موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي دِيَةِ جِرَاحِ الْعَبْدِ
غلام کے زخموں کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 1520B1
قَالَ مَالِك: وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّ فِي مُوضِحَةِ الْعَبْدِ نِصْفَ عُشْرِ ثَمَنِهِ، وَفِي مُنَقِّلَتِهِ الْعُشْرُ وَنِصْفُ الْعُشْرِ مِنْ ثَمَنِهِ، وَفِي مَأْمُومَتِهِ وَجَائِفَتِهِ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا ثُلُثُ ثَمَنِهِ، وَفِيمَا سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ الْأَرْبَعِ، مِمَّا يُصَابُ بِهِ الْعَبْدُ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِهِ، يُنْظَرُ فِي ذَلِكَ بَعْدَ مَا يَصِحُّ الْعَبْدُ وَيَبْرَأُ، كَمْ بَيْنَ قِيمَةِ الْعَبْدِ بَعْدَ أَنْ أَصَابَهُ الْجُرْحُ، وَقِيمَتِهِ صَحِيحًا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهُ هَذَا، ثُمَّ يَغْرَمُ الَّذِي أَصَابَهُ مَا بَيْنَ الْقِيمَتَيْنِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ غلام کے موضحہ میں اس کی قیمت کا بیسواں حصّہ اور منقلہ میں دسواں حصّہ اور بیسواں حصّہ اور مامومہ اور جائفہ میں تیسرا حصّہ دینا ہوگا، سوائے ان کے اور طرح کے زخموں میں جس قدر قیمت میں نقصان ہو گیا دینا ہوگا، جب وہ غلام اچھا ہو جائے تب دیکھیں گے کہ اس کی قیمت اس زخم سے پہلے کیا تھی اور اب کتنی ہے۔ جس قدر کمی ہوگی وہ دینی ہو گی۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1520B1]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1520B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 8ق3»
حدیث نمبر: 1520B2
قَالَ مَالِك، فِي الْعَبْدِ إِذَا كُسِرَتْ يَدُهُ أَوْ رِجْلُهُ ثُمَّ صَحَّ كَسْرُهُ: فَلَيْسَ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ شَيْءٌ، فَإِنْ أَصَابَ كَسْرَهُ ذَلِكَ نَقْصٌ أَوْ عَثَلٌ كَانَ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ قَدْرُ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جب غلام کا ہاتھ یا پاؤں کوئی شخص توڑ ڈالے، پھر وہ اچھا ہو جائے تو کچھ تاوان نہیں ہوگا، البتہ اگر کسی قدر نقصان رہ جائے تو اس کا تاوان دینا ہوگا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1520B2]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1520B2]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 8ق3»
حدیث نمبر: 1520B3
قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الْقِصَاصِ بَيْنَ الْمَمَالِيكِ كَهَيْئَةِ قِصَاصِ الْأَحْرَارِ نَفْسُ الْأَمَةِ بِنَفْسِ الْعَبْدِ وَجُرْحُهَا بِجُرْحِهِ، فَإِذَا قَتَلَ الْعَبْدُ عَبْدًا عَمْدًا خُيِّرَ سَيِّدُ الْعَبْدِ الْمَقْتُولِ، فَإِنْ شَاءَ قَتَلَ وَإِنْ شَاءَ أَخَذَ الْعَقْلَ، فَإِنْ أَخَذَ الْعَقْلَ أَخَذَ قِيمَةَ عَبْدِهِ، وَإِنْ شَاءَ رَبُّ الْعَبْدِ الْقَاتِلِ أَنْ يُعْطِيَ ثَمَنَ الْعَبْدِ الْمَقْتُولِ فَعَلَ، وَإِنْ شَاءَ أَسْلَمَ عَبْدَهُ فَإِذَا أَسْلَمَهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُ ذَلِكَ، وَلَيْسَ لِرَبِّ الْعَبْدِ الْمَقْتُولِ إِذَا أَخَذَ الْعَبْدَ الْقَاتِلَ وَرَضِيَ بِهِ أَنْ يَقْتُلَهُ، وَذَلِكَ فِي الْقِصَاصِ كُلِّهِ بَيْنَ الْعَبِيدِ فِي قَطْعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ بِمَنْزِلَتِهِ فِي الْقَتْلِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ غلاموں میں اور لونڈیوں میں قصاص کا حُکم مثل آزادوں کے ہوگا، اگر غلام لونڈی کو قصداً قتل کرے تو غلام بھی قتل کیا جائے گا، اگر اس کو زخمی کرے وہ بھی زخمی کیا جائے گا، ایک غلام نے دوسرے غلام کو عمداً مار ڈالا تو مقتول کے مولیٰ کو اختیار ہوگا، چاہے قاتل کو قتل کرے چاہے دیت یعنی اپنے غلام کی قیمت لے لے۔ قاتل کے مولیٰ کو اختیار ہے چاہے مقتول کی قیمت ادا کرے اور قاتل کو اپنے پاس رہنے دے، چاہے قاتل ہی کو حوالے کردے، اس سے زیادہ اور کچھ لازم نہ آئے گا۔ اب جب مقتول کا مولیٰ دیت پر راضی ہو کر قاتل کو لے لے تو پھر اس کو قتل نہ کرے۔ اسی طرح اگر ایک غلام دوسرے غلام کا ہاتھ یا پاؤں کاٹے تو اس کے قصاص کا بھی یہی حکم ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1520B3]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1520B3]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 8ق3»
حدیث نمبر: 1520B4
قَالَ مَالِك، فِي الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ يَجْرَحُ الْيَهُودِيَّ أَوِ النَّصْرَانِيَّ: إِنَّ سَيِّدَ الْعَبْدِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَعْقِلَ عَنْهُ مَا قَدْ أَصَابَ فَعَلَ، أَوْ أَسْلَمَهُ فَيُبَاعُ فَيُعْطِي الْيَهُودِيَّ أَوِ النَّصْرَانِيَّ مِنْ ثَمَنِ الْعَبْدِ دِيَةَ جُرْحِهِ أَوْ ثَمَنَهُ كُلَّهُ إِنْ أَحَاطَ بِثَمَنِهِ، وَلَا يُعْطِي الْيَهُودِيَّ وَلَا النَّصْرَانِيَّ عَبْدًا مُسْلِمًا
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مسلمان غلام کسی یہودی یا نصرانی کو زخمی کرے تو غلام کے مولیٰ کو اختیار ہے، چاہے دیت دے یا غلام کو حوالے کر دے، تو اس غلام کو بیچ کر اس کی دیت ادا کریں گے، مگر وہ غلام یہودی یا نصرانی کے پاس رہ نہیں سکتا (کیونکہ مسلمان کو کافر کا محکوم کرنا درست نہیں)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1520B4]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 8ق3»
15. بَابُ مَا جَاءَ فِي دِيَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ
کافر ذمی کی دیت کا بیان
حدیث نمبر: 1521
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ " قَضَى أَنَّ دِيَةَ الْيَهُودِيِّ أَوِ النَّصْرَانِيِّ إِذَا قُتِلَ أَحَدُهُمَا مِثْلُ نِصْفِ دِيَةِ الْحُرِّ الْمُسْلِمِ" . قَالَ مَالِك: الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، إِلَّا أَنْ يَقْتُلَهُ مُسْلِمٌ قَتْلَ غِيلَةٍ فَيُقْتَلُ بِهِ.
حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کہا کہ یہودی یا نصرانی کی دیت آزاد مسلمان کی دیت سے آدھی ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے گا، مگر جب مسلمان فریب سے اس کو دھوکہ دے کر مار ڈالے تو قتل کیا جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1521]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے گا، مگر جب مسلمان فریب سے اس کو دھوکہ دے کر مار ڈالے تو قتل کیا جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1521]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16447، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18478، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 8ق4»
حدیث نمبر: 1522
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، كَانَ يَقُولُ: " دِيَةُ الْمَجُوسِيِّ ثَمَانِيَ مِائَةِ دِرْهَمٍ"
حضرت سلیمان بن یسار کہتے تھے کہ مجوسی (فارسی آتش پرست) کی دیت آٹھ سو درہم ہے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1522]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16436، 16438، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10285، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28027، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 8ق5»
حدیث نمبر: 1522B1
قَالَ مَالِك: وَهُوَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا. قَالَ مَالِك: وَجِرَاحُ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ وَالْمَجُوسِيِّ فِي دِيَاتِهِمْ عَلَى حِسَابِ جِرَاحِ الْمُسْلِمِينَ فِي دِيَاتِهِمُ الْمُوضِحَةُ نِصْفُ عُشْرِ دِيَتِهِ، وَالْمَأْمُومَةُ ثُلُثُ دِيَتِهِ، وَالْجَائِفَةُ ثُلُثُ دِيَتِهِ، فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ جِرَاحَاتُهُمْ كُلُّهَا
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ کہا امام مالک رحمہ اللہ نے کہ یہودی یانصرانی کے زخموں کی دیت اسی حساب سے ہے: موضحہ میں بیسواں حصّہ اور مامومہ اور جائفہ میں تیسرا حصّہ «(وقس على هذا)» ۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1522B1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 8ق5»
16. بَابُ مَا يُوجِبُ الْعَقْلَ عَلَى الرَّجُلِ فِي خَاصَّةِ مَالِهِ
جن جنایات کی دیت خاص قاتل کو اپنے مال میں سے ادا کرنی پڑتی ہے (یعنی عاقلہ سے نہیں لی جاتی) ان کا بیان
حدیث نمبر: 1523
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " لَيْسَ عَلَى الْعَاقِلَةِ عَقْلٌ فِي قَتْلِ الْعَمْدِ، إِنَّمَا عَلَيْهِمْ عَقْلُ قَتْلِ الْخَطَإِ"
حضرت عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ قتلِ عمد میں عاقلہ پر دیت نہیں ہے (بلکہ قاتل کی ذات پر ہے)، عاقلہ پر خطاء کی دیت ہے۔ (عاقلہ کی یعنی کسی کی طرف سے ادا کرنے والا)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1523]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، أخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16459، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28001، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17831، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 8ق6»
حدیث نمبر: 1524
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" مَضَتِ السُّنَّةُ أَنَّ الْعَاقِلَةَ لَا تَحