صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب تَحْرِيمِ بَيْعِ صُبْرَةِ التَّمْرِ الْمَجْهُولَةِ الْقَدْرِ بِتَمْرٍ:
باب: کھجور کے ڈھیر کو جس کا وزن معلوم نہ ہو کھجور کے بدلے بیچنا درست نہیں ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1530 ترقیم شاملہ: -- 3851
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ، لَا يُعْلَمُ مَكِيلَتُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ "،
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔۔۔ اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مانند، لیکن انہوں نے حدیث کے آخر میں من التمر کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3851]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس سے منع فرمایا ہے کہ کھجوروں کا ڈھیر جس کے ناپ کا علم نہیں ہے، اس کو کھجوروں کے معین (معلوم) ناپ کے عوض بیچا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3851]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1530
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1530 ترقیم شاملہ: -- 3852
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ مِنَ التَّمْرِ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ.
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔۔۔ اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مانند، لیکن انہوں نے حدیث کے آخر میں من التمر کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3852]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں حدیث کا آخری لفظ «مِنَ التَّمْرِ» ”کھجور میں سے“ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3852]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1530
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
10. باب ثُبُوتِ خِيَارِ الْمَجْلِسِ لِلْمُتَبَايِعَيْنِ:
باب: بائع اور مشتری دونوں کو اختیار ہے جب تک اس مقام میں رہیں جہاں بیع ہوئی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1531 ترقیم شاملہ: -- 3853
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَيِّعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ "،
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیع کرنے والے دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کے خلاف (بیع فسخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں، الا یہ کہ اختیار والی بیع ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3853]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاملہ بیع کے دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کے عقد کو فسخ کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ الگ الگ نہ ہوں، سوائے اختیار والی بیع کے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3853]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1531
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1531 ترقیم شاملہ: -- 3854
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، كُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، كِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ.
عبیداللہ، ایوب، یحییٰ بن سعید اور ضحاک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، نافع سے امام مالک کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3854]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1531
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1531 ترقیم شاملہ: -- 3855
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكِ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ ".
لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جب دو آدمی باہم بیع کریں تو دونوں میں سے ہر ایک کو (سودا ختم کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اور اکٹھے ہوں۔ یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے، اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے اور اسی پر دونوں بیع کر لیں تو بیع لازم ہو گئی، اور اگر باہم بیع کرنے کے بعد دونوں جدا ہوئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ترک نہیں کیا تو بھی بیع لازم ہو گئی۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3855]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی باہمی بیع کر لیں، تو ان میں سے ہر ایک کو بیع کو فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہے، جب تک وہ الگ الگ نہ ہوں اور دونوں اکٹھے ہوں، یا ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے دے، اگر ان میں سے ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا اور اس کے بعد انہوں نے بیع کر لی تو بیع لازم ہو گی، اور اگر بیع کرنے کے بعد دونوں جدا ہو گئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ختم نہ کیا (نہ چھوڑا) تو بھی بیع ثابت و لازم ہو گئی۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3855]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1531
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1531 ترقیم شاملہ: -- 3856
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْبَيْعِ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ، فَإِذَا كَانَ بَيْعُهُمَا، عَنْ خِيَارٍ، فَقَدْ وَجَبَ "، زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ نَافِعٌ: كَانَ إِذَا بَايَعَ رَجُلًا فَأَرَادَ أَنْ لَا يُقِيلَهُ قَامَ، فَمَشَى هُنَيَّةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ.
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر دونوں نے سفیان سے روایت کی۔ زہیر نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے (حدیث) املا کرائی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو بیع کرنے والے باہم خرید و فروخت کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع (ختم کرنے) کا اختیار ہے جب تک وہ باہم جدا نہ ہوں یا ان کی بیع اختیار سے ہوئی ہو (انہوں نے اختیار استعمال کر لیا ہو)۔ اگر ان کی بیع اختیار سے ہوئی ہے تو لازم ہو گئی ہے۔“ ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ نافع نے کہا: جب وہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) کسی آدمی سے بیع کرتے اور چاہتے کہ وہ آدمی ان سے بیع کی واپسی کا مطالبہ (اقالہ) نہ کرے تو وہ (خیارِ مجلس ختم کرنے کے لیے) اٹھتے، تھوڑا سا چلتے، پھر اس کے پاس واپس آ جاتے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3856]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بائع اور مشتری دونوں بیع کر لیں، تو دونوں میں سے ہر ایک کو اپنی بیع کے فسخ کا حق حاصل ہے، جب تک کہ الگ الگ نہ ہوں یا ان کی بیع خیار سے ہوئی ہو، تو جب ان کی بیع خیار سے ہوئی ہے، تو بیع لازم ہو گئی ہے۔“ نافع کہتے ہیں کہ اس بنا پر ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی آدمی سے بیع کرتے اور اس میں اقالہ (واپسی) نہ کرنا چاہتے، تو وہاں سے اٹھ کھڑے ہوتے اور کچھ دیر ادھر ادھر پھر لیتے (تاکہ مجلس ختم ہو جائے) پھر واپس آ جاتے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3856]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1531
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1531 ترقیم شاملہ: -- 3857
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ بَيِّعَيْنِ لَا بَيْعَ بَيْنَهُمَا حَتَّى يَتَفَرَّقَا، إِلَّا بَيْعُ الْخِيَارِ ".
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بیع کرنے والوں کے درمیان (اس وقت تک) بیع (لازم) نہیں ہوتی، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں، الا یہ کہ خیار (اختیار) والی بیع ہو (جس میں خیار کی مدت طے کر لی جائے یا اختیار استعمال کر کے بیع کو پکا کر لیا جائے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3857]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فروخت کرنے والے اور خریدنے والے کی بیع اس وقت تک لازم نہیں ہوتی، جب تک وہ الگ الگ نہ ہو جائیں الّا یہ کہ بیع خیار پر ہوئی ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3857]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1531
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
11. باب الصِّدْقِ فِي الْبَيْعِ وَالْبَيَانِ:
باب: تجارت اور بیان میں راست بازی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1532 ترقیم شاملہ: -- 3858
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ".
ابوخلیل نے عبداللہ بن حارث سے، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”بیع کرنے والے دونوں فریقوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور حقیقت کو واضح کریں تو ان کی بیع میں برکت ڈالی جاتی ہے، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور (عیب وغیرہ) چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت مٹا دی جاتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3858]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فروخت کرنے والے اور خریدنے والے کو اختیار حاصل ہے، جب تک وہ علیحدہ نہ ہوں، اگر وہ دونوں سچ بولیں گے اور اپنی اپنی چیز کے عیب کو بیان کر دیں گے تو دونوں کی بیع میں برکت ہو گی اور اگر دونوں جھوٹ بولیں گے اور عیب کو چھپائیں گے، تو ان کی بیع کی برکت مٹا دی جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3858]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1532
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1532 ترقیم شاملہ: -- 3859
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ ، يُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، قَالَ مُسْلِم بْن الْحَجَّاج: وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ، وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً.
ابوتیاح سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا، وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ نے کہا: حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 120 سال زندگی پائی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3859]
امام صاحب اپنے استاد عمرو بن علی کی دوسری سند سے بھی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ میں پیدا ہوئے تھے اور ایک سو بیس سال تک زندہ رہے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3859]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1532
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
12. باب مَنْ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ:
باب: جو شخص بیع میں دھوکا کھائے۔
ترقیم عبدالباقی: 1533 ترقیم شاملہ: -- 3860
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: ذَكَرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ بَايَعْت فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ "، فَكَانَ إِذَا بَايَعَ، يَقُولُ: لَا خِيَابَةَ.
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اسے بیع میں دھوکا دے دیا جاتا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جس سے بھی بیع کرو تو کہہ دیا کرو: دھوکا نہیں ہو گا۔“ (بعد ازیں) وہ جب بھی بیع کرتا تو کہتا: دھوکا نہیں ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3860]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اسے سودوں میں دھوکا دیا جاتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جس سے بیع کرو، اس سے کہہ دو، دھوکا نہیں ہونا چاہیے۔“ تو وہ جب سودا کرتا تو کہہ دیتا کہ دھوکا نہیں کرو گے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3860]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1533
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة