الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب ميراث الجدة
نانی اور دا دی کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 1482
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَتَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، فَأَرَادَ أَنْ يَجْعَلَ السُّدُسَ لِلَّتِي مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَمَا إِنَّكَ تَتْرُكُ الَّتِي لَوْ مَاتَتْ وَهُوَ حَيٌّ كَانَ إِيَّاهَا يَرِثُ، " فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ بَيْنَهُمَا"
حضرت ابوبکر بن عبدالرحمٰن حصّہ نہیں دلاتے تھے مگر نانی کو یا دادی کو۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ نانی ماں کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائے گی، البتہ اگر ماں نہ ہو تو اس کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور دادی ماں کے یا باپ کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائے گی، جب ماں باپ نہ ہوں تو اس کو چھٹا حصّہ ملے گا۔ اگر نانی اور دادی دونوں ہوں اور میّت کے ماں باپ جو نانی دادی سے زیادہ قریب ہیں نہ ہوں تو ان میں سے نانی اگر میّت کے ساتھ زیادہ قریب ہوگی تو اسی کو چھٹا حصّہ ملے گا(1)، اور جو دادی زیادہ قریب ہوگی(2) یا دونوں برابر ہوں(3) تو چھٹے میں دونوں شریک ہوں گے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میراث کسی کے واسطے نہیں ہے دادیوں اور نانیوں میں سے، مگر ماں کی ماں کو اگرچہ کتنی ہی دور ہو جائے(1)، ان کے سوا اور نانیوں(2) دادیوں(3) کو میراث (دینا مقرر) نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ دلایا نانی کو، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا پوچھا، جب ان کو بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کو ترکہ دلایا، انہوں نے دلایا، بعد اس کے دادی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں آئی، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں فرائض کو بڑھا نہیں سکتا، لیکن اگر تو بھی ہو اور نانی بھی ہو تو دونوں چھٹے حصّے کو بانٹ لیں، اور جو کوئی تم میں سے تنہا ہو تو وہ پورا چھٹا لے لے(4)۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب سے دین اسلام شروع ہوا ہے آج تک سوائے ان نانی اور دادی کے اور قسم کی نانی دادی کو کسی نے میراث نہیں دلائی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1482]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے جس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ نانی ماں کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائے گی، البتہ اگر ماں نہ ہو تو اس کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور دادی ماں کے یا باپ کے ہوتے ہوئے کچھ نہ پائے گی، جب ماں باپ نہ ہوں تو اس کو چھٹا حصّہ ملے گا۔ اگر نانی اور دادی دونوں ہوں اور میّت کے ماں باپ جو نانی دادی سے زیادہ قریب ہیں نہ ہوں تو ان میں سے نانی اگر میّت کے ساتھ زیادہ قریب ہوگی تو اسی کو چھٹا حصّہ ملے گا(1)، اور جو دادی زیادہ قریب ہوگی(2) یا دونوں برابر ہوں(3) تو چھٹے میں دونوں شریک ہوں گے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میراث کسی کے واسطے نہیں ہے دادیوں اور نانیوں میں سے، مگر ماں کی ماں کو اگرچہ کتنی ہی دور ہو جائے(1)، ان کے سوا اور نانیوں(2) دادیوں(3) کو میراث (دینا مقرر) نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکہ دلایا نانی کو، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کا پوچھا، جب ان کو بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کو ترکہ دلایا، انہوں نے دلایا، بعد اس کے دادی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں آئی، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں فرائض کو بڑھا نہیں سکتا، لیکن اگر تو بھی ہو اور نانی بھی ہو تو دونوں چھٹے حصّے کو بانٹ لیں، اور جو کوئی تم میں سے تنہا ہو تو وہ پورا چھٹا لے لے(4)۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب سے دین اسلام شروع ہوا ہے آج تک سوائے ان نانی اور دادی کے اور قسم کی نانی دادی کو کسی نے میراث نہیں دلائی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1482]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12345، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 6»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو بكر الصديق، أبو بكر | صحابي | |
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن القاسم بن محمد التيمي ← أبو بكر الصديق | ثقة أفضل أهل زمانه | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← القاسم بن محمد التيمي | ثقة ثبت |
حدیث نمبر: 1482B1
قَالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا، الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ، وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا، أَنَّ الْجَدَّةَ أُمَّ الْأُمِّ لَا تَرِثُ مَعَ الْأُمِّ دِنْيَا شَيْئًا، وَهِيَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ يُفْرَضُ لَهَا السُّدُسُ فَرِيضَةً. وَأَنَّ الْجَدَّةَ أُمَّ الْأَبِ لَا تَرِثُ مَعَ الْأُمِّ، وَلَا مَعَ الْأَبِ شَيْئًا. وَهِيَ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ يُفْرَضُ لَهَا السُّدُسُ فَرِيضَةً. فَإِذَا اجْتَمَعَتِ الْجَدَّتَانِ أُمُّ الْأَبِ، وَأُمُّ الْأُمِّ، وَلَيْسَ لِلْمُتَوَفَّى دُونَهُمَا أَبٌ وَلَا أُمٌّ. قَالَ مَالِكٌ: فَإِنِّي سَمِعْتُ أَنَّ أُمَّ الْأُمِّ، إِنْ كَانَتْ أَقْعَدَهُمَا، كَانَ لَهَا السُّدُسُ، دُونَ أُمِّ الْأَبِ. وَإِنْ كَانَتْ أُمُّ الْأَبِ أَقْعَدَهُمَا، أَوْ كَانَتَا فِي الْقُعْدَدِ مِنَ الْمُتَوَفَّى، بِمَنْزِلَةٍ سَوَاءٍ فَإِنَّ السُّدُسَ بَيْنَهُمَا، نِصْفَانِ.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 6»
حدیث نمبر: 1482B2
قَالَ مَالِكٌ: وَلَا مِيرَاثَ لِأَحَدٍ مِنَ الْجَدَّاتِ. إِلَّا لِلْجَدَّتَيْنِ. لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ الْجَدَّةَ. ثُمَّ سَأَلَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ ذَلِكَ. حَتَّى أَتَاهُ الثَّبَتُ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ وَرَّثَ الْجَدَّةَ. فَأَنْفَذَهُ. لَهَا ثُمَّ أَتَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لَهَا: مَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا. فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا، فَهُوَ بَيْنَكُمَا وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 6»
حدیث نمبر: 1482B3
قَالَ مَالِكٌ: ثُمَّ لَمْ نَعْلَمْ أَحَدًا وَرَّثَ غَيْرَ جَدَّتَيْنِ. مُنْذُ كَانَ الْإِسْلَامُ إِلَى الْيَوْمِ.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 6»
القاسم بن محمد التيمي ← أبو بكر الصديق