْتُهُ، وَلَكِنْ مِنْ بَعْضِ أَهْلِي ، عَنْ جَدِّي , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى مِمَّا يَلِي بَابَ بَنِي سَهْمٍ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَافِ سُتْرَةٌ" .
حضرت مطب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے اس حصے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جو بنو سہم کے دروازے کے قریب ہے، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خانہ کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہیں تھا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27243]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ورواية ابن جريج غير محفوظة
حدیث نمبر: 27244
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي كَثِيرُ ابْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حِينَ فَرَغَ مِنْ أُسْبُوعِهِ، أَتَى حَاشِيَةَ الطَّوَافِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَافِ أَحَدٌ" .
حضرت مطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ طواف کے سات چکروں سے فارغ ہوئے تو مطاف کے کنارے پر تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا کیں، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مطاف کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27244]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، ورواية ابن جريج غير محفوظة
حدیث نمبر: 27245
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ سُورَةَ النَّجْمِ، فَسَجَدَ فِيهَا، وَسَجَدَ مَنْ عِنْدَهُ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، وَأَبَيْتُ أَنْ أَسْجُدَ، وَلَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ الْمُطَّلِبُ، وَكَانَ بَعْدُ لَا يَسْمَعُ أَحَدًا قَرَأَهَا إِلَّا سَجَدَ" .
حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں سورہ نجم میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں نے بھی سجدہ کیا، لیکن میں نے سجدہ نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت تک مشرک تھا، بعد میں وہ جس سے بھی اس کی تلاوت سنتے تو سجدہ کرتے تھے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27245]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جعفر بن المطلب
حدیث نمبر: 27246
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ , عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ فِي النَّجْمِ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ، قَالَ الْمُطَّلِبُ: وَلَمْ أَسْجُدْ مَعَهُمْ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ , قَالَ الْمُطَّلِبُ: وَلَا أَدَعُ السُّجُودَ فِيهَا أَبَدًا" .
حضرت مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا اور تمام لوگوں نے بھی سجدہ کیا، لیکن میں نے سجدہ نہیں کیا کیونکہ میں اس وقت تک مشرک تھا، اس لئے اب میں کبھی اس سجدہ کو ترک نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27246]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عكرمة لم يسمع من المطلب بن وداعة
1261. حَدِيثُ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27247
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ" .
حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ذخیرہ اندوذی وہی شحص کرتا ہے جو گناہگار ہو۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27247]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1605، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة أبن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
حدیث نمبر: 27248
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَضْلَةَ الْقُرَشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ" .
حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ذخیرہ اندوذی وہی شحص کرتا ہے جو گناہگار ہو۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27248]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1605، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، وهو مدلس، لكنه توبع
حدیث نمبر: 27249
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ مَوْلَى مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ نَضْلَةَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ أَرْحَلُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَقَالَ لِي لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي:" يَا مَعْمَرُ، لَقَدْ وَجَدْتُ اللَّيْلَةَ فِي أَنْسَاعِي اضْطِرَابًا؟" , قَالَ: فَقُلْتُ: أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ شَدَدْتُهَا كَمَا كُنْتُ أَشُدُّهَا، وَلَكِنَّهُ أَرْخَاهَا مَنْ قَدْ كَانَ نَفَسَ عَلَيَّ لِمَكَانِي مِنْكَ، لِتَسْتَبْدِلَ بِي غَيْرِي، قَالَ: فَقَالَ:" أَمَا إِنِّي غَيْرُ فَاعِلٍ"، قَالَ: فَلَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ بِمِنًى، أَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَهُ، قَالَ: فَأَخَذْتُ الْمُوسَى، فَقُمْتُ عَلَى رَأْسِهِ، قَالَ: فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِي، وَقَالَ لِي:" يَا مَعْمَرُ، أَمْكَنَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَحْمَةِ أُذُنِهِ وَفِي يَدِكَ الْمُوسَى" , قَالَ: فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيَّ وَمَنِّهِ، قَالَ: فَقَالَ:" أَجَلْ إِذًا أُقِرُّ لَكَ"، قَالَ: ثُمَّ حَلَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری میں ہی تیار کرتا تھا، ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ معمر! آج رات میں نے اپنی سواری کی رسی ڈھیلی محسوس کی ہے، میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کہ ساتھ بھیجا ہے! میں نے تو اسی طرح رسی کسی تھی جیسے میں عام طور پر کستا تھا، البتہ ہو سکتا ہے کہ اس شخص نے اسے ڈھیلا کر دیا ہو جو میری جگہ آپ کے قریب تھا تاکہ آپ میری جگہ کسی اور کو لے آئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔“ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ منٰی میں قربانی کے جانور ذ بح کر چکے تو مجھے حکم دیا کہ میں ان کا حلق کروں میں استرا پکڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے قریب کھڑا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر فرمایا: ”معمر! اللہ کے پیغمبر نے اپنے کان کی لو تمہارے ہاتھ میں دی ہے اور وہ تمہارے ہاتھ میں استرا ہے“، میں عرض کیا: واللہ! یا رسول اللہ! یہ اللہ کا مجھ پر احسان ہے اور مہربانی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، میں تمہیں اس پر برقرار رکھتا ہوں۔“ پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال مونڈے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27249]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن عقبة
حدیث نمبر: 27250
حَدَّثَنَا حَسَنٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ , عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامًا لَهُ بِصَاعٍ مِنْ قَمْحٍ، فَقَالَ لَهُ: بِعْهُ , ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا، فَذَهَبَ الْغُلَامُ فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا، أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ: أَفَعَلْتَ؟ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ، وَلَا تَأْخُذْ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ , فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ"، وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ، قِيلَ: فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَهُ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ .
حضرت معمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک غلام کو ایک صاع گیہوں دے کر کہا، اسے بیچ کر جو پیسے ملیں ان سے جَو خرید لاؤ، وہ غلام گیا اور ایک صاع اور اس سے کچھ زائد لے آیا اور حضرت معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر اس کی اطلاع دی، حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: کیا تم نے واقعی ایسا کیا ہے؟ واپس لے جاؤ اور اسے لوٹا دو اور صرف برابر برابر لین دین کرو، کیونکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ طعام کو طعام کے بدلے برابر برابر بیچا جائے اور اس زمانے میں ہمارا طعام جَو تھا، کسی نے کہا کہ یہ اس کا مثل نہیں ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ اس کے مشابہ ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27250]
الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 1592، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة، وقد توبع
حدیث نمبر: 27251
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27251]
الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 1592
1262. حَدِيثُ أَبِي مَحْذُورَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27252
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَكْحُولٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَّنَهُ الْأَذَانَ تِسْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً، وَالْإِقَامَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ كَلِمَةً: " اللَّهُ أَكْبَرُ , اللَّهُ أَكْبَرُ , اللَّهُ أَكْبَرُ , اللَّهُ أَكْبَرُ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ , حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ , حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ , حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ , اللَّهُ أَكْبَرُ , اللَّهُ أَكْبَرُ , لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" , وَالْإِقَامَةُ مَثْنَى مَثْنَى , لَا يُرَجِّعُ .
حضرت ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مجھے اذان کے انیس اور اقامت کے سترہ کلمات سکھائے اور فرمایا: چار مرتبہ «الله اكبر» کہنا، دو مرتبہ «اشهدان لا اله الا الله» کہنا، دو مرتبہ «اشهد ان محمدا رسول الله» کہنا پھر دو دو مرتبہ «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» کہنا پھر دو مرتبہ «الله اكبر» کہنا اور پھر «لا اله الا الله» کہنا اور اقامت کے کلمات دو دو مرتبہ ہیں اور ان میں ترجیح نہیں ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27252]
الحكم على الحديث:
صحيح بطرقه، وهذا إسناد حسن