🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1329. حَدِيثُ أُمِّ أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27623
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِى ابْنَ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، أَيَّهَا قَرَأْتَ أَجْزَأَكَ" .
حضرت ام ایوب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قرآن کریم سات حرفوں پر نازل ہوا ہے تم جس حرف پر بھی تلاوت کرو گے، وہ تمہاری طرف سے کفایت کر جائے گا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27623]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وإسناده ضعيف من أجل أبى يزيد والد عبيد الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1330. حَدِيثُ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27624
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ , قَالَا: حدثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا، قَالَ: " لَا خَيْرَ فِيهِ نَعْلَانِ أُجَاهِدُ بِهِمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا" .
حضرت میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا (جو نبی کی آزاد کردہ باندی تھیں) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ”ناجائز بچے“ کے متعلق پوچھا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں کوئی خیر نہیں ہوتی، میرے نزدیک وہ دو جوتیاں جنہیں پہن کر میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں، کسی ولد الزنا کو آزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27624]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الضبي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27625
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ، قَالَ:" قَدْ أَفْطَرَ" .
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو بوسہ دے دے اور وہ دونوں روزے سے ہوں تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا روزہ ٹوٹ گیا۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27625]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الضبي، وقد ثبت أنه ﷺ كان يقبل وهو صائم، انظر: 25613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27626
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حدثَنَا عِيسَى ، قَالَ: ثَنَا ثَوْرٌ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَخِيهِ ، أَنَّ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَقَالَ: " أَرْضُ الْمَنْشَرِ وَالْمَحْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، فَإِنَّ صَلَاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ"، قَالَتْ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَمْ يُطِقْ أَنْ يَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ، أَوْ يَأْتِيَهُ؟ قَالَ:" فَلْيُهْدِ إِلَيْهِ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَإِنَّ مَنْ أَهْدَى لَهُ، كَانَ كَمَنْ صَلَّى فِيهِ" .
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہمیں بیت المقدس کے متعلق کچھ بتائیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اٹھائے جانے اور جمع کیے جانے کا علاقہ ہے، تم وہاں جا کر اس میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ بیت المقدس میں ایک نماز پڑھنا دوسری جگہوں پر ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے“، انہوں نے عرض کیا کہ بتایئے کہ اگر کسی آدمی میں وہاں جانے کی طاقت نہ ہو، وہ کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چاہیے کہ زیتون کا تیل بھیج دے جو وہاں چراغوں میں جلایا جائے، کیونکہ اس کی طرف ہدیہ بھیجنے والا ایسے ہی ہے جیسے اس نے اس میں نماز پڑھی ہو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27626]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وهذا من منكرات زياد بن أبى سودة، وقد اختلف فيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27627
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْهَرَوِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27627]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف، وانظر ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1331. حَدِيثُ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27628
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حدثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ ، عَنِ ابْنَةِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ: " مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، قَالَتْ: وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا" .
حضرت ام ہشام رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہمارا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تنور ایک ہی تھا، میں نے سورۃ ق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ہی یاد کی، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ منبر پر پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27628]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح، م: 873
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27629
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ ، قَالَ: ذَكَرَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ ، قَالَتْ: " مَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ" .
حضرت ام ہشام رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے سورۃ ق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ہی یاد کی، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز فجر میں پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27629]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف بهذه السياقة ، عبدالرحمن بن أبى الرجال صدوق ربما أخطأ، وقد خالف هنا الراوة عن يحيى بن سعيد الأنصاري فى متن الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1332. حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27630
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حدثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَانْظُرِي إِذَا أَتَى قُرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي، فَإِذَا مَرَّ الْقُرْءُ فَتَطَهَّرِي، ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقُرْءِ إِلَى الْقُرْءِ" .
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور دم حیض کے مستقل جاری رہنے کی شکایت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ تو ایک رگ کا خون ہے اس لئے یہ دیکھ لیا کرو کہ جب تمہارے ایام حیض کا وقت آ جائے تو نماز نہ پڑھا کرو اور جب وہ زمانہ گزر جائے تو اپنے آپ کو پاک سمجھ کر طہارت حاصل کیا کرو اور اگلے ایام تک نماز پڑھتی رہا کرو۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27630]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة المنذر بن المغيرة، وقد اختلف فيه على عروة بن الزبير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27631
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالَ: حدثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ ، قَالَتْ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَكُونَ لِي حَظٌّ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، أَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ يَوْمِ أُسْتَحَاضُ، فَلَا أُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً، قَالَتْ: اجْلِسِي حَتَّى يَجِيءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ تَخْشَى أَنْ لَا يَكُونَ لَهَا حَظٌّ فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنْ تَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، تَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ يَوْمِ تُسْتَحَاضُ، فَلَا تُصَلِّي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً، فَقَالَ: " مُرِي فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، فَلْتُمْسِكْ كُلَّ شَهْرٍ عَدَدَ أَيَّامِ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ، وَتَحْتَشِي، وَتَسْتَثْفِرُ، وَتَنَظَّفُ، ثُمَّ تَطَهَّرُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَتُصَلِّي، فَإِنَّمَا ذَلِكَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ، أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا" .
حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے کہا کہ اے ام المومنین! مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسلام میں میرا کوئی حصہ نہ رہے اور میں اہل جہنم یں سے ہو جاؤں، میں ”جب تک اللہ چاہتا ہے“، ایام سے رہتی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی نماز نہیں پڑھ پاتی، انہوں نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے، تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ فاطمہ بنت ابی حبیش ہیں، انہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسلام میں ان کا کوئی حصہ نہیں رہے گا اور یہ اہل جہنم میں سے ہو جائیں گی، کیونکہ یہ اتنے دن تک ایام سے رہتی ہیں جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے اور یہ اللہ کے لئے کوئی نماز نہیں پڑھ پاتیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم فاطمہ بنت ابی حبیش سے کہہ دو کہ ہر مہینے میں (ایام حیض) کے شمار کے مطابق رکی رہا کرے، پھر غسل کر کے اپنے جسم پر اچھی طرح کپڑا لپیٹ لیا کرے اور ہر نماز کے وقت طہارت حاصل کر کے نماز پڑھ لیا کرے، یہ شیطان کا ایک کچوکا ہے یا ایک رگ ہے جو کٹ گئی ہے یا ایک بیماری ہے جو انہیں لاحق ہو گئی ہے۔“ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27631]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عثمان بن سعد، ثم إنه قد اختلف فى إسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1333. حَدِيثُ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27632
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حدثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْخُزَاعِيَّةِ ، قَالَتْ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُلَامٍ، فَبَالَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بِهِ، فَنُضِحَ , وَأُتِيَ بِجَارِيَةٍ، فَبَالَتْ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ بِهِ فَغُسِلَ .
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھوٹے بچے کو لایا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاپ کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس جگہ پر پانی کے چھینٹے مار دیئے گئے، پھر ایک بچی کو لایا گیا، اس نے پیشاپ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھونے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27632]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عمرو ابن شعيب لم يسمع من أم كرز
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں