🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 333
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 333
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: أَتَانِي يَوْمَ الْفَتْحِ حَمَوَانِ لِي فَأَجَرْتُهُمَا، فَجَاءَ عَلِيٌّ يُرِيدُ قَتْلَهُمَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّتِهِ بِالأَبْطَحِ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ، فَلَهِيَ كَانَتْ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ، فَقَالَتْ: تُؤْوِينَ الْكُفَّارَ وَتُجِيرِينَهُمْ، وَتَفْعَلِينَ وَتَفْعَلِينَ؟ فَلَمْ أَلْبَثُ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى وَجْهِهِ رَهْجَةُ الْغُبَارِ، فَقَالَ:" يَا فَاطِمَةُ! اسْكُبِي لِي غُسْلا"، فَسَكَبَتْ لَهُ غُسْلا فِي جَفْنَةٍ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى أَثَرِ الْعَجِينِ فِيهَا , ثُمَّ سَتَرَتْ عَلَيْهِ بِثَوْبٍ، فَاغْتَسَلَ , ثُمَّ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيهِ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ، مَا رَأَيْتُهُ صَلاهَا قَبْلَهَا وَلا بَعْدَهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجَرْتُ حَمَوَيْنِ لِي، وَإِنَّ ابْنَ أُمِّي عَلِيٌّ أَرَادَ قَتْلَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ إِنَّا قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ، وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ" .
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میرے دو دیور میرے پاس آئے میں نے ان دونوں کو پناہ دے دی سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تاکہ ان دونوں کو قتل کر دیں، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مکہ کے بالائی علاقے ابطح میں اپنے خیمے میں تشریف فرما تھے وہاں میری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی۔ میرا سامنا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوا تو وہ میرے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ سخت تھیں انہوں نے کہا: تم کفار کو ٹھکانہ دے رہی ہو، تم انہیں پناہ دے رہی ہو، تم یہ کر رہی ہو اور تم وہ کر رہی ہو۔ میں وہیں ٹھہری رہی۔ اس دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر گرد و غبار کے اثرات تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ! تم میرے لیے پانی تیار کرو۔ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک بڑے مرتبان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی تیار کیا جس میں گندھے ہوئے آٹے کا نشان دیکھ رہی تھی۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پردہ تان دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی کپڑا اوڑھ کر اس کے مخالف سمتوں کو دونوں کاندھوں پر ڈال کر آٹھ رکعات نماز ادا کی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے قبل اور بعد میں کبھی یہ نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے دو دیوروں کو پناہ دی ہے، اور میرے ماں جائے سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسا نہیں کر سکتا، جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں اور جس پر تم آمین کہتی ہو اس پر ہم بھی آمین کہتے ہیں۔ (یعنی جو تم قبول کرتی ہو اسے ہم بھی قبول کرتے ہیں) [مسند الحميدي/حدیث: 333]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 280، 357، 1103، 1176، 3171، 4292، 6158، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 336، وابن حبان في «صحيحه» برقم: 1187، 1188، 1189، 2537، 2538، والحاكم في «مستدركه» برقم: 5246، والنسائي في «الكبرى» ، برقم: 224، وأبو داود في «سننه» ، برقم: 1290، والترمذي في «جامعه» ، برقم: 474،وابن ماجه فى «سننه» ، برقم: 465»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 334
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 334
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفِيهِ" .
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑا اوڑھ کر اسے مخالف سمت میں کندھوں پر ڈال کر آٹھ رکعات نماز ادا کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد، غير أن الحديث صحيح، وقد أخرجه البيهقي فى الصلاة 48/3 باب: ذكر من رواها ثمان ركعات، من طريق سفيان، بهذا الإسناد، ولتمام التخريج انظرسابقه»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 335
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 335
336 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ وَلَمْ يَقُلْ لَنَا فِيهِ سَمِعْتُ قَالَ: سَأَلْتُ عَنْ صَلَاةِ الضُّحَي فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا أَثْبَتَ لِي صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أُمُّ هَانِئٍ قَالَتْ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا مَرَّةً وَاحِدَةً يَوْمَ الْفَتْحِ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيهِ»
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں چاشت کی نماز کے بارے میں سوال کیا۔ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد موجود تھی لیکن مجھے کوئی ایسا شخص نہیں مل سکا جو مجھے یہ بتا سکے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز ادا کی ہے صرف سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا تھیں، انہوں نے یہ بتایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے موقع پر ایک مرتبہ یہ نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے کو اس کے کنارے مخالف سمت میں اوڑھ کر آٹھ رکعات ادا کی تھیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أبى أمية عبد الكريم بن أبى المخارق، غير أن الحديث صحيح، فقد أخرجه البخاري فى الغسل 280، وأطرافه-، ومسلم فى الحيض 229، وقد استوفينا تخريجه فى صحيح ابن حبان برقم 1188، 2538»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 335
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 335
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، وَلَمْ يَقُلْ لَنَا فِيهِ سَمِعْتُ، قَالَ: سَأَلْتُ عَنْ صَلاةِ الضُّحَى فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا أَثْبَتَ لِي صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلا أُمُّ هَانِئٍ ، قَالَتْ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاهَا مَرَّةً وَاحِدَةً يَوْمَ الْفَتْحِ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيهِ" . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتُ لأَمُرُّ عَلَى هَذِهِ الآيَةِ: يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإِشْرَاقِ سورة ص آية 18 فَأَقُولُ: أَيُّ صَلاةٍ صَلاةُ الإِشْرَاقِ؟ فَهَذِهِ صَلاةُ الإِشْرَاقِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب میں یہ آیت تلاوت کرتا ہوں: «يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالإِشْرَاقِ» (38-ص:18) شام کو اور صبح کو تسبیح خوانی کریں۔ تو میں دریافت کرتا ہوں کہ اشراق کی نماز کون سی ہے، تو یہ اشراق کی نماز ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 335]
تخریج الحدیث: «موصول بالإسناد السابق. ونسبه السيوطي في الدر المنثور 298/5 إلى ابن مردويه أخرجه الحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 6965، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» ، برقم: 661، 3694 وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» ، برقم: 4870، برقم: 4871، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 7880»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں