موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ مِيرَاثِ الْجَدِّ
داداکی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 1479B2
قَالَ مَالِكٌ: وَالْجَدُّ، وَالْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ إِذَا شَرَّكَهُمْ أَحَدٌ بِفَرِيضَةٍ مُسَمَّاةٍ، يُبَدَّأُ بِمَنْ شَرَّكَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْفَرَائِضِ. فَيُعْطَوْنَ فَرَائِضَهُمْ. فَمَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنْ شَيْءٍ، فَإِنَّهُ يُنْظَرُ، أَيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ لِحَظِّ الْجَدِّ، أُعْطِيَهُ الثُّلُثُ مِمَّا بَقِيَ لَهُ وَلِلْإِخْوَةِ. وَأَنْ يَكُونَ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ مِنَ الْإِخْوَةِ، فِيمَا يَحْصُلُ لَهُ وَلَهُمْ، يُقَاسِمُهُمْ بِمِثْلِ حِصَّةِ أَحَدِهِمْ، أَوِ السُّدُسُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ، أَيُّ ذَلِكَ كَانَ أَفْضَلَ لِحَظِّ الْجَدِّ، أُعْطِيَهُ الْجَدُّ. وَكَانَ مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ. إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ وَاحِدَةٍ. تَكُونُ قِسْمَتُهُمْ فِيهَا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَتِلْكَ الْفَرِيضَةُ: امْرَأَةٌ تُوُفِّيَتْ. وَتَرَكَتْ زَوْجَهَا، وَأُمَّهَا، وَأُخْتَهَا لِأُمِّهَا وَأَبِيهَا، وَجَدَّهَا. فَلِلزَّوْجِ النِّصْفُ. وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ. وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ. وَلِلْأُخْتِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ النِّصْفُ. ثُمَّ يُجْمَعُ سُدُسُ الْجَدِّ، وَنِصْفُ الْأُخْتِ فَيُقْسَمُ أَثْلَاثًا. لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ. فَيَكُونُ لِلْجَدِّ ثُلُثَاهُ. وَلِلْأُخْتِ ثُلُثُهُ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر دادا اور اس کے بھائی بہنوں کے ساتھ کوئی ذوی الفروض سے بھی ہو، تو پہلے ذوی الفروض کو ان کا فرض دیں گے، بعد اس کے جو بچے گا اس میں سے کئی صورتوں میں سے جو دادا کے لیے بہتر ہوگی کریں گے، وہ صورتیں یہ ہیں: ایک تو یہ کہ جس قدر مال بچا ہے اس کا تہائی دادا کو دے دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ دادا بھی مثل بھائیوں کے ایک بھائی سمجھا جائے، اور جس قدر حصّہ ایک بھائی کا ہو اسی قدر اس کو بھی ملے۔ تیسرے یہ کہ کل مال کا چھٹا حصّہ اس کو دے دیا جائے گا۔ ان صورتوں میں جو صورت اس کے لیے بہتر ہوگی وہ کریں گے، بعد اس کے دادا کو دے کر جس قدر مال بچے گا وہ بھائی بہن « ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ » کے طور پر تقسیم کرلیں گے، مگر ایک مسئلے میں تقسیم اور طور سے ہوگی (اس کو مسئلہ اکدریہ کہتے ہیں)، وہ یہ ہے: ایک عورت مر جائے اور خاوند اور ماں اور سگی بہن اور دادا کو چھوڑ جائے، تو خاوند کو آدھا، اور ماں کو تہائی، اور دادا کو چھٹا، اور سگی بہن کو آدھا ملے گا۔ پھر دادا کو چھٹا اور بہن کا آدھا ملا کر اس کے تین حصّے کریں گے، دو حصّے دادا کو ملیں گے اور ایک حصّہ بہن کو۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1479B2]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1479B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 3»
حدیث نمبر: 1479B3
_x000D_ قَالَ مَالِكٌ: وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ مَعَ الْجَدِّ، إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ إِخْوَةٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ، كَمِيرَاثِ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، سَوَاءٌ ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ. وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ. فَإِذَا اجْتَمَعَ الْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، وَالْإِخْوَةُ لِلْأَبِ، فَإِنَّ الْإِخْوَةَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، يُعَادُّونَ الْجَدَّ بِإِخْوَتِهِمْ لِأَبِيهِمْ. فَيَمْنَعُونَهُ بِهِمْ كَثْرَةَ الْمِيرَاثِ بِعَدَدِهِمْ، وَلَا يُعَادُّونَهُ بِالْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ. لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَكُنْ مَعَ الْجَدِّ غَيْرُهُمْ، لَمْ يَرِثُوا مَعَهُ شَيْئًا. وَكَانَ الْمَالُ كُلُّهُ لِلْجَدِّ. فَمَا حَصَلَ لِلْإِخْوَةِ مِنْ بَعْدِ حَظِّ الْجَدِّ، فَإِنَّهُ يَكُونُ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ. دُونَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ. وَلَا يَكُونُ لِلْإِخْوَةِ لِلْأَبِ مَعَهُمْ شَيْءٌ. إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ امْرَأَةً وَاحِدَةً. فَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً وَاحِدَةً، فَإِنَّهَا تُعَادُّ الْجَدَّ بِإِخْوَتِهَا لِأَبِيهَا. مَا كَانُوا فَمَا حَصَلَ لَهُمْ وَلَهَا مِنْ شَيْءٍ كَانَ لَهَا دُونَهُمْ. مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ أَنْ تَسْتَكْمِلَ فَرِيضَتَهَا. وَفَرِيضَتُهَا النِّصْفُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ. فَإِنْ كَانَ فِيمَا يُحَازُ لَهَا وَلِإِخْوَتِهَا لِأَبِيهَا فَضْلٌ عَنْ نِصْفِ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَهُوَ لِإِخْوَتِهَا لِأَبِيهَا لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ. فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ، فَلَا شَيْءَ لَهُمْ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا اگر دادا کے ساتھ سوتیلے بھائی ہوں تو ان کا حکم وہی ہوگا جو سگے بھائیوں کا ہے، اور جب سگے بھائی بہن بھی ہوں اور سوتیلے بہن بھائی بھی ہوں تو سوتیلے صرف بھائیوں کی گنتی میں شریک ہو کر دادا کے حصّے کو کم کردیں گے، مگر کچھ نہ پائیں گے۔ مگر جس صورت میں سگے بھائی بہنوں کے ساتھ اخیانی یعنی مادری بھائی ہوں تو وہ بھائیوں کی گنتی میں شریک ہو کر داداکے حصّے کو کم نہ کریں گے، کیونکہ اخیانی بھائی بہن دادا کے ہوتے ہوئے محروم ہیں۔ اگر دادا ہوتا اور صرف اخیانی بھائی بہن ہوتے تو کل مال دادا کو ملتا اور اخیانی بھائی بہن محروم ہو جاتے۔ خیر اب جس صورت میں داداکے ساتھ سگے بھائی بہن اور علاتی یعنی سوتیلے بھائی بہن بھی ہوں تو جو مال بعد دادا کے حصّے دینے کے بچے گا وہ سب سگے بھائی بہنوں کو ملے گا۔ اور سوتیلوں کو کچھ نہ ملے گا، مگر جب سگوں میں صرف ایک بہن ہو اور باقی سب سوتیلے بھائی اور بہن ہوں تو سوتیلے بھائی اور بہنوں کے سبب سے وہ سگی بہن دادا کا حصّہ کم کردے گی، پھر اپنا پورا حصّہ یعنی آدھا لے لے گی، اگر اس پر بھی کچھ بچ رہے گا تو سوتیلے بھائی اور بہن کو مثل « ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ » کے طور پر تقسیم ہوگا، اور اگر کچھ نہ بچے گا تو سوتیلے بھائی اور بہنوں کو کچھ نہ ملے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1479B3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 3»
8. بَابُ مِيرَاثِ الْجَدَّةِ
نانی اور دا دی کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 1480
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" فَرَضَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : لِلْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ الثُّلُثَ" . قَالَ مَالِكٌ: وَالْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا: أَنَّ الْجَدَّ أَبَا الْأَبِ لَا يَرِثُ مَعَ الْأَبِ دِنْيَا شَيْئًا، وَهُوَ يُفْرَضُ لَهُ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ، وَمَعَ ابْنِ الْابْنِ الذَّكَرِ السُّدُسُ فَرِيضَةً، وَهُوَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مَا لَمْ يَتْرُكِ الْمُتَوَفَّى أَخًا أَوْ أُخْتًا لِأَبِيهِ، يُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرَّكَهُ بِفَرِيضَةٍ مُسَمَّاةٍ، فَيُعْطَوْنَ فَرَائِضَهُمْ، فَإِنْ فَضَلَ مِنَ الْمَالِ السُّدُسُ فَمَا فَوْقَهُ، فُرِضَ لِلْجَدِّ السُّدُسُ فَرِيضَةً. قَالَ مَالِكٌ: وَالْجَدُّ وَالْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ إِذَا شَرَّكَهُمْ أَحَدٌ بِفَرِيضَةٍ مُسَمَّاةٍ، يُبْدَأُ بِمَنْ شَرَّكَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْفَرَائِضِ، فَيُعْطَوْنَ فَرَائِضَهُمْ، فَمَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنْ شَيْءٍ، فَإِنَّهُ يُنْظَرُ أَيُّ ذَلِكَ أَفْضَلُ لِحَظِّ الْجَدِّ، أُعْطِيَهُ الثُّلُثُ مِمَّا بَقِيَ لَهُ وَلِلْإِخْوَةِ، أَوْ يَكُونُ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ مِنَ الْإِخْوَةِ فِيمَا يَحْصُلُ لَهُ وَلَهُمْ، يُقَاسِمُهُمْ بِمِثْلِ حِصَّةِ أَحَدِهِمْ، أَوِ السُّدُسُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ، أَيُّ ذَلِكَ كَانَ أَفْضَلَ لِحَظِّ الْجَدِّ أُعْطِيَهُ الْجَدُّ، وَكَانَ مَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ لِلْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ وَاحِدَةٍ تَكُونُ قِسْمَتُهُمْ فِيهَا عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَتِلْكَ الْفَرِيضَةُ امْرَأَةٌ تُوُفِّيَتْ، وَتَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَأُخْتَهَا لِأُمِّهَا وَأَبِيهَا وَجَدَّهَا، فَلِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ وَلِلْجَدِّ السُّدُسُ وَلِلْأُخْتِ لِلْأُمِّ وَالْأَبِ النِّصْفُ، ثُمَّ يُجْمَعُ سُدُسُ الْجَدِّ، وَنِصْفُ الْأُخْتِ فَيُقْسَمُ أَثْلَاثًا لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، فَيَكُونُ لِلْجَدِّ ثُلُثَاهُ، وَلِلْأُخْتِ ثُلُثُهُ. قَالَ مَالِكٌ: وَمِيرَاثُ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ مَعَ الْجَدِّ، إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ إِخْوَةٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ، كَمِيرَاثِ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، سَوَاءٌ ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ، فَإِذَا اجْتَمَعَ الْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْإِخْوَةُ لِلْأَبِ، فَإِنَّ الْإِخْوَةَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ يُعَادُّونَ الْجَدَّ بِإِخْوَتِهِمْ لِأَبِيهِمْ، فَيَمْنَعُونَهُ بِهِمْ كَثْرَةَ الْمِيرَاثِ بِعَدَدِهِمْ، وَلَا يُعَادُّونَهُ بِالْإِخْوَةِ لِلْأُمِّ، لِأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَكُنْ مَعَ الْجَدِّ غَيْرُهُمْ، لَمْ يَرِثُوا مَعَهُ شَيْئًا. وَكَانَ الْمَالُ كُلُّهُ لِلْجَدِّ، فَمَا حَصَلَ لِلْإِخْوَةِ مِنْ بَعْدِ حَظِّ الْجَدِّ، فَإِنَّهُ يَكُونُ لِلْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ دُونَ الْإِخْوَةِ لِلْأَبِ، وَلَا يَكُونُ لِلْإِخْوَةِ لِلْأَبِ مَعَهُمْ شَيْءٌ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْإِخْوَةُ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ امْرَأَةً وَاحِدَةً، فَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً وَاحِدَةً، فَإِنَّهَا تُعَادُّ الْجَدَّ بِإِخْوَتِهَا لِأَبِيهَا مَا كَانُوا، فَمَا حَصَلَ لَهُمْ وَلَهَا مِنْ شَيْءٍ، كَانَ لَهَا دُونَهُمْ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ أَنْ تَسْتَكْمِلَ فَرِيضَتَهَا، وَفَرِيضَتُهَا النِّصْفُ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَإِنْ كَانَ فِيمَا يُحَازُ لَهَا وَلِإِخْوَتِهَا لِأَبِيهَا فَضْلٌ عَنْ نِصْفِ رَأْسِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَهُوَ لِإِخْوَتِهَا لِأَبِيهَا، لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ، فَلَا شَيْءَ لَهُمْ
سیدنا قبیصہ بن ذویب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میت کی نانی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس میراث مانگنے آئی، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی کتاب میں تیرا کچھ حصّہ مقرر نہیں ہے، اور نہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی حدیث سنی ہے، تو واپس جا، میں لوگوں سے پوچھ کر دریافت کروں گا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت موجود تھا، میرے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کو چھٹا حصّہ دلایا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کوئی اور بھی تمہارے ساتھ ہے (جو اس معاملے میں جانتا ہو)؟ تو سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور جیسا سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ویسا ہی بیان کیا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چھٹا حصّہ اس کو دلا دیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں ایک دادی میراث مانگنے آئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی کتاب میں تیرا کچھ حصّہ مذکور نہیں، اور پہلے جو حکم ہو چکا ہے وہ نانی کے بارے میں ہوا تھا، اور میں اپنی طرف سے فرائض میں کچھ بڑھا نہیں سکتا، لیکن وہی چھٹا حصّہ تو بھی لے، اگر نانی بھی ہو تو دونوں چھٹا حصّہ بانٹ لو، اور جو تم دونوں میں سے ایک اکیلی ہو (یعنی صرف نانی ہو یا صرف دادی) وہی چھٹا حصّہ لے لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1480]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 2894، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2100، 2101، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2981، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2724، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 80، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12466، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18143، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6031، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8070، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6305، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19083، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31922، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 4»
الحكم على الحديث:
مرفوع ضعيف
حدیث نمبر: 1481
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ خَرَشَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ :" حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ"، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ، فَأَنْفَذَهُ لَهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ" ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ لَهَا:" مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ، وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قُضِيَ بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ، وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا، وَلَكِنَّهُ ذَلِكَ السُّدُسُ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَهُوَ بَيْنَكُمَا، وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا"
حضرت قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ نانی اور دادی دونوں آئیں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چھٹا حصّہ نانی کو دینا چاہا، ایک شخص انصاری بولا: اے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ! تم اس کو نہیں دلاتے جو اگر مرجاتی اور میّت زندہ ہوتا، یعنی اس کا پوتا تو وارث ہوتا (اور اس کو دلاتے ہو جو اگر مرجاتی اور میت زندہ ہوتا یعنی اس کا نواسہ تو وارث نہ ہوتا)، پھر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر چھٹا ان دونوں کو دلا دیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1481]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12342، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 81، 82، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4132، 4133، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19084، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31283، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 5»
الحكم على الحديث:
موقوف ضعيف
حدیث نمبر: 1482
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَجْعَلَ السُّدُسَ لِلَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَمَا إِنَّكَ تَتْرُكُ الَّتِي لَوْ مَاتَتْ وَهُوَ حَيٌّ كَانَ إِيَّاهَا يَرِثُ، " فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ بَيْنَهُمَا"
حضرت ابوبکر بن عبدالرحمٰن حصّہ نہیں دلاتے تھے مگر نانی کو یا دادی کو۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ نانی ماں کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائے گی، البتہ اگر ماں نہ ہو تو اس کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور دادی ماں کے یا باپ کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائے گی، جب ماں باپ نہ ہوں تو اس کو چھٹا حصّہ ملے گا۔ اگر نانی اور دادی دونوں ہوں اور میّت کے ماں باپ جو نانی دادی سے زیادہ قریب ہیں نہ ہوں تو ان میں سے نانی اگر میّت کے ساتھ زیادہ قریب ہوگی تو اسی کو چھٹا حصّہ ملے گا(1)، اور جو دادی زیادہ قریب ہوگی(2) یا دونوں برابر ہوں(3) تو چھٹے میں دونوں شریک ہوں گے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میراث کسی کے واسطے نہیں ہے دادیوں اور نانیوں میں سے، مگر ماں کی ماں کو اگرچہ کتنی ہی دور ہو جائے(1)، ان کے سوا اور نانیوں(2) دادیوں(3) کو میراث (دینا مقرر) نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ دلایا نانی کو، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا پوچھا، جب ان کو بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کو ترکہ دلایا، انہوں نے دلایا، بعد اس کے دادی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں آئی، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں فرائض کو بڑھا نہیں سکتا، لیکن اگر تو بھی ہو اور نانی بھی ہو تو دونوں چھٹے حصّے کو بانٹ لیں، اور جو کوئی تم میں سے تنہا ہو تو وہ پورا چھٹا لے لے(4)۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب سے دین اسلام شروع ہوا ہے آج تک سوائے ان نانی اور دادی کے اور قسم کی نانی دادی کو کسی نے میراث نہیں دلائی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1482]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ نانی ماں کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائے گی، البتہ اگر ماں نہ ہو تو اس کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور دادی ماں کے یا باپ کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائے گی، جب ماں باپ نہ ہوں تو اس کو چھٹا حصّہ ملے گا۔ اگر نانی اور دادی دونوں ہوں اور میّت کے ماں باپ جو نانی دادی سے زیادہ قریب ہیں نہ ہوں تو ان میں سے نانی اگر میّت کے ساتھ زیادہ قریب ہوگی تو اسی کو چھٹا حصّہ ملے گا(1)، اور جو دادی زیادہ قریب ہوگی(2) یا دونوں برابر ہوں(3) تو چھٹے میں دونوں شریک ہوں گے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میراث کسی کے واسطے نہیں ہے دادیوں اور نانیوں میں سے، مگر ماں کی ماں کو اگرچہ کتنی ہی دور ہو جائے(1)، ان کے سوا اور نانیوں(2) دادیوں(3) کو میراث (دینا مقرر) نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ دلایا نانی کو، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا پوچھا، جب ان کو بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کو ترکہ دلایا، انہوں نے دلایا، بعد اس کے دادی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں آئی، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں فرائض کو بڑھا نہیں سکتا، لیکن اگر تو بھی ہو اور نانی بھی ہو تو دونوں چھٹے حصّے کو بانٹ لیں، اور جو کوئی تم میں سے تنہا ہو تو وہ پورا چھٹا لے لے(4)۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب سے دین اسلام شروع ہوا ہے آج تک سوائے ان نانی اور دادی کے اور قسم کی نانی دادی کو کسی نے میراث نہیں دلائی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12345، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 6»
الحكم على الحديث:
موقوف ضعيف
حدیث نمبر: 1482B1
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ، وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا، أَنَّ الْجَدَّةَ أُمَّ الْأُمِّ لَا تَرِثُ مَعَ الْأُمِّ دِنْيَا شَيْئًا، وَهِيَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ يُفْرَضُ لَهَا السُّدُسُ فَرِيضَةً. وَأَنَّ الْجَدَّةَ أُمَّ الْأَبِ لَا تَرِثُ مَعَ الْأُمِّ، وَلَا مَعَ الْأَبِ شَيْئًا. وَهِيَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ يُفْرَضُ لَهَا السُّدُسُ فَرِيضَةً. فَإِذَا اجْتَمَعَتِ الْجَدَّتَانِ أُمُّ الْأَبِ، وَأُمُّ الْأُمِّ، وَلَيْسَ لِلْمُتَوَفَّى دُونَهُمَا أَبٌ وَلَا أُمٌّ. قَالَ مَالِكٌ: فَإِنِّي سَمِعْتُ أَنَّ أُمَّ الْأُمِّ، إِنْ كَانَتْ أَقْعَدَهُمَا، كَانَ لَهَا السُّدُسُ، دُونَ أُمِّ الْأَبِ. وَإِنْ كَانَتْ أُمُّ الْأَبِ أَقْعَدَهُمَا، أَوْ كَانَتَا فِي الْقُعْدَدِ مِنَ الْمُتَوَفَّى، بِمَنْزِلَةٍ سَوَاءٍ فَإِنَّ السُّدُسَ بَيْنَهُمَا، نِصْفَانِ.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 6»
حدیث نمبر: 1482B2
قَالَ مَالِكٌ: وَلَا مِيرَاثَ لِأَحَدٍ مِنَ الْجَدَّاتِ. إِلَّا لِلْجَدَّتَيْنِ. لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ الْجَدَّةَ. ثُمَّ سَأَلَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ ذَلِكَ. حَتَّى أَتَاهُ الثَّبَتُ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ وَرَّثَ الْجَدَّةَ. فَأَنْفَذَهُ. لَهَا ثُمَّ أَتَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهَا: مَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا. فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا، فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 6»
حدیث نمبر: 1482B3
قَالَ مَالِكٌ: ثُمَّ لَمْ نَعْلَمْ أَحَدًا وَرَّثَ غَيْرَ جَدَّتَيْنِ. مُنْذُ كَانَ الْإِسْلَامُ إِلَى الْيَوْمِ.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 6»
9. بَابُ مِيرَاثِ الْكَلَالَةِ
کلالہ کی میراث کا بیان
حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کلالے کے متعلق۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافی ہے تجھ کو وہ آیت جو گرمی میں اتری ہے، سورۂ نساء کے آخر میں۔“
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1483]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1483]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 567، 1617، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1666، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2091، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4537، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 789، 6648، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1014، 2726، 3363، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5144، وأحمد فى «مسنده» برقم: 179، والحميدي فى «مسنده» برقم: 10، 11، 29، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 7»
الحكم على الحديث:
مرفوع صحيح
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک اس امر میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ کلالہ دو قسم کا ہے، ایک تو وہ آیت جو سورۂ نساء کے شروع میں ہے، فرمایا اللہ تعالیٰ نے: ”اگر ایک شخص مر جائے کلالہ یا کوئی عورت مر جائے کلالہ اور اس کا ایک بھائی یا بہن ہو (اخیانی) تو ہر ایک کو چھٹا حصّہ ملے گا، اگر زیادہ ہوں تو سب شریک ہوں گے تہائی میں۔“ یہ وہ کلالہ ہے جس کا نہ باپ ہو نہ اس کی اولاد ہو، کیونکہ اس وقت تک اخیانی بھائی بہن وارث نہیں ہوتے تھے۔ دوسری وہ آیت جو سورۂ نساء کے آخر میں ہے، فرمایا اللہ تعالیٰ نے: ”پوچھتے ہیں تجھ سے کلالے (کی میراث) کے متعلق، کہہ دے: تو اللہ تم کو حکم دیتا ہے کلالے میں، اگر کوئی شخص مر جائے اس کی اولاد نہ ہو اگر ایک بہن ہو تو اس کو آدھا متروکہ ملے گا، اگر بہن مر جائے تو وہ بھائی اس کے کل ترکے کا وارث ہوتا ہے جبکہ اس بہن کی اولاد نہ ہو، اگر دو بہنیں ہوں تو ان کو دو تہائی ملیں گے، اگر بھائی بہن ملے جلے ہوں تو مرد کو دوہرا حصّہ اور عورت کو ایک حصّہ ملے گا، اللہ تم سے بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ، اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔“ یہ وہ کلالہ ہے جس میں بھائی بہن عصبہ ہوجاتے ہیں، جب میّت کا بیٹا نہ ہو تو وہ داداکے ساتھ وارث ہوں گے کلالے میں۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1483B1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1483B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 7»