🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب اسْتِحْبَابِ الْقُنُوتِ فِي جَمِيعِ الصَّلاَةِ إِذَا نَزَلَتْ بِالْمُسْلِمِينَ نَازِلَةٌ:
باب: جب مسلمانوں پر کوئی بلا نازل ہو تو نمازوں میں بلند آواز سے قنوت پڑھنا اور اللہ کے ساتھ پناہ مانگنا مستحب ہے اور اس کا محل و مقام آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد ہے اور صبح کی نماز میں قنوت پر دوام مستحب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1551
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَابْنُ فُضَيْلٍ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ.
حفص، ابن فضیل اور مروان سب نے عاصم سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی، ان میں سے بعض نے بعض سے کچھ زیادہ روایت کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1551]
یہ روایت امام صاحب دوسرے اساتذہ سے بھی بیان کرتے ہیں جس میں وہ ایک دوسرے پر کچھ اضافہ کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1551]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1552
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ".
شعبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک قنوت کی، آپ رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیجتے تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1552]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت کی، رِعل اور ذکوان اور عُصَیّہ، جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، ان پر لعنت بھیجتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1552]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1553
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
موسیٰ بن انس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1553]
امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت دوسری سند سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1553]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 677 ترقیم شاملہ: -- 1554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " قَنَتَ شَهْرًا، يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ ".
ہشام نے قتادہ کے حوالے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک عرب کے قبائل میں سے کچھ قبیلوں کے خلاف بددعا کرتے ہوئے قنوت کی، پھر چھوڑ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1554]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے کچھ قبائل کے خلاف ایک ماہ دعائے قنوت کی، پھر اسے چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1554]
ترقیم فوادعبدالباقی: 677
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 678 ترقیم شاملہ: -- 1555
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ، وَالْمَغْرِبِ ".
شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے روایت کی، کہا: میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا، کہا: ہمیں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر اور مغرب (کی نمازوں) میں قنوت کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1555]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور مغرب کی نماز میں دعائے قنوت کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1555]
ترقیم فوادعبدالباقی: 678
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 678 ترقیم شاملہ: -- 1556
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفَجْرِ، وَالْمَغْرِبِ ".
سفیان نے عمرہ بن مرہ سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے اور انہوں نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر اور مغرب (کی نمازوں) میں قنوت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1556]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر اور مغرب میں دعائے قنوت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1556]
ترقیم فوادعبدالباقی: 678
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 679 ترقیم شاملہ: -- 1557
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ: " اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ، وَرِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ".
عمران بن ابی انس نے حنظلہ بن علی سے اور انہوں نے خفاف بن ایما غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں (دعا کرتے ہوئے) کہا: اے اللہ! بنو لحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت بھیج جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ غفار کی اللہ مغفرت کرے اور اسلم کو اللہ سلامتی عطا فرمائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1557]
حضرت خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں یہ دعا فرمائی: «اَللّٰهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَوُا اللّٰهَ وَرَسُولَهُ، غِفَارُ غَفَرَ اللّٰهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللّٰهُ» اے اللہ! بنو لحیان، رعل، ذکوان اور عصیہ پر لعنت فرما جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے، غفار کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے اور اسلم کو اللہ سلامت رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1557]
ترقیم فوادعبدالباقی: 679
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 679 ترقیم شاملہ: -- 1558
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافٍ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ خُفَافُ بْنُ إِيمَاءٍ : رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ، وَالْعَنْ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، ثُمَّ وَقَعَ سَاجِدًا "، قَالَ خُفَافٌ: فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ،
حارث بن خفاف سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت خفاف بن ایما رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر سر اٹھا کر فرمایا: غفار کی اللہ مغفرت کرے، اسلم کو اللہ سلامتی عطا کرے۔ اور عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ اے اللہ! بنو لحیان پر لعنت بھیج اور رعل اور ذکوان پر لعنت بھیج۔ پھر آپ سجدے میں چلے گئے۔ خفاف رضی اللہ عنہ نے کہا: کافروں پر اسی کے سبب سے لعنت کی گئی۔ (لعنت کا طریقہ اختیار کیا گیا۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1558]
خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر اس سے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: «غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا» غفار کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، «وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ» اسلم کو محفوظ رکھے، «عُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، «اللَّهُمَّ الْعَنْ بَنِي لِحْيَانَ وَرِعْلًا وَذَكْوَانَ» اے اللہ! بنو لحیان پر لعنت بھیج اور رعل اور ذکوان پر لعنت نازل کر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا۔ خفاف رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بنا پر کافروں پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1558]
ترقیم فوادعبدالباقی: 679
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 679 ترقیم شاملہ: -- 1559
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الأَسْقَعِ ، عَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءٍ ، بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ الْكَفَرَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ.
