🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب الْمَشْيُ إِلَى الصَّلاَةِ تُمْحَى بِهِ الْخَطَايَا وَتُرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتُ:
باب: نماز کے لئے چل کر جانا گناہوں کو مٹانے اور درجات کی بلندی کا سبب ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 666 ترقیم شاملہ: -- 1521
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ مَشَى إِلَى بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ لِيَقْضِيَ فَرِيضَةً مِنْ فَرَائِضِ اللَّهِ، كَانَتْ خَطْوَتَاهُ إِحْدَاهُمَا تَحُطُّ خَطِيئَةً، وَالأُخْرَى تَرْفَعُ دَرَجَةً ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے گھر میں وضو کیا، پھر اللہ کے گھروں میں سے اس کے کسی گھر کی طرف چل کر گیا تاکہ اللہ کے فرضوں میں سے ایک فریضے کو ادا کرے تو اس کے دونوں قدم (یہ کرتے ہیں کہ) ان میں سے ایک گناہ مٹاتا ہے اور دوسرا درجہ بلند کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1521]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے گھر میں وضو کیا، پھر اللہ تعالیٰ کے گھروں میں سے کسی گھر کی طرف چل کر گیا، تاکہ اللہ تعالیٰ کے فرضوں میں سے کسی فریضہ کو ادا کرے، تو اس کے دو قدموں میں سے ایک قدم سے گناہ اتریں گے اور دوسرے سے درجہ بلند ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1521]
ترقیم فوادعبدالباقی: 666
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 667 ترقیم شاملہ: -- 1522
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، وَقَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَفِي حَدِيثِ بَكْرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ؟ قَالُوا: لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ، قَالَ: فَذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِنَّ الْخَطَايَا ".
لیث اور بکر دونوں نے ہاد سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور بکر کی روایت میں ہے کہ انہوں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: تم کیا سمجھتے ہو اگر تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے نہر ہو جس سے وہ ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس (کے جسم) کا کوئی میل کچیل باقی رہ جائے گا؟ صحابہ نے عرض کی: اس کا کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔ آپ نے فرمایا: یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے گناہوں کو صاف کر دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1522]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی کے گھر کے سامنے نہر ہو، جس سے وہ ہر روز پانچ دفعہ نہاتا ہو، کیا اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی رہ جائے گی؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اس پر کوئی میل کچیل نہیں رہے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازوں کی تمثیل ایسی ہی ہے، اللہ تعالیٰ ان سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1522]
ترقیم فوادعبدالباقی: 667
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 668 ترقیم شاملہ: -- 1523
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ عَن أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ "، قَالَ: قَالَ الْحَسَنُ: وَمَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنَ الدَّرَنِ.
اعمش نے ابوسفیان (طلحہ بن نافع) سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازوں کی مثال تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر چلتی ہوئی بہت بڑی نہر کی سی ہے، وہ اس میں سے روزانہ پانچ دفعہ غسل کرتا ہو۔ (اعمش نے ابوسفیان کی بجائے حسن کے حوالے سے روایت کرتے ہوئے) کہا: حسن نے کہا: یہ غسل اس کے جسم پر کوئی میل کچیل نہیں چھوڑے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1523]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ نمازوں کی تمثیل گہری نہر کی مانند ہے، جو کسی انسان کے دروازے پر بہہ رہی ہو، وہ اس سے روزانہ پانچ دفعہ نہاتا ہو۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: کیا یہ غسل اس کے جسم پر میل کچیل چھوڑے گا؟ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1523]
ترقیم فوادعبدالباقی: 668
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 669 ترقیم شاملہ: -- 1524
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " مَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ، أَعَدَّ اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ نُزُلًا، كُلَّمَا غَدَا أَوْ رَاحَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: جو شخص دن کے پہلے حصے میں یا دن کے دوسرے حصے میں مسجد کی طرف گیا اللہ تعالیٰ (ہر دفعہ آنے پر) اس کے لیے جنت میں میزبانی کا انتظام فرماتا ہے، جب بھی وہ (آئے) صبح کو آئے یا شام کو آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1524]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان (نماز کے لیے) مسجد میں آتا جاتا ہے، اس کے ہر آنے جانے پر اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ضیافت تیار فرماتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1524]
ترقیم فوادعبدالباقی: 669
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. باب فَضْلِ الْجُلُوسِ فِي مُصَلاَّهُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَفَضْلِ الْمَسَاجِدِ:
باب: صبح کے بعد اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھنے اور مسجدوں کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 670 ترقیم شاملہ: -- 1525
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ . ح، وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ : أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَثِيرًا، " كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ أَوِ الْغَدَاةَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ ".
