مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(قرآن کو خوش الحانی سے پڑھنے کی اہمیت)
حدیث نمبر: 76
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ" , قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي: يَسْتَغْنِي بِهِ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص قرآن کو خوش الحانی کے ساتھ نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ سفیان کہتے ہیں: اس سے مراد اچھی آواز میں پڑھنا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:689، وصحيح ابن حبان: 120»
(بازار میں تاجروں کی کمائی اور قرآن کی تلاوت)
حدیث نمبر: 77
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ، قَالَ: لَقِيَنِي سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: أَتُجَّارٌ كَسْبَةٌ؟ أَتُجَّارٌ كَسْبَةٌ؟! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ" .
عبداللہ بن ابونہیک بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بازار میں مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا: کیا تاجر لوگ کمائی کرنے والے ہیں؟ کیا تاجر لوگ کمائی کرنے والے ہیں؟ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 77]
تخریج الحدیث: «في إسناده عنعنة ابن جريج وأخرجه الحاكم: 569/1 برقم: 2100-2105، وانظر الحديث سابق»
(اللہ کی راہ میں پہلا تیر پھینکنے کا بیان)
حدیث نمبر: 78
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ: " أَنَا أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَابِعَ سَبْعَةٍ، وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلا الْحَبَلَةَ، وَوَرَقَ السَّمُرَ، حَتَّى لَقَدْ قَرِحَتْ أَشْدَاقَنَا حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ مِثْلَ مَا تَضَعُ الشَّاةُ، مَا لَهُ خِلْطٌ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الدِّينِ، لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَخَابَ عَمَلِي" .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں وہ پہلا شخص ہوں، جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا تھا، اور مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والا ساتواں فرد تھا۔ اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لیے صرف پتے وغیرہ ہوتے تھے، جس سے ہماری باچھیں چھل جایا کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی شخص یوں پاخانہ کرتا تھا جس طرح بکری مینگنیاں کرتی ہے۔ اس میں کوئی چیز ملی ہوئی نہیں ہوتی تھی (یعنی وہ بالکل خشک ہوتا تھا)۔ اب ”بنو اسد“ دینی معاملات میں مجھ پر تنقید کرتے ہیں اگر ایسا ہو، تو میں گمراہ ہو گیا اور میرا عمل ضائع ہو گیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 5412، 6453، 3728، ومسلم: 2966، و صحيح ابن حبان: 6989،وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:732، 752»
(نماز میں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھنے کی ممانعت)
حدیث نمبر: 79
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا أَبُو يَعْفُورَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي ، فَطَبَّقْتُ فَنَهَانِي، وَقَالَ: قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ , فَنُهِينَا" يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے مصعب بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز ادا کی، تو میں نے اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں کے درمیان رکھ لیے انہوں نے مجھے ایسے کرنے سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ہم پہلے ایسے کیا کرتے تھے، پھر ہمیں اس سے منع کر دیا گیا (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 79]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري: 790، ومسلم: 535، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 812، وصحيح ابن حبان: 1873، 1874، 1882»
(روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمانے کی تسبیح کی ہدایت)
حدیث نمبر: 80
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسَبَ كُلَّ يَوْمِ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟"، فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسَبُ أَحَدُنَا فِي يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ:" يُسَبِّحُ مِائَةً , أَوْ يُكَبِّرُ مِائَةً، فَهِيَ أَلْفُ حَسَنَةٍ" .
مصعب بن سعد اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”کیا کوئی شخص یہ نہیں کر سکتا کہ وہ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمایا کرے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے حضرات میں سے کسی نے عرض کیا: کوئی شخص روزانہ ایک ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”100 مرتبہ سبحان اللہ پڑھے، 100 مرتبہ اللہ اکبر پڑھے تو یہ ایک ہزار نیکیاں ہو جائیں گی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 80]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم 2698، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:723، وفي صحيح ابن حبان: 825، وأحمد: 374/1 برقم: 1514»