(عمرن کے بجائے) عبدالرحمان بن حرملہ نے حنظلہ بن علی بن اسقع سے اور انہوں نے حضرت خفاف بن ایما رضی اللہ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی، سوائے اس کے کہ انہوں نے کافروں پر اسی کے سبب لعنت کی گئی کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1559]
امام صاحب ایک دوسری سند سے خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں خفاف کا یہ قول بیان نہیں کیا کہ اس وجہ سے کافروں پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1559]
ترقیم فوادعبدالباقی: 679
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. باب قَضَاءِ الصَّلاَةِ الْفَائِتَةِ وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ قَضَائِهَا:
باب: قضا نماز کا بیان اور ان کو جلد پڑھنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 680 ترقیم شاملہ: -- 1560
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ، سَارَ لَيْلَهُ حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ: اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ، فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ، وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ، اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ، وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا، فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيْ بِلَالُ؟ فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي، الَّذِي أَخَذَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، يَا رَسُولَ اللَّهِ بِنَفْسِكَ، قَالَ: اقْتَادُوا، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا، ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا، إِذَا ذَكَرَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ، قَالَ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14 "، قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا: لِلذِّكْرَى.
یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ خیبر سے واپس ہوئے تو رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب آپ کو نیند نے آلیا، آپ نے (سواری سے) اتر کر پڑاؤ کیا اور بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارے لیے رات کا پہرہ دو (نظر رکھو کہ کب صبح ہوتی ہے؟) بلال رضی اللہ عنہ نے مقدور بھر نماز پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ سو گئے۔ جب فجر قریب ہوئی تو بلال رضی اللہ عنہ نے (مطلع) فجر کی طرف رخ کرتے ہوئے اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگائی، جب وہ ٹیک لگائے ہوئے تھے تو ان پر نیند غالب آگئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نہ بلال اور نہ ہی ان کے صحابہ میں سے کوئی بیدار ہوا یہاں تک کہ ان پر دھوپ پڑنے لگی، سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور گھبرا گئے۔ فرمانے لگے: اے بلال! تو بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میری جان کو بھی اسی نے قبضے میں لیا تھا جس نے۔ میری ماں باپ آپ پر قربان، اے اللہ کے رسول! آپ کی جان کو قبضے میں لے لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سواریاں آگے بڑھاؤ۔ وہ اپنی سواریوں کو لے کر کچھ آگے بڑھے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ نے ان کو صبح کی نماز پڑھائی، جب نماز ختم کی تو فرمایا: جو شخص نماز (پڑھنا) بھول جائے تو جب اسے یاد آئے اسے پڑھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي» (اور میری یاد کے وقت نماز قائم کرو۔) یونس نے کہا: ابن شہاب سے «لِلذِّكْرِ» (یاد کرنے کے لیے) پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1560]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے واپس لوٹے۔ ایک رات چلتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند غالب آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑاؤ کیا اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم آج رات ہماری حفاظت کرو۔ بلال رضی اللہ عنہ جب تک اللہ کو منظور رہا نفل پڑھتے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی سو گئے۔ جب صبح کا وقت آ گیا تو بلال رضی اللہ عنہ فجر پھوٹنے کی (جگہ) کی طرف رخ کر کے اپنی سواری کو ٹیک لگا کر بیٹھ گئے تو بلال رضی اللہ عنہ پر ان کی آنکھیں غالب آ گئیں کیونکہ وہ سواری کو ٹیک لگائے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، بلال رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے کوئی بھی بیدار نہ ہوا حتیٰ کہ ان پر دھوپ پڑنے لگی۔ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبرا کر فرمایا: اے بلال! بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ میری روح کو اس ذات نے پکڑ لیا، جس نے آپ کی روح کو قبضے میں کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوچ کرو۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی سواریوں کو تھوڑا سا چلایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے نماز کا اہتمام کیا (اذان اور اقامت کہی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ نماز پڑھنے کے بعد فرمایا: جو نماز بھول جائے، وہ یاد آتے ہی پڑھ لے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ میری یاد کے لیے نماز پڑھئے [سورة طه: 14] ۔ ابن شہاب، «ذِكْرِي» (میری یاد کے لیے) کی بجائے «لِلذِّكْرَىٰ» (یاد آنے پر) پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1560]
ترقیم فوادعبدالباقی: 680
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں