مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1325. مِنْ حَدِيثِ أَسْمَاءَ ابْنَةِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
حدیث نمبر: 27573
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: قال ابْنُ جُرَيْجٍ : " إِنَّ مَعْمَرًا شَرِبَ مِنَ الْعِلْمِ بِأَنقَعَ"، قال عبد الله: قَالَ أَبِي: وَمَاتَ مَعْمَرٌ وَلَهُ ثَمَانٍ وَخَمْسُونَ سَنَةً .
عبدالرزاق رحمہ اللہ ابن جریج کا قول نقل کرتے ہیں کہ معمر نے علم کی خالص شراب پی رکھی ہے، امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا: معمر اٹھاون سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27573]
الحكم على الحديث:
خبر صحيح، وهذا اسناد منقطع، عبدالرزاق لم يسمعه من ابن جريج
حدیث نمبر: 27574
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ مَعْقُودٌ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ رَبَطَهَا عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَنْفَقَ عَلَيْهَا احْتِسَابًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ شِبَعَهَا وَجُوعَهَا , وَرِيَّهَا , وَظَمَأَهَا , وَأَرْوَاثَهَا , وَأَبْوَالَهَا , فَلَاحٌ فِي مَوَازِينِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَبَطَهَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، وَفَرَحًا وَمَرَحًا، فَإِنَّ شِبَعَهَا وَجُوعَهَا، وَرِيَّهَا وَظَمَأَهَا، وَأَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا خُسْرَانٌ فِي مَوَازِينِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر باندھ دی گئی ہے، سو جو شخص ان گھوڑوں کو اللہ کی راہ میں ساز و سامان کے طور پر باندھتا ہے اور ثواب کی نیت سے ان پر خرچ کرتا ہے تو ان کا سیر ہونا اور بھوکا رہنا، سیراب ہونا اور پیاسا رہنا اور ان کا بول و براز تک قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں کامیابی کا سبب ہوگا اور جو شخص ان گھوڑوں کو نمود و نمائش اور اتراہٹ اور تکبر کے اظہار کے لئے باندھتا ہے تو ان کا پیٹ بھرنا“ اور بھوکا رہنا، سیر ہونا اور پیاسا رہنا اور ان کو بول و براز قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں خسارے کا سبب ہو گا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27574]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27575
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: " إِنِّي لَآخِذَةٌ بِزِمَامِ الْعَضْبَاءِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْمَائِدَةُ كُلُّهَا، فَكَادَتْ مِنْ ثِقَلِهَا تَدُقُّ بِعَضُدِ النَّاقَةِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ مائدہ مکمل نازل ہوئی تو ان کی اونٹنی ”عضباء“ کی لگام میں نے پکڑی ہوئی تھی اور وحی کے بوجھ سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اونٹنی کا بازو ٹوٹ جائے گا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27575]
الحكم على الحديث:
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27576
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: ثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ، فَدَارَ عَلَى الْقَوْمِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ صَائِمٌ، فَلَمَّا بَلَغَهُ، قَالَ لَهُ:" اشْرَبْ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ يُفْطِرُ , وَيَصُومُ الدَّهْرَ، فَقَالَ: يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بھی عنایت فرمایا گھومتے گھومتے وہ برتن ایک آدمی تک پہنچا جو روزے سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی پینے کے لئے فرمایا، کسی نے بتایا یا رسول اللہ! یہ کبھی روزہ نہیں چھوڑتا، ہمیشہ روزہ رکھتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کا کوئی روزہ نہیں ہوتا جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27576]
الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر بن حوشب
حدیث نمبر: 27577
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصَةً مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: ثَنَا مَحْمُودُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ:" وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا , جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت سونے کا ہار پہنتی ہے، قیامت کے دن اس کے گلے میں ویسا ہی آگ کا ہار پہنایا جائے گا اور جو عورت اپنے کانوں میں سونے کی بالیاں پہنتی ہے، اس کے کانوں میں قیامت کے دن ویسی ہی آگ کی بالیاں ڈالی جائیں گی۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27577]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة محمود بن عمرو، وقد تفرد به
حدیث نمبر: 27578
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ السَّرَّاجُ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ , يُحَدِّثُ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْضُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النِّسَاءِ، فَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً عَلَيْهَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا: " أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟!"، قَالَتْ: فَأَخْرَجَتْهُ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَهِيَ نَزَعَتْهُ، أَمْ أَنَا نَزَعْتُهُ؟ .
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے حاضر ہوئی، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میرے ان دو کنگنوں کے اوپر پڑی جو میں نے پہنے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسماء! یہ دونوں کنگن اتار دو، کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے، چنانچہ میں نے انہیں اتار دیا اور مجھے یاد نہیں کہ انہیں کس نے لے لیا تھا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27578]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب، وجهالة حفص السراج
حدیث نمبر: 27579
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ، سَنَةٌ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا، وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ، وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ، فَلَا يَبْقَى ذَاتُ ضِرْسٍ، وَلَا ذَاتُ ظِلْفٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَتْ، وَإِنَّ أَشَدَّ فِتْنَتِهِ: أَنْ يَأْتِيَ الْأَعْرَابِيَّ، فَيَقُولَ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟"، قَالَ: فَيَقُولُ:" بَلَى، فَتَمَثَّلَ الشَّيَاطِينُ لَهُ نَحْوَ إِبِلِهِ، كَأَحْسَنِ مَا تَكُونُ ضُرُوعُهَا، وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً"، قَالَ:" وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ، فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ، وَأَحْيَيْتُ لَكَ أَخَاكَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟، فَيَقُولُ: بَلَى، فَتَمَثَّلَ لَهُ الشَّيَاطِينُ نَحْوَ أَبِيهِ، وَنَحْوَ أَخِيهِ"، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ، قَالَتْ: وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ بِهِ، قَالَتْ: فَأَخَذَ بِلُجْمَتَيِ الْبَابِ، وَقَالَ:" مَهْيَمْ أَسْمَاءُ؟"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ، قَالَ:" وَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ، فَأَنَا حَجِيجُهُ، وَإِلَّا فَإِنَّ رَبِّي خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ"، قَالَتْ أَسْمَاءُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا وَاللَّهِ لَنَعْجِنُ عَجِينَتَنَا، فَمَا نَخْتَبِزُهَا حَتَّى نَجُوعَ، فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ:" يَجْزِيهِمْ مَا يَجْزِي أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خروج دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی بارش اور زمین ایک تہائی نباتات روک لے گی، دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش اور زمین دو تہائی پیداوار روک لے گی اور تیسرے سال آسمان اپنی مکمل بارش اور زمین اپنی مکمل پیداوار روک لے گی اور ہر موزے اور کھر والا ذی حیات ہلاک ہو جائے گا، اس موقع پر دجال ایک دیہاتی سے کہے گا، یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کر دوں ان کے تھن بھرے اور بڑے ہوں اور ان کے کوہان عظیم ہوں تو کیا تم مجھے اپنا رب یقین کر لو گے؟ وہ کہے گا، ہاں! چنانچہ شیاطین اس کے سامنے اونٹوں کی شکل میں آئیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا۔ اسی طری دجال ایک اور آدمی سے کہے گا، یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے باپ، تمہارے بیٹے اور تمہارے اہل خانہ میں سے ان تمام لوگوں کو جنہیں تم پہچانتے ہو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں ہی تمہارا رب ہوں، وہ کہے گا ہاں! چنانچہ اس کے سامنے شیاطین ان صورتوں میں آ جائیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور اہل خانہ رونے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے، ہم اس وقت رو رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کیوں رو رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کا جو ذکر کیا ہے، واللہ! میرے گھر میں جو باندی ہے، وہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ہے، ابھی وہ اسے گوندھ کر فارغ نہیں ہونے پاتی کہ میرا کلیجہ بھوک کے مارے پارہ پارہ ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے تو اس دن ہم کیا کریں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دن مسلمانوں کے لئے کھانے پینے کے بجائے تکبیر اور تسبیح و تحمید ہی کافی ہو گی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت روؤ، اگر میری موجودگی میں دجال نکل آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر میرے بعد اس کا خروج ہوا تو ہر مسلمان پر اللہ میرا نائب ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27579]
الحكم على الحديث:
هذا إسناده ضعيف لضعف شهر ابن حوشب، وقوله: "ان يخرج الدجال وانا حيي، فانا حجيجه" صحيح لغيره
حدیث نمبر: 27580
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: ثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ مَجْلِسًا مَرَّةً يُحَدِّثُهُمْ، عَنْ أَعْوَرِ الدَّجَّالِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ"، وَكَانَتْ كَلِمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، يَقُولُ:" مَهْيَمْ"، وَزَادَ فِيهِ:" فَمَنْ حَضَرَ مَجْلِسِي وَسَمِعَ قَوْلِي، فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ صَحِيحٌ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَأَنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ".
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی موجود ہے کہ جو شخص میری مجلس میں حاضر ہو اور میری باتیں سنے، تو تم میں سے حاضرین کو غائبین تک یہ باتیں پہنچا دینی چاہئیں اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ صحیح سالم ہیں، وہ کانے نہیں ہیں، جبکہ دجال ایک آنکھ سے کانا ہو گا اور ایک آنکھ پونچھ دی گئی ہو گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا، جسے مومن ”خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہیں“ پڑھ لے گا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27580]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، و بعضه صحيح لغيره
حدیث نمبر: 27581
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهَا: أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا يَرْفَأُ دَمْعُكِ , وَيَذْهَبُ حُزْنُكِ؟، فَإِنَّ ابْنَكِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللَّهُ لَهُ، وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی والدہ رونے چلانے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے آنسو تھم کیوں نہیں رہے اور تمہارا غم دور کیوں نہیں ہو رہا جبکہ تمہارا بیٹا وہ پہلا آدمی ہے جسے دیکھ کر اللہ کو ہنسی آئی ہے اور اس کا عرش ہل رہا ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27581]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة إسحاق بن راشد
حدیث نمبر: 27582
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْعَجْلَانِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعَقِيقَةُ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" .
حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27582]
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن ثبت سماع مجاهد من أسماء بنت يزيد