ابوحثیمہ نے سماک بن حرب سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، کہا: میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتے تھے؟ کہا: ہاں! بہت۔ آپ جس جگہ صبح یا دن کے ابتدائی حصے کی نماز ادا فرماتے، سورج طلوع ہونے تک وہاں سے نہ اٹھتے۔ جب سورج طلوع ہو جاتا تو اٹھ کھڑے ہوتے، لوگ دور جاہلیت میں کیے کاموں کے متعلق باتیں کرتے اور ہنستے تھے اور آپ (بھی ان کی باتیں سن کر) مسکراتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1525]
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں، میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، بکثرت (بہت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ صبح کی نماز پڑھتے تھے، سورج نکلنے تک اسی جگہ تشریف رکھتے، جب سورج نکل آتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باہمی گفتگو کرتے، جاہلیت کے دور کی باتیں شروع ہو جاتیں تو وہ ہنستے بھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1525]
ترقیم فوادعبدالباقی: 670
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 670 ترقیم شاملہ: -- 1526
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ كِلَاهُمَا، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ، جَلَسَ فِي مُصَلَّاهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَسَنًا ".
سفیان اور زکریا دونوں نے سماک سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر پڑھتے تھے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے حتی کہ سورج اچھی طرح نکل آتا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1526]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھنے کے بعد سورج کے اچھی طرح نکلنے تک اپنے مصلی پر ہی تشریف فرما رہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1526]
ترقیم فوادعبدالباقی: 670
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 670 ترقیم شاملہ: -- 1527
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ سِمَاكٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَلَمْ يَقُولَا: حَسَنًا.
ابواحوص اور شعبہ دونوں نے سماک سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی لیکن حسناً (اچھی طرح) (سورج نکل آتا) نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1527]
امام مسلم نے مذکورہ بالا روایت دوسرے اساتذہ سے بیان کی ہے، لیکن اس میں «حَسَنًا» اچھی طرح نکلنے کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1527]
ترقیم فوادعبدالباقی: 670
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 671 ترقیم شاملہ: -- 1528
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذُبَابٍ فِي رِوَايَةِ هَارُونَ وَفِي حَدِيثِ الأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَحَبُّ البِلَادِ إِلَى اللَّهِ، مَسَاجِدُهَا، وَأَبْغَضُ البِلَادِ إِلَى اللَّهِ، أَسْوَاقُهَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک (انسانی) آبادیوں کا پسندیدہ ترین حصہ ان کی مسجدیں ہیں، اور اللہ کے ہاں (انسانی) آبادیوں کا سب سے ناپسندیدہ حصہ ان کے بازار ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1528]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام جگہوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ جگہیں مسجدیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1528]
ترقیم فوادعبدالباقی: 671
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. باب مَنْ أَحَقُّ بِالإِمَامَةِ:
باب: امامت کا مستحق کون ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 672 ترقیم شاملہ: -- 1529
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالإِمَامَةِ، أَقْرَؤُهُمْ ".
ابوعوانہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب (نماز پڑھنے والے) تین ہوں تو ان میں سے ایک ان کی امامت کرائے اور ان میں سے امامت کا زیادہ حقدار وہ ہے جو ان میں سے زیادہ (قرآن) پڑھا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1529]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تین نمازی ہوں تو ان میں سے ایک امام بنے اور ان میں امامت کا حقدار وہ ہے جو قرآن مجید کی خوب تلاوت کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1529]
ترقیم فوادعبدالباقی: 672
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 672 ترقیم شاملہ: -- 1530
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح، وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ . ح، وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
شعبہ، سعید بن ابی عروبہ اور معاذ (بن ہشام) نے اپنے والد کے واسطے سے، سب نے قتادہ سے اپنے اپنے شاگردوں کی اسی سند کے ساتھ اس کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1530]
امام مسلم رحمہ اللہ نے دوسرے اساتذہ سے بھی قتادہ رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1530]
ترقیم فوادعبدالباقی: 672
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں