صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب تَحْرِيمِ تَلَقِّي الْجَلَبِ:
باب: آگے بڑھ کر تاجروں سے ملنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 1518 ترقیم شاملہ: -- 3821
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ: " نَهَى عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ ".
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (راستے میں) جا کر سامان تجارت لینے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3821]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سامانِ تجارت کو باہر جا کر ملنے سے منع فرمایا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3821]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1518
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1519 ترقیم شاملہ: -- 3822
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ ".
ہُشَیم نے ہمیں ہشام سے خبر دی، انہوں نے ابن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (راستے میں) جا کر باہر سے لائے جانے والے سامان تجارت کو حاصل کرنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3822]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سامان لانے والوں سے باہر جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3822]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1519
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1519 ترقیم شاملہ: -- 3823
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامٌ الْقُرْدُوسِيُّ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَلَقَّوْا الْجَلَبَ، فَمَنْ تَلَقَّاهُ، فَاشْتَرَى مِنْهُ، فَإِذَا أَتَى سَيِّدُهُ السُّوقَ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے ہشام قردوسی نے ابن سیرین سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سامانِ تجارت کو راستے میں جا کر حاصل نہ کرو۔ جس نے باہر مل کر ان سے سامان خرید لیا، تو جب اس کا مالک بازار میں آئے گا تو اسے (بیع کو برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا) اختیار ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3823]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوداگروں کو شہر سے باہر نہ ملو، اور جو ان کو باہر جا کر ملا (اور سامان خرید لیا) تو پھر جب سامان کا مالک بازار میں آ گیا (اور بھاؤ معلوم کر لیا) تو اس کو (بیع توڑنے اور نہ توڑنے) کا اختیار ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3823]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1519
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
6. باب تَحْرِيمِ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي:
باب: شہر والا باہر والے کا مال نہ بیچے۔
ترقیم عبدالباقی: 1520 ترقیم شاملہ: -- 3824
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". وقَالَ زُهَيْرٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زُہَیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ اس (سند) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے، آپ نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے۔“ زہیر نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3824]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہری دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے۔“ زہیر کی روایت میں ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ”شہری جنگلی کے لیے بیع کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3824]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1520
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1521 ترقیم شاملہ: -- 3825
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ". قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، قَالَ: لَا يَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا.
طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ باہر نکل کر قافلے والوں سے ملا جائے اور اس سے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے۔ (طاوس نے) کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ کے فرمان: ”کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے (بیع نہ کرے)“ کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ اس کا دلال نہ بنے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3825]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے ”اس سے کہ تجارتی قافلہ کو شہر سے باہر ملا جائے اور اس سے کہ شہری بدوی کے لیے بیع کرے۔“ طاؤوس رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: «حَاضِرٌ لِبَادٍ» (کے متعلق)۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3825]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1521
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1522 ترقیم شاملہ: -- 3826
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقْ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ "، غَيْرَ أَنَّ فِي رِوَايَةِ يَحْيَى: يُرْزَقُ.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور احمد بن یونس نے کہا: ہمیں ابوخثیمہ زہیر نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع نہ کرے۔ لوگوں کو چھوڑ دو، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے رزق دیتا ہے۔“ البتہ یحییٰ کی روایت میں (مجہول کے صیغے کے ساتھ) ہے: ”رزق دیا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3826]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1522
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1522 ترقیم شاملہ: -- 3827
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابوزہیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3827]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3827]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1522
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1523 ترقیم شاملہ: -- 3828
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ ".
یونس نے ابن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3828]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہمیں اس بات سے منع فرمایا گیا کہ شہری، جنگلی یا خانہ بدوش کے لیے بیع کرے، اگرچہ وہ اس کا بھائی یا باپ ہی کیوں نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3828]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1523
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1523 ترقیم شاملہ: -- 3829
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : " نُهِينَا عَنْ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ".
ابن عون نے ہمیں محمد (بن سیرین) سے حدیث بیان کی، کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں اس بات سے منع کیا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے۔ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3829]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1523
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
7. باب حُكْمِ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ:
باب: مصراۃ کی بیع کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1524 ترقیم شاملہ: -- 3830
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً، فَلْيَنْقَلِبْ بِهَا فَلْيَحْلُبْهَا، فَإِنْ رَضِيَ حِلَابَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِلَّا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ".
موسیٰ بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دودھ روکی گئی بھیڑ (یا بکری) خرید لی تو وہ اسے لے کر گھر واپس آئے اور اس کا دودھ نکالے، اگر وہ اس کے دودھ دینے سے راضی ہو تو اسے رکھ لے، ورنہ کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3830]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے «مُصَرَّاة» جانور خریدا وہ اسے گھر لائے اور اس کا دودھ نکالے، اگر اس کا نکالا ہوا دودھ پسند ہو تو اپنے پاس رکھ لے، وگرنہ وہ جانور واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجوروں کا ایک صاع دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب البيوع/حدیث: 3830]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1524
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة