مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
(فتح مکہ پر بیماری اور مال صدقہ کرنے کی اجازت)
حدیث نمبر: 66
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرِضْتُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أَشْفِيتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي مَالا كَثِيرًا، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلا ابْنَتِي , أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ:" لا"، قُلْتُ: فَالثُّلُثُ؟ قَالَ:" الثُّلُثُّ , وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةُ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُخَلَّفُ عَلَى هِجَرَتِي؟ فَقَالَ:" إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي، فَتَعْمَلَ عَمَلا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ، إِلا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً، وَلَعَلَّكَ إِنْ تُخَلَّفْ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرُّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ" , وَلَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ، قَالَ سُفْيَانُ , وَسَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ: رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ.
عامر بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں مکہ میں بیمار ہو گیا، ایسا بیمار ہوا کہ موت کے کنارے پر پہنچ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف میری ایک بیٹی ہے، تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کر دوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: نصف کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: ایک تہائی کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک تہائی کر دو! ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے ورثاء کو خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو، تو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں مفلوک الحال چھوڑ کر جاؤ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں۔ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے تمہیں اس کا اجر ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں جو لقمہ ڈالو گے (اس کا بھی تمہیں اجر ملے گا)۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے کر دیا جاؤں گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں مجھ سے پیچھے نہیں کیا جائے گا تم جو بھی عمل کرو گے، جس کے ذریعے تم نے اللہ کی رضا چاہی ہوگی، تو اس کے نتیجے میں تمہاری رفعت اور مرتبے میں اضافہ ہوگا، ہو سکتا ہے کہ میرے بعد بھی زندہ رہو تاکہ بہت سے لوگ تم سے نفع حاصل کریں اور دوسرے بہت سے لوگوں کو تم سے نقصان ہو۔“ (پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی): ”اے اللہ میرے اصحاب کی ہجرت کو باقی رکھنا اور تو انہیں ایڑیوں کے بل واپس نہ لوٹانا، لیکن سعد بن خولہ پر افسوس ہے۔“ (سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس لیے کیا، کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہو گیا تھا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: سیدنا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کا تعلق ”بنو عامر بن لوی“ سے تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري 6733، ومسلم: 1628، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:427، 447، وصحيح ابن حبان: 4249»
(سوال سے حرام قرار دینے والے مجرم کی روایت)
حدیث نمبر: 67
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ" .
عامر بن سعد اپنے والد محترم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہوتا ہے، جو کسی ایسے معاملے کے بارے میں سوال کرے، جسے حرام قرار نہیں دیا گیا تھا، اور پھر اس کے سوال کرنے کی وجہ سے وہ لوگوں کے لیے حرام قرار دے دیا جائے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 67]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه البخاري 7289، ومسلم: 2358، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 761، وصحيح ابن حبان: 110، وابوداود: 4610، تحفة الأشراف: 3892، وأحمد: 378/1 برقم: 1539»
(محبوب ہونے کے باوجود دوسرے کو دینے کا بیان)
حدیث نمبر: 68
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَال: حَدَّثنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعْطِ فُلانًا، فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ مُسْلِمٌ؟" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعْطِ فُلانًا، فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَمُسْلِمٌ؟" , ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يُكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ" .
عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ تقسیم کیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں صاحب کو بھی کچھ دے دیجئے وہ مؤمن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: (وہ مؤمن ہے) یا مسلمان ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ فلاں کو بھی کچھ عطا کیجئے، کیونکہ وہ مؤمن ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: (وہ مؤمن ہے) یا مسلمان ہے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بعض اوقات میں کسی شخص کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ دوسرا شخص میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، لیکن میں اس اندیشے کے تحت دے دیتا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ اسے منہ کے بل جہنم میں داخل نہ کر دے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 68]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، أخرجه البخاري 27، 1478، ومسلم: 150، وصحيح ابن حبان: 163، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:714، 733، 778»
(ایمان اور اسلام کے فرق کی زہری کی وضاحت)
حدیث نمبر: 69
عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِيهِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَنَرَى أَنَّ الإِسْلامَ الْكَلِمَةُ، وَأَنَّ الإِيمَانَ الْعَمَلُ.
مندرجہ بالا روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: زہری کہتے ہیں: (اس روایت سے ہم) یہ بات جان گئے ہیں کہ اسلام سے مراد زبانی اقرار ہے اور ایمان سے مراد عمل ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 69]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه صحيح ابن حبان: 163، وانظر الحديث سابق»
(عجوہ کھجوروں سے زہر اور جادو سے حفاظت کی روایت)
حدیث نمبر: 70
حَدَّثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ، وَأَبُو ضَمْرَةَ ، قَالَا: حَدَّثنا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةٍ لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ , وَلا سِحْرٌ" .
عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لے اس دن اس پر زہر یا جادو اثر نہیں کرے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 70]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، أخرجه البخاري 5445، 5768، 5769، 5779، ومسلم: 2047، وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:717، 786، 787»
(ہارون اور موسیٰ کی نسبت کی طرح رشتہ کی بات)
حدیث نمبر: 71
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: بَلَغَنِي عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الْحَدِيثُ، ثُمَّ لَقِيتُ سَعْدًا، فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟" .
سعید بن مسیّب بیان کرتے ہیں: مجھ تک سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک روایت پہنچی تو میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے ملا انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا: ”کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 71]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، لضعف على بن زيد بن جدعان ولكن المتن صحيح فهو عند البخاري: 3706، 4416، ومسلم: 2404و ابويعلي الموصلي فى المسنده: 698، 709، 718، 739، وفي صحيح ابن حبان: 6643، 6926، 6927»
(کوفہ کی شکایت پر نماز کے طریقے کا بیان)
حدیث نمبر: 72
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ السُّوَائِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ:" وَاللَّهِ! لَقَدْ شَكَاكَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى زَعَمُوا أَنَّكَ لا تُحْسِنُ تُصَلِّي بِهِمْ، فَقَالَ سَعْدٌ : أَمَا فوَاللَّهِ! مَا كُنْتُ آلُو بِهِمْ صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَرْكُدُ فِي الأُولَيَيْنِ , وَأَحْذِفُ فِي الأُخْرَيَيْنِ، قَالَ: فَسَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ، ذَلِكَ الظَّنُ بِكَ" .
جابر بن سمرہ سوائی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ کہے ہوئے سنا: اللہ کی قسم! اہل کوفہ نے تمہاری ہر معاملے میں شکایت کی ہے، یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے تم انہیں صحیح طریقے سے نماز نہیں پڑھاتے ہو، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ظہر اور عصر کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ نماز کے مطابق، نماز پڑھانے کے حوالے سے، میں ان کے ساتھ کوتاہی نہیں کرتا۔ میں پہلی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات کچھ مختصر کر دیتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔ تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: «إسناد صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري 755، 758، ومسلم 453 وأخرجه أبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“: 692، 693، وفي صحيح ابن حبان: 1859، 1937، 2140»
(ابوسعدہ پر بدعا اور آزمائش کا بیان)
حدیث نمبر: 73
حَدَّثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مِثْلَهُ، إِلا أَنَّهُ قَالَ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ، زَادَ فِيهِ سُفْيَانُ: فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ أَنْ يُوقَفَ لِلنَّاسِ، فَجَعَلَ لا يَمُرُّ عَلَى قَبِيلَةٍ إِلا أَثْنَوْا خَيْرًا، حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ لِبَنِي عَبْسٍ، فَانْبَرَى شَقِيٌّ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا سَعْدَةَ، فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُهُ لا يَعْدِلُ فِي الرَّعِيَّةِ، وَلا يَخْرُجُ فِي السَّرِيَّةِ، وَلا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَمَّا اللَّهُمَّ! إِنْ كَانَ كَذَّابًا فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَأَكْثِرْ وَلَدَهُ، وَابْتَلِهِ بِالْفَقْرِ، وَافْتِنْهُ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ: فأَنَا رَأَيْتُهُ شَيْخًا كَبِيرًا يَغْمِزُ الْجَوَارِيَ فِي الطُّرُقِ، فَيُقَالَ لَهُ فِي ذَلِكَ , فَيَقُولُ: شَيْخٌ كَبِيرٌ فَقِيرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْهُ دَعْوَةُ الرَّجُلِ الصَّالِحِ سَعْدٍ، لا تَكُونُ فِتْنَةٌ إِلا وَثَبَ فِيهَا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ جابر بن سمرہ سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابواسحاق! تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔ سفیان نامی راوی نے اس میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ خود کو لوگوں کے سامنے پیش کریں، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جس بھی قبیلے کے پاس سے گزرے ان لوگوں نے ان کی تعریف کی، یہاں تک کہ جب وہ ”بنو عبس“ کی محفل کے پاس سے گزرے تو ایک بدبخت شخص ان کے سامنے آیا اس شخص کی کنیت ابوسعدہ تھی وہ بولا: مجھے یہ پتہ ہے کہ یہ صاحب اپنی رعایا کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لیتے ہیں۔ کسی جنگی مہم کے لیے نہیں نکلتے ہیں اور (مال غنیمت) صحیح طور پر تقسیم نہیں کرتے۔ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! اگر یہ جھوٹ بول رہا ہے، تو اس کی عمر کو لمبا کر دے، اس کی اولاد کو زیادہ کر دے، اسے غربت میں مبتلا کر دے اور اسے آزمائش کا شکار کر دینا۔ عبدالمالک بن عمیر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ بڑی عمر کا بوڑھا تھا جو راستے میں نوجوان لڑکیوں کو چھیڑا کرتا تھا۔ اس سے اس بارے میں بات کی جاتی، تو وہ یہ کہا کرتا تھا: ایک عمر رسیدہ بوڑھا جو غریب بھی ہے آزمائش کا شکار بھی ہے اسے ایک نیک آدمی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی بددعا لگ گئی ہے۔ کوئی ایسی آزمائش نہیں ہے، جس کا وہ شکار نہ ہوا ہو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، فقد صرح عبدالملك بالتحديث فى الرواية السابقة. وأخرجه البخاری: 755، 770، ومسلم: 453،وصحیح ابن حبان برقم 1661، 1859، 1937، 2140، وانظر الحديث السابق»
(روہہ کے شیطان اور اشہب کی علامت کا بیان)
حدیث نمبر: 74
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، حَدَّثنا الْعَلاءُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ , عَنْ بَكْرِ بْنِ قَرْوَاشٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا الثُّدَيَّةِ، فَقَالَ:" شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ رَاعِي الْخَيْلِ، أَوْ رَاعٍ الْجَبَلِ يَحْتَدِرُهُ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ يُقَالَ لَهُ: الأَشْهَبُ، أَوِ ابْنُ الأَشْهَبِ عَلامَةٌ فِي قَوْمٍ ظَلَمَةٍ" , قَالَ سُفْيَانُ: فَأَخْبَرَنِي عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ، أَنَّهُ جَاءَ بِهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ، يُقَالُ لَهُ: الأَشْهَبُ , أَوِ ابْنُ الأَشْهَبِ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوثد کا یہ تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وہ روہہ کا شیطان ہے، جو گھوڑوں کا چرواہا ہو گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) پہاڑوں پر جانور چراتا ہو گا۔ بجیلہ قبیلے کا ایک فرد اسے اوپر کھینچ کر نیچے کی طرف لائے گا اس کا نام اشہب ہو گا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ابن اشہب ہو گا وہ تاریک قوم میں علامت ہو گا۔ سفیان کہتے ہیں: عمار روہنی نے مجھے یہ بات بتائی ہے، وہ اپنے ساتھ اپنے قبیلے کا ایک فرد لے کر آیا جس کا نام اشہب تھا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ابن اشہب تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى «الأحاديث المختارة» برقم: 939، 940، 941، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8683، وأحمد فى «مسنده» برقم: 1570، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 753، 784، والبزار فى «مسنده» برقم: 1227، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 39076»
(تازہ اور خشک کھجوروں کے لین دین کی ممانعت)
حدیث نمبر: 75
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، قَالَ: تَبَايَعَ رَجُلانِ عَلَى عَهْدِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ بِسُلْتٍ وَشَعِيرٍ، فَقَالَ سَعْدٌ : تَبَايَعَ رَجُلانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ وَرُطَبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ يَنقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَلا إِذَا" .
ابن عیاش نامی راوی کہتے ہیں: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں دو آدمیوں نے جو اور چھلکے کے بغیر جو کا لین دین کیا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دو آدمیوں نے تازہ اور خشک کھجوروں کا لین دین کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تازہ کھجور جب خشک ہو جائے تو، کیا کم ہو جاتی ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ٹھیک نہیں ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه مالك فى الموطأ، برقم: 1233، وابن حبان فى صحيحه برقم: 4997، 5003، والحاكم فى مستدركه برقم: 2277، 22782279 2280، 2296، والنسائي فى المجتبى، برقم: 4549، 4550، والنسائي فى الكبرى، برقم: 5991، 6091،6092، وأبو داود فى سننه، برقم: 3359، 3360، وأحمد فى مسنده، برقم: 1534، 1563، وأبو يعلى فى مسنده: برقم: 712 713، 825»