🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1325. مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27613
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْرَأُ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا وَلا يُبَالِي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ «إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا وَلا يُبَالِي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27613]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27614
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالَتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَنَا:" أَتُعْطِيَانِ زَكَاتَهُ؟"، قَالَتْ: فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: " أَمَا تَخَافَانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ أَسْوِرَةً مِنْ نَارٍ؟ أَدِّيَا زَكَاتَهُ" .
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئی، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میرے ان دو کنگنوں کے اوپر پڑی جو میں نے پہنے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟“ ہم نے عرض کیا: نہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے، اس کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27614]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف على بن عاصم، وشهر بن حوشب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1326. حَدِيثُ أُمِّ سَلْمَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27615
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بن علي بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِ سَلْمَى، قَالَتْ: " اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ شَكْوَاهَا الَّتِي قُبِضَتْ فِيهِ، فَكُنْتُ أُمَرِّضُهَا، فَأَصْبَحَتْ يَوْمًا كَأَمْثَلِ مَا رَأَيْتُهَا فِي شَكْوَاهَا تِلْكَ، قَالَتْ: وَخَرَجَ عَلِيٌّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّهْ، اسْكُبِي لِي غُسْلًا، فَسَكَبْتُ لَهَا غُسْلًا، فَاغْتَسَلَتْ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهَا تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أُمَّهْ، أَعْطِينِي ثِيَابِيَ الْجُدُدَ، فَأَعْطَيْتُهَا، فَلَبِسَتْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أُمَّهْ، قَدِّمِي لِي فِرَاشِي وَسَطَ الْبَيْتِ، فَفَعَلْتُ، وَاضْطَجَعَتْ , وَاسْتَقْبَلَتْ الْقِبْلَةَ، وَجَعَلَتْ يَدَهَا تَحْتَ خَدِّهَا، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أُمَّهْ، إِنِّي مَقْبُوضَةٌ الْآنَ، إِنِّي مَقْبُوضَةٌ الْآنَ، وَقَدْ تَطَهَّرْتُ، فَلَا يَكْشِفُنِي أَحَدٌ، فَقُبِضَتْ مَكَانَهَا، قَالَتْ: فَجَاءَ عَلِيٌّ، فَأَخْبَرْتُهُ" .
حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا مرض الوفات میں مبتلا ہوئیں تو میں ان کی تیمارداری کرتی تھی، ایک دن میں ان کے پاس پہنچی تو میں نے انہیں ایسی بہتریں حالت میں پایا جو میں نے بیماری کے ایام میں نہیں دیکھی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت کسی کام سے باہر نکلے ہوئے تھے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا: اماں جان! میرے لئے غسل کا پانی رکھ دو، میں نے ان کے لئے غسل کا پانی رکھا، انہوں نے اتنے عمدہ طریقے سے غسل کیا کہ اس سے پہلے بیماری کے ایام میں میں نے انہیں اس طرح غسل کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، پھر وہ کہنے لگیں کہ اماں جان! مجھے میرے نئے کپڑے دے دو، میں نے انہیں وہ کپڑے دے دئیے، انہوں نے وہ کپڑے زیب تن کئے اور فرمایا: اماں جان! میرا بستر گھر کے درمیان میں کر دو، میں نے ایسا ہی کیا اور وہ وہاں آکر قبلہ رخ لیٹ گئیں اور اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھ کر فرمایا: اماں جان! اب میری روح قبض ہونے والی ہے، میں غسل کر چکی ہوں لہٰذا اب کوئی میرے جسم سے کپڑے نہ اتارے، چنانچہ اسی جگہ ان کی روح قبض ہو گئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے انہیں بتا دیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27615]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، ولضعف عبيدالله بن على بن أبى رافع، وفي متنه نكارة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27616
قَالَ عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَكَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27616]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1327. حَدِيثُ سَلْمَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27617
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْمَوَالِي ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى , خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ أَحَدًا قَطُّ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا فِي رَأْسِهِ إِلَّا قَالَ: " احْتَجِمْ"، وَلَا وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ , إِلَّا قَالَ:" اخْضِبْهُمَا بِالْحِنَّاءِ" .
حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا (جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں) سے مروی ہے کہ میں نے جب بھی کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سر درد کی شکایت کرتے ہوئے سنا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہی فرمایا کہ سینگی لگواؤ اور جب بھی کسی نے پاؤں میں درد کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ان پر مہندی لگاؤ۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27617]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد اختلف فى إسناده على عبدالرحمن بن أبى الموالي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27618
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، حَدَّثَنَا فَائِدٌ مَوْلَى ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى ، قَالَتْ: مَا اشْتَكَى أَحَدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا فِي رَأْسِهِ إِلَّا قَالَ: " احْتَجِمْ"، وَلَا اشْتَكَى إِلَيْهِ أَحَدٌ وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ , إِلَّا قَالَ:" اخْضِبْ رِجْلَيْكَ" .
حضرت سلمیٰ رضی اللہ عنہا (جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں) سے مروی ہے کہ میں نے جب بھی کسی کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سر درد کی شکایت کرتے ہوئے سنا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے یہی فرمایا کہ سینگی لگواؤ اور جب بھی کسی نے پاؤں میں درد کی شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ان پر مہندی لگاؤ۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27618]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد اختلف فى إسناده على عبدالرحمن بن أبى الموالي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1328. حَدِيثُ أُمِّ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27619
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ" .
حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی مارنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27619]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، خ: 3307، م: 2237
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27620
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ فِي الْجِبَالِ"، قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ قَلِيلٌ" .
حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب لوگ دجال سے بھاگ کر پہاڑوں میں چلے جائیں گے، حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس دن عرب کے لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بہت تھوڑے ہوں گے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27620]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح، م: 2945
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27621
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ : " أَنَّهَا كَانَتْ مِمَّنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مروی ہے کہ وہ ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہبہ کر دیا تھا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27621]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1329. حَدِيثُ أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27622
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَخْبَرَهُ أَبُوهُ ، قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أُمِّ أَيُّوبَ الَّذِينَ نَزَلَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَزَلْتُ عَلَيْهَا، فَحَدَّثَتْنِي بِهَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُمْ تَكَلَّفُوا طَعَامًا فِيهِ بَعْضُ هَذِهِ الْبُقُولِ، فَقَرَّبُوهُ، فَكَرِهَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: " كُلُوا، إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي" , يَعْنِي: الْمَلَكَ.
حضرت ام ایوب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے کھانا آیا جس میں لہسن تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرما دیا تم اسے کھالو، میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں اپنے ساتھی یعنی فرشتے کو ایذاء پہنچانا اچھا نہیں سمجھتا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27622]

الحكم على الحديث:
حديث حسن فى الشواهد، أبو يزيد والد عبيدالله مجهول الحال
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں