🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند احمد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (27647)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1249. حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27193
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ مَنْبُوذٍ رَجُلٍ مِنْ آلِ أَبِي رَافِعٍ، أَخْبَرَنِي الْفَضْلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، فَذَكَرَهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَكَبُرَ ذَلِكَ فِي ذَرْعِي، وَقَالَ: قُلْتُ: أَحْدَثْتُ حَدَثًا؟ قَالَ:" وَمَا ذَاكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: أَفَّفْتَ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27193]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة حال منبوذ، وفي سماع الفضل بن عبيد الله بن أبى رافع من جده نظر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27194
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ بِالصَّلَاةِ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے کان میں اذان دی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27194]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27195
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُهْدِيَتْ لَهُ شَاةٌ، فَجَعَلَهَا فِي الْقِدْرِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا أَبَا رَافِعٍ؟" , فَقَالَ: شَاةٌ أُهْدِيَتْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَطَبَخْتُهَا فِي الْقِدْرِ، فَقَالَ:" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ يَا أَبَا رَافِعٍ"، فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ، ثُمَّ قَالَ:" نَاوِلنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ" , فَنَاوَلْتُهُ الذِّرَاعَ الْآخَرَ، ثُمَّ قَالَ:" نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ الْآخَرَ" , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا لِلشَّاةِ ذِرَاعَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَكَتَّ، لَنَاوَلْتَنِي ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَا سَكَتَّ"، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ، وَغَسَلَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ، فَوَجَدَ عِنْدَهُمْ لَحْمًا بَارِدًا، فَأَكَلَ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَصَلَّى، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک ہنڈیا میں گوشت پکایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی دستی نکال کر دو، چنانچہ میں نے نکال دی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری دستی طلب فرمائی، میں نے وہ بھی دے دی، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دستی طلب فرمائی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ایک بکری کی کتنی دستیاں ہوتی ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم خاموش رہتے تو اس ہنڈیا سے اس وقت تک دستیاں نکلتی رہتیں جب تک میں تم سے مانگتا رہتا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر کلی کی، انگلیوں کے پورے دھوئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے پھر دوبارہ ان کے پاس آئے تو کچھ ٹھنڈا گوشت پڑا ہوا پایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی تناول فرمایا اور مسجد میں داخل ہو کر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھ لی۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27195]

حکم دارالسلام: حسن لغيره فى قصة مناولة الذراع، وهذا إسناد ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد، وأبو جعفر الرازي مختلف فيه، وقد اختلف عنه فى هذا الإسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27196
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، قَال: فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ لَمَّا وُلِدَ , أَرَادَتْ أُمُّهُ فَاطِمَةُ أَنْ تَعُقَّ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ، فَقَالَ: " لَا تَعُقِّي عَنْهُ، وَلَكِنْ احْلِقِي شَعْرَ رَأْسِهِ، ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، ثُمَّ وُلِدَ حُسَيْنٌ بَعْدَ ذَلِكَ، فَصَنَعَتْ مِثْلَ ذَلِكَ" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو ان کی والدہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دو مینڈھوں سے ان کا عقیقہ کرنا چاہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی اس کا عقیقہ نہ کرو بلکہ اس کے سر کے بال منڈوا کر اس کے وزن کے برابر چاندی اللہ کے راستے میں صدقہ کر دو، پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی پیدائش پر بھی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا (اور عقیقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا)۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27196]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن محمد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27197
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَيُونُسُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا، وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی غیر محرم ہونے کی صورت میں کیا تھا اور ان کے ساتھ تخلیہ بھی غیر محرم ہونے کی حالت میں کیا تھا اور میں ان دونوں کے درمیان قاصد تھا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27197]

حکم دارالسلام: حديث حسن، وقد اختلف على ربيعة بن أبى عبد الرحمن فى وصله وإرساله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27198
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ مَوْلَى بَنِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ عَائِشَةَ أَمْرٌ"، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَ: أَنَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَأَنَا أَشْقَاهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ، فَارْدُدْهَا إِلَى مَأْمَنِهَا" .
حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرما دیا تھا کہ تمہارے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان کچھ شکر نجی ہو جائے گی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ایسا کروں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر تو میں سب سے زیادہ شقی ہوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، البتہ جب ایسا ہو جائے تو تم انہیں ان کی پناہ گاہ میں واپس پہنچا دینا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27198]

حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وهذا من منكرات الفضيل بن سليمان، وقد اضطرب فى إسناده، وأبو أسماء انفرد به
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1250. حَدِيثُ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27199
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ ، عن عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ الْحَكَمِ الْغِفَارِيِّ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ عُدَيْسَةَ ، عَنْ أَبِيهَا : جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: أَثَمَّ أَبُو مُسْلِمٍ؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: يَا أَبَا مُسْلِمٍ، مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْخُذَ نَصِيبَكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ، وَتُخِفْ فِيهِ؟ قَالَ:" يَمْنَعُنِي مِنْ ذَلِكَ عَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيَّ خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكَ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ إِذَا كَانَتْ الْفِتْنَةُ أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ، وَقَدْ اتَّخَذْتُهُ، وَهُوَ ذَاكَ مُعَلَّقٌ" .
عدیسہ بنت وھبان کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے گھر بھی آئے اور گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا، والد صاحب نے انہیں جواب دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابومسلم! آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: خیریت سے ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نکل کر میری مدد کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا کہ میرے خلیل اور آپ کے چچازاد بھائی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ جب مسلمانوں میں فتنے رونما ہونے لگیں تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں، یہ میری تلوار حاضر ہے، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلنے کو تیار ہوں اور وہ یہ لٹکی ہوئی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27199]

حکم دارالسلام: حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبد الكبير بن الحكم، وقد توبع ، ولجهالة حال عديسة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27200
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عَمْرٍو ، عَنْ ابْنَةٍ لِأُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِيهَا وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ , أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا قَدِمَ الْبَصْرَةَ بَعَثَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَتْبَعَنِي، فَقَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي وَابْنُ عَمِّكَ، فَقَالَ: " إِنَّهُ سَيَكُونُ فُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ , فَاكْسِرْ سَيْفَكَ، وَاتَّخِذْ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ، وَاقْعُدْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ , أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ"، فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ اسْتَطَعْتَ يَا عَلِيُّ أَنْ لَا تَكُونَ تِلْكَ الْيَدَ الْخَاطِئَةَ، فَافْعَلْ .
عدیسہ بنت وھبان کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے گھر بھی آئے اور گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر سلام کیا، والد صاحب نے انہیں جواب دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابومسلم! آپ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: خیریت سے ہوں، حضرت علی نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ان لوگوں کی طرف نکل کر میری مدد کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا کہ میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد بھائی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا، جب مسلمانوں میں فتنے رونما ہونے لگیں تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں، یہ میری تلوار حاضر ہے، اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلنے کو تیار ہوں اور وہ یہ لٹکی ہوئی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27200]

حکم دارالسلام: حسن بطرقه وشواهده، أبو عمرو القسملي: يحتمل أنه عبدالله بن عبيد الحميري البصري وإلا فإن أبا عمرو هذا لا يعرف، لكنه توبع، ومؤمل ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27201
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْقَسْمَلِيِّ ، عَنْ ابْنَةِ أُهْبَان , عن أبيها ، أَنَّ عَلِيًّا أَتَى أُهْبَانَ، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكَ مِنَ اتِّبَاعِي؟ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27201]

حکم دارالسلام: حسن بطرقه وشواهده، راجع ما قبله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1251. حَدِيثُ قَارِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27202
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ ابْنِ قَارِبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ"، قَالَ رَجُلٌ: وَالْمُقَصِّرِينَ؟ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ:" وَالْمُقَصِّرِينَ" , يُقَلِّلُهُ سُفْيَانُ بِيَدِهِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ فِي تِيكَ، كَأَنَّهُ يُوَسِّعُ يَدَهُ.
حضرت قارب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! حلق کرانے والوں کی بخشش فرما۔ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قصر کرانے والوں کے لئے بھی دعا کیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا: اے اللہ! حلق کرانے والوں کی مغفرت فرما، چوتھی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر کرانے والوں کو بھی اپنی دعاء میں شامل فرما لیا۔ [مسند احمد/من مسند القبائل/حدیث: 27202]

حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على سفيان بن عيينة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں