مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1252. حَدِيثُ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27203
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ , أَنَّهُ نَادَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , إِنَّ حَمْدِي زَيْنٌ , وَإِنَّ ذَمِّي شَيْنٌ، فَقَالَ: " ذَاكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" ، كَمَا حَدَّثَ أَبُو سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجروں سے باہر سے پکار کر آواز دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہ دیا، انہوں نے پھر یا رسول اللہ کہہ کر آواز لگائی اور کہا کہ میری تعریف باعث زینت اور میری مذمت باعث عیب و شرمندگی ہوتی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کام تو صرف اللہ کا ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27203]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو سلمة بن عبدالرحمن لم يسمع من الأقرع بن حابس
حدیث نمبر: 27204
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عنْ الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ الْأَقْرَعَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27204]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو سلمة بن عبدالرحمن لم يسمع من الأقرع بن حابس
1253. حَدِيثُ ابْنِ صُرَدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27205
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ , سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا يَتَقَاوَلَانِ، وَأَحَدُهُمَا قَدْ غَضِبَ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، وَهُوَ يَقُولُ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا، ذَهَبَ عَنْهُ الشَّيْطَانُ"، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ"، قَالَ: هَلْ تَرَى بَأْسًا؟! قَالَ: مَا زَادَهُ عَلَى ذَلِكَ .
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی اور ان میں سے ایک آدمی کو اتنا غصہ آیا کہ اب تک خیالی تصورات میں، میں اس کی ناک کو دیکھ رہا ہوں جو غصے کی وجہ سے سرخ ہو چکی تھی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی یہ کیفیت دیکھ کر فرمایا: ”میں ایک ایسا کلمہ جانتاہوں جو اگر یہ غصے میں مبتلا آدمی کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہو جائے اور وہ کلمہ یہ ہے «اعوذ بالله من الشيطن الرجيم.» “۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27205]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3282، م: 2610
حدیث نمبر: 27206
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ: " الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَا" .
حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دن (واپسی پر) ارشاد فرمایا: ”اب ہم ان پر پیش قدمی کر کے جہاد کریں گے اور یہ ہمارے خلاف اب کبھی پیش قدمی نہیں کر سکیں گے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27206]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27207
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو لَيْلَى ، عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ الْهَمْدَانِيِّ ، قَالَ: قَالَ رِفَاعَةُ الْبَجَلِيُّ : دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَصْرَهُ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا قَامَ جِبْرِيلُ إِلَّا مِنْ عِنْدِي قَبْلُ، قَالَ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ: " إِذَا أَمَّنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ، فَلَا تَقْتُلْهُ" ، قَالَ: وَكَانَ قَدْ أَمَّنَنِي عَلَى دَمِهِ، فَكَرِهْتُ دَمَهُ.
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مختار کے پاس گیا، اس نے میرے لئے تکیہ رکھا اور کہنے لگا کہ اگر میرے بھائی جبرائیل علیہ السلام اس سے نہ اٹھے ہوتے تو میں یہ تکیہ تمہارے لئے رکھتا میں اس وقت مختار کے سرہانے کھڑا تھا، جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہو گیا تو واللہ میں نے اس بات کا ارادہ کر لیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی جو مجھ سے حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دے دے تو اسے قتل نہ کرے، اس لئے میں نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27207]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن ميسرة ، ولجهالة أبى عكاشة
1254. مِنْ حَدِيثِ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حدیث نمبر: 27208
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , قَالَا: حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي" .
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے خواب میں میری زیارت کی اس نے مجھ ہی کو دیکھا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27208]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خلف بن خليفة مختلط، ولم يتحرر لنا سماع حسين بن محمد منه أكان قبل الاختلاط أم بعده
حدیث نمبر: 27209
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ أَبِي قَدْ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً , وَأَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ , وَعُثْمَانَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: لَا، أَيْ بُنَيَّ، مُحْدَثٌ" .
ابومالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (حضرت طارق رضی اللہ عنہ) سے پوچھا کہ ابا جان! آپ نے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، حضرت ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم اور یہاں کوفہ میں تقریباً پانچ سال تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے، کیا یہ حضرات قنوت پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”بیٹا! یہ نو ایجاد چیز ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27209]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، خلف بن خليفة مختلط، ولم يتحرر لنا سماع حسين بن محمد منه أكان قبل الاختلاط أم بعده
حدیث نمبر: 27210
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ ، قَالَ: " كَانَ أَبِي قَدْ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً وَأَبِي بَكْرٍ , وَعُمَرَ , وَعُثْمَانَ , فقلت له: أكانوا يقنتون؟ قَالَ: لَا، أَيْ بُنَيَّ، مُحْدَثٌ" .
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27211
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ يَسْأَلُهُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي، قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقنِي"، وَقَبَضَ كَفَّهُ إِلَّا الْإِبْهَامَ، وَقَالَ:" هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ خَيْرَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتِك" .
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی شخص آ کر عرض کرتا کہ یا رسول اللہ! جب میں اپنے پروردگار سے دعا کروں تو کیا کہا کروں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے یہ کہا کرو: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقنِي» ”اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما، اور مجھے رزق عطاء فرما“، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے کو نکال کر باقی چار انگلیوں کو بند کر کے فرمایا: ”یہ چیزیں دنیا و آخرت دونوں کے لئے جامع ہیں۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27211]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 27212
وَقَالَ: وَقَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لِلْقَوْمِ: " مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِهِ، حُرِّمَ مَالُهُ وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی قوم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے اور دیگر معبودان باطلہ کا انکار کرتا ہے، اس کی جان، مال محفوظ اور قابل احترام ہو جاتے ہیں اور اس کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہو گا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27212]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 23