Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 851
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 851
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قِلابَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَتْ بَنُو عَقِيلٍ حُلَفَاءَ لِثَقِيفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَتْ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرَتْ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُسْلِمِينَ أَسَرُوا رَجُلا مِنْ عَقِيلٍ مَعَهُ نَاقَةٌ لَهُ، وَكَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ سَبَقَتِ الْحَاجَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَذَا وَكَذَا مَرَّةً، وَكَانَتِ النَّاقَةُ إِذَا سَبَقَتِ الْحَاجَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ تُمْنَعْ مِنْ كَلأَ تَرْتَعُ فِيهِ، وَلَمْ تُمْنَعْ مِنْ حَوْضٍ تَشْرَعُ فِيهِ، قَالَ: فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , بِمَ أَخَذْتَنِي وَأَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ؟ فَقَالَ: بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ، قَالَ: وَحُبِسَ حَيْثُ يَمُرُّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , إِنِّي مُسْلِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ، كُنْتَ قَدْ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلاحِ"، قَالَ: ثُمَّ مَرَّ بِهِ مَرَّةً أُخْرَى، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ , إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي، وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي، قَالَ:" تِلْكَ حَاجَتُكَ"، ثُمَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَا لَهُ، فَفَادَى بِهِ الرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَسَرَتْ ثَقِيفٌ، وَأَمْسَكَ النَّاقَةَ لِنَفْسِهِ، ثُمَّ إِنَّهُ أَغَارَ عَدُوٌّ عَلَى الْمَدِينَةِ فَأَخَذُوا سَرْحًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَصَابُوا النَّاقَةَ فِيهَا , قَالَ: وَقَدْ كَانَتْ عِنْدَهُمُ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ أَسَرُوهَا، وَكَانُوا يُرَوِّحُونَ النَّعَمَ عَشِيًّا، فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى النَّعَمِ، فَجَعَلَتْ لا تَجِيءُ إِلَى بَعِيرٍ إِلا رَغَا حَتَّى انْتَهَتْ إِلَيْهَا، فَلَمْ تَرْغُ، فَاسْتَوَتْ عَلَيْهَا، فَنَخَسَتْهَا، فَقَدِمَتِ الْمَدِينَةَ، فَقَالَ النَّاسُ: الْعَضْبَاءُ، قَالَ: فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: إِنِّي نَذَرْتُ إِنْ أَنْجَانِي اللَّهُ عَلَيْهَا أَنْ أَنْحَرَهَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِئْسَ مَا جَزَيْتِهَا، لا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلا فِيمَا لا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو عقیل زمانہ جاہلیت میں ثقیف قبیلے کے حلیف تھے۔ ثقیف قبیلے کے لوگوں نے دو مسلمانوں کو قیدی بنا لیا پھر اس کے بعد مسلمانوں نے عقیل کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو پکڑ لیا جس کے ساتھ اس کی اونٹنی بھی تھی اس شخص کی اونٹنی زمانہ جاہلیت میں حاجیوں سے آگے نکل جایا کرتی تھی اور وہ کئی مرتبہ یہ عمل کر چکی تھی۔ زمانہ جاہلیت کا یہ رواج تھا کہ جب کوئی اونٹنی حاجیوں سے آگے نکل جاتی تھی، تو پھر اسے کسی بھی جگہ پر چرنے سے نہیں روکا جاتا تھا۔ کسی بھی حوض پر آ کر پانی پینے سے نہیں روکا جاتا تھا۔ (راوی بیان کرتے ہیں) اس شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا وہ بولا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حاجیوں سے آگے نکل جانے والی (اونٹنی) کو کس وجہ سے پکڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے حلیف ثقیف قبیلے کی زیادتی کی وجہ سے۔ راوی بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کے پاس سے گزرے، تو وہ بندھا ہوا تھا۔ ایک مرتبہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو وہ بولا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں بھوکا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کچھ کھانے کے لیے دیجئے۔ میں پیاسا ہوں کچھ پینے کے لیے دیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لو! تمہاری ضرورت کا سامان (یعنی اسے کھانے پینے کی چیزیں فراہم کر دیں) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات مناسب لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعے ان دو آدمیوں کا فدیہ دیا جنہیں ثقیف قبیلے کے لوگوں نے قیدی بنا لیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹنی کو اپنے لیے روک لیا۔ پھر ایک مرتبہ دشمن نے مدینہ منورہ پر رات کے وقت حملہ کیا وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانوروں کے باڑے میں گئے اور انہوں نے وہاں سے اس اونٹنی کو چرا لیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان جانوروں کے پاس ایک خاتون بھی تھی، انہوں نے اسے بھی قیدی بنا لیا۔ وہ لوگ شام کے وقت اپنے جانوروں کو چرنے کے لیے چھوڑتے تھے۔ ایک رات وہ خاتون اونٹوں کے پاس آئی وہ جس بھی اونٹ کے پاس آتی تھی وہ اونٹ آواز نکالنے لگتا تھا۔ لیکن جب وہ خاتون اس اونٹنی کے پاس آئی تو اس نے آواز نہیں نکالی وہ خاتون اس پر سوار ہوئی اور اسے وہاں سے نجات مل گئی۔ وہ عورت مدینہ منورہ آئی تو لوگ بولے: یہ تو عضباء، یہ عضباء ہے (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی آواز لگتی ہے) راوی کہتے ہیں: وہ عورت بولی: میں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس اونٹنی پر نجات عطا کی، تو میں اسے ذبح کر دوں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے اسے بہت برا بدلہ دیا ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے متعلق نذر کو پورا نہیں کیا جاتا۔ اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو اس کے بارے میں نذر کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 851]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وعم أبى قلابة هو أبو المهلب الجرمي۔ وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1641، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4391، 4392، 4859، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7935، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3821، 3849، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3316، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1568، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2382، 2509، 2547، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2124، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12965، 18111، 18112، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 20141 برقم: 20172»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 852
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 852
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَرْبَعَةٌ أَوْ خَمْسَةٌ مِنْهُمْ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَأَقْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً، وَقَالَ:" لَوْ أَدْرَكْتُهُ مَا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے مرنے کے قریب اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا۔ اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی کی اور دو کو آزاد قرار دیا اور چار کو غلام رہنے دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں اس تک پہنچ گیا تو میں اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کروں گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 852]
تخریج الحدیث: «في إسناده علتان: الأولى: ضعف على بن زيد بن جدعان، والعلة الثانية القطاعه فالحسن البصري لم يثبت له سماع من عمران والله أعلم. غير أن الحديث صحيح فقد أخرجه مسلم فى الأيمان 1668، وقد استوفينا تخرجه فى صحيح ابن حبان برقم 4320 4542 5075، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1957، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2096، 4955، 4956، 4957، 4958، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3958، 3961، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1364، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2345، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12673، 12674، 12675، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 20140 برقم: 20160»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 853
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 853
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُدْعَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ: يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ سورة الحج آية 1، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" ذَلِكَ يَوْمٌ يَقُولُ اللَّهُ لآدَمَ: يَا آدَمُ قُمْ فَابْعَثْ بَعْثَ أَهْلِ النَّارِ، فَيَقُولُ: رَبَّ مَا بَعْثُ أَهْلِ النَّارِ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ، وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ"، قَالَ: فَأَنْشَأَ الْقَوْمُ يَبْكُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ إِسْلامٌ قَطُّ إِلا كَانَتْ قَبْلَهُ جَاهِلِيَّةٌ، فَيَؤْخَذُ الْعَدَدُ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنْ لَمْ يَفِ أُكْمِلَ الْعَدَدُ مِنَ الْمُنَافِقينَ، وَمَا مَثَلُكُمْ فِي الأُمَمِ إِلا كَمَثَلٍ الرَّقْمِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، أَوِ الشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ"، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، فَكَبَّرُوا، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ" فَكَبَّرُوا، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ" , فَكَبَّرُوا , قَالَ سُفْيَانُ: انْتَهَى حِفْظِي إِلَى النِّصْفِ، وَلا أَعْلَمُ إِلا أَنَّهُ قَالَ:" إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَيْ أَهْلِ الْجَنَّةِ"، أَوْ قَالَ غَيْرَهُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» (22-الحج:1) اے لوگو! تم اپنے پروردگار سے ڈرو! بے شک قیامت کا زلزلہ عظیم چیز ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ سیدنا آدم علیہ السلام سے فرمائے گا اے آدم! اٹھو اور اہل جہنم کو (ان کے مخصوص ٹھکانے کی طرف) بھیج دو تو وہ عرض کریں گے: اے میرے پروردگار! اہل جہنم کتنے لوگ ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ایک ہزار میں سے نو سو نناوے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا۔ راوی کہتے ہیں: تو حاضرین نے رونا شروع کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب بھی اسلام آیا اس سے پہلے جاہلیت موجود تھی، تو اس تعداد کو زمانہ جاہلیت کے لوگوں سے پورا کیا جائے گا۔ اگر وہ اس سے بھی پورے نہ ہوئے، تو منافقین کے ذریعے اس تعداد کو مکمل کیا جائے گا۔ تمہاری مثال دیگر امتوں کے درمیان اسی طرح ہے، جس طرح کسی جانور کی کلائی (یعنی اگلی ٹانگ) پر نشان ہوتا ہے۔ یا اونٹ کے پہلوں میں شامہ (معمولی سا کالا نشان) ہوتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ امید ہے، تم لوگ اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہوگے، تو لوگوں نے تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ امید ہے، تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی ہوگے، تو لوگوں نے تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اہل جنت کا نصف ہوگے، تو لوگوں نے تکبیر کہی۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میری یادداشت کے مطابق صرف نصف تک کا تذکرہ ہے ویسے میرے علم کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا: مجھے یہ امید ہے، تم اہل جنت کا دو تہائی حصہ ہوگے (یا پھر یہ ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے نے یہ کہا ہے) [مسند الحميدي/حدیث: 853]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كسابقة، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 79، 2935، 2985، 3470، 3471، 8790، 8791، 8792، 8793، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 11277، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2941، 3168، 3169، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 20201 برقم: 20219 برقم: 20220»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 854
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 854
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُدْعَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا أَنَا فَلا آكُلُ مُتَّكِئًا، وَأَمَّا أَنَّهُ قَدْ أَكَلَ الطَّعَامَ، وَمَشَى فِي الأَسْوَاقِ"، يَعْنِي الدَّجَّالَ .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جہاں تک میرا تعلق ہے، تو میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا جہاں تک اس کا تعلق ہے، تو وہ کھانا کھائے گا اور بازاروں میں چلے پھرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد دجال تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 854]
تخریج الحدیث: «حديثان باسناد ضعيف فيه علتان الإنقطاع وضعف على بن زيد بن جدعان وأخرجه أحمد فى «مسنده» ، برقم: 20312، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية" برقم: 2397، وأخرجه البزار فى «مسنده» برقم: 3574، وأخرجه الطبراني فى "الكبير" برقم: 339»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 855
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 855
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُدْعَانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَشَدَ النَّاسَ" مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي الْجَدِّ بِشَيْءٍ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، فَقَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لا أَدْرِي، قَالَ: لا دَرَيْتَ" ,
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو قسم دی کہ کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کے بارے میں کوئی فیصلہ دیا ہو؟ تو ایک صاحب کھڑے ہوئے اور بولے: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک تہائی حصہ دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کس کے ساتھ؟ وہ بولے: مجھے نہیں معلوم، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: پھر تمہیں پتہ نہیں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 855]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف فيه علتان، وانظر الحديث السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 856
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 856
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، فَقَالَ آخَرُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَقَامَ إِلَيْهِ آخَرُ، فَقَالَ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ أَعْطَاهُ السُّدُسَ، قَالَ: مَعَ مَنْ، قَالَ: لا أَدْرِي، قَالَ: لا دَرَيْتَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور بولے: میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو چھٹا حصہ دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کس کے ساتھ؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: تمہیں بھی پتہ نہیں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 856]
تخریج الحدیث: «إسناده أكثر ضعفاً من سابقه، وأخرجه النسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6302، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 20313، والحميدي فى «مسنده» ، برقم: 855 برقم: 856»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 857
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 857
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الظُّهْرِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: " هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ أَنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ ظَنَنْتُ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم میں سے کسی نے سورہ الاعلیٰ کی تلاوت کی ہے، تو ایک صاحب نے عرض کی: جی ہاں! میں نے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میرا مقابلہ کر رہا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 857]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف اسماعيل بن مسلم المكي، غير أنه متابعه عليه، والحديث صحيح وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 398، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1845، 1846، 1847، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 916، 917، 1743، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 991، 992، وأبو داود فى "سننه برقم: 828، 829، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2951، 2952، 2953، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1240، 1509، 1510، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 20129 برقم: 20130»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 858
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 858
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا رُقْيَةَ إِلا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حَمَةٍ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: دم صرف نظر لگنے کا ہوتا ہے یا بچھو کے کاٹنے کا ہوتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 858]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5705، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 220، 2196، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6104، 6430، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8365، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7499، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3884، 3889، والترمذي فى «جامعه» 2056، 2057، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3513، 3516، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19602، 19611، 19648، 19649، 19650، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 2487 برقم: 12356»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں