🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1265. حَدِيثُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ أُمِّ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27273
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَيْسَ الْكَذَّابُ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ , فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا" , وَقَالَ مَرَّةً:" وَنَمَى خَيْرًا" .
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے۔ اور اچھی چیز کی نسبت کرتا ہے۔“ یاد رہے کہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا ان مہاجر خواتین میں سے ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27273]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27274
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ , عَنْ عَمِّهِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ" .
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سورۃ اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27274]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، وقد اختلف على الزهري فى هذا الإسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27275
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ , عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ , قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْكَذِبِ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ: " الرَّجُلِ يَقُولُ الْقَوْلَ يُرِيدُ بِهِ الْإِصْلَاحَ , وَالرَّجُلِ يَقُولُ الْقَوْلَ فِي الْحَرْبِ , وَالرَّجُلِ يُحَدِّثُ امْرَأَتَهُ , وَالْمَرْأَةِ تُحَدِّثُ زَوْجَهَا" .
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے اور اچھی چیز کی نسبت کرتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے تین جگہوں کے جھوٹ بولنے کی کبھی رخصت نہیں دی، جنگ میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں، میاں بیوی کے ایک دوسرے کو خوش کرنے میں۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27275]

الحكم على الحديث:
هذا حديث لا يصح رفعه للنبي ﷺ، وإنما هو مدرج من كلام الزهري، وقد وهم عبدالوهاب فى رفعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27276
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ , عَنْ أُمِّهِ , عن أُمِّ كُلْثُومٍ , قال عبد الله: قَالَ أَبِي: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ فَذَكَرَهُ , وَقَالَ: عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ , قَالَتْ: لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ سَلَمَةَ , قَالَ لَهَا: " إِنِّي قَدْ أَهْدَيْتُ إِلَى النَّجَاشِيِّ حُلَّةً وَأَوَاقِيَّ مِنْ مِسْكٍ , وَلَا أَرَى النَّجَاشِيَّ إِلَّا قَدْ مَاتَ , وَلَا أَرَى إِلَّا هَدِيَّتِي مَرْدُودَةً عَلَيَّ , فَإِنْ رُدَّتْ عَلَيَّ , فَهِيَ لَكِ" , قَالَ: وَكَانَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرُدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتُهُ , فَأَعْطَى كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أُوقِيَّةَ مِسْكٍ , وَأَعْطَى أُمَّ سَلَمَةَ بَقِيَّةَ الْمِسْكِ وَالْحُلَّةَ .
حضرت ام کلثوم بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تو انہیں بتایا کہ میں نے نجاشی کے پاس ہدیہ کے طور پر ایک حلہ اور چند اوقیہ مشک بھیجی ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ نجاشی فوت ہو گیا ہے اور غالباً میرا بھیجا ہوا ہدیہ واپس آ جائے گا، اگر ایسا ہوا تو وہ تمہارا ہو گا، چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اور وہ ہدیہ واپس آ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ مشک اپنی تمام ازواج مطہرات میں تقسیم کر دیا اور باقی ماندہ ساری مشک اور وہ جوڑا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27276]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف مسلم بن خالد، ووالدة موسي ابن عقبة لم نقف لها على ترجمة، وقد اضطرب مسلم بن خالد فى تعيينها
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27277
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَيْسَ الْكَذَّابُ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ , فَقَالَ خَيْرًا , أَوْ نَمَى خَيْرًا" .
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے اور اچھی چیز کی نسبت کرتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27277]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2605
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27278
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ فِي ثَلَاثٍ: " فِي الْحَرْبِ , وَفِي الْإِصْلَاحِ بَيْنَ النَّاسِ , وَقَوْلِ الرَّجُلِ لِامْرَأَتِهِ .
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہوں میں جھوٹ بولنے کی رخصت دی ہے، جنگ میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں، میاں بیوی کے ایک دوسرے کو خوش کرنے میں۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27278]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعنعنة ابن جريج، وهو مدلس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27279
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ ، قَالَ وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ , قالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَيْسَ بِالْكَذَّابِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ , فَقَالَ خَيْرًا , أَوْ نَمَى خَيْرًا" , وَقَالَ مَرَّةً:" وَنَمَى خَيْرً" .
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی بات کہہ دیتا ہے۔ (اور اچھی چیز کی نسبت کرتا ہے یا اچھی بات کہتا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے تین جگہوں کے جھوٹ بولنے کی کبھی رخصت نہیں دی، جنگ میں، لوگوں کے درمیان صلح کرانے میں، میاں بیوی کے ایک دوسرے کو خوش کرنے میں، یاد رہے کہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا ان مہاجر خواتین میں سے ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔) [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27279]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1266. حَدِيثُ أُمِّ وَلَدِ شَيْبَةَ بْنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27280
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أُمِّ وَلَدِ شَيْبَةَ , أَنَّهَا أَبْصَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , يَقُولُ: " لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا" .
شیبہ بن عثمان کی ام ولدہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے جا رہے ہیں اور فرماتے جا رہے ہیں کہ مقام ابطح کو تو دوڑ کر ہی طے کیا جانا چاہیے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27280]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27281
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ , أَنَّهَا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَوْخَةٍ، وَهُوَ يَسْعَى فِي بَطْنِ الْمَسِيلِ , وَهُوَ يَقُولُ: " لَا يُقْطَعُ الْوَادِي إِلَّا شَدًّا" , وَأَظُنُّهُ قَالَ: وَقَدْ انْكَشَفَ الثَّوْبُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ قَالَ حَمَّادٌ بَعْدُ:" لَا يُقْطَعُ" , أَوْ قَالَ:" الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا"، وَسَمِعَتْهُ يَقُولُ:" لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا" .
شیبہ بن عثمان کی ام ولدہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے جا رہے ہیں اور فرماتے جا رہے ہیں کہ مقام ابطح کو تو دوڑ کر ہی طے کیا جانا چاہیے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27281]

الحكم على الحديث:
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1267. حَدِيثُ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27282
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ , وَجَدَّتِي , عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهَا كُلَّ جُمُعَةٍ , وَأَنَّهَا قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , يَوْمَ بَدْرٍ , أَتَأْذَنُ فَأَخْرُجُ مَعَكَ، أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ , وَأُدَاوِي جَرْحَاكُمْ، لَعَلَّ اللَّهَ يُهْدِي لِي شَهَادَةً؟ قَالَ: " قَرِّي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُهْدِي لَكِ شَهَادَةً"، وَكَانَتْ أَعْتَقَتْ جَارِيَةً لَهَا وَغُلَامًا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا , فَطَالَ عَلَيْهِمَا , فَغَمَّاهَا فِي الْقَطِيفَةِ حَتَّى مَاتَتْ , وَهَرَبَا , فَأَتَى عُمَرُ , فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ قَدْ قَتَلَهَا غُلَامُهَا وَجَارِيَتُهَا وَهَرَبَا , فَقَامَ عُمَرُ فِي النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ وَرَقَةَ , يَقُولُ:" انْطَلِقُوا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ" , وَإِنَّ فُلَانَةَ جَارِيَتَهَا وَفُلَانًا غُلَامَهَا، غَمَّاهَا , ثُمَّ هَرَبَا , فَلَا يُؤْوِيهِمَا أَحَدٌ , وَمَنْ وَجَدَهُمَا , فَلْيَأْتِ بِهِمَا , فَأُتِيَ بِهِمَا , فَصُلِبَا , فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبَيْنِ .
حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے حوالہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ کے دن ان سے ملاقات کے لئے تشریف لے جاتے تھے، انہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر عرض کیا تھا کہ اے اللہ کے نبی! کیا مجھے اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیتے ہیں، میں آپ کے مریضوں کی تیمارداری کروں گی اور زخمیوں کا علاج کروں گی، شاید اللہ مجھے شہادت سے سرفراز کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہیں رہو، اللہ تمہیں شہادت عطاء فرما دے گا۔ ام ورقہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک باندی اور غلام سے کہہ دیا تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو جاؤ گے، ان دونوں کو گزرتے دنوں کے ساتھ، ان کی عمر لمبی لگنے لگی چنانچہ ان دونون نے انہیں ایک چادر میں لپیٹ دیا جس میں دم گھٹ جانے سے وہ فوت ہو گئیں اور وہ دونوں فرار ہو گئے، کسی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آ کر بتایا کہ ام ورقہ کو ان کے غلام اور باندی قتل کر کے بھاگ گئے ہیں، یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کے لئے جایا کرتے تھے اور فرماتے تھے آؤ، شہیدہ کی زیارت کر کے آئیں، اب انہیں ان کی فلاں باندی اور فلاں غلام نے چادر میں لپیٹ کر مار دیا ہے اور خود فرار ہو گے ہیں، کوئی شخص بھی انہیں پناہ نہ دے، بلکہ جسے وہ دونوں ملیں، انہیں پکڑ کر لے آئے، چنانچہ ایک آدمی نے ان دونوں کو پکڑ لیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا، یہ دونوں سولی کی سزا پانے والے پہلے لوگ تھے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27282]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن خلاد وجدة الوليد ابن عبدالله، وقد اضطرب فيه الوليد بن عبدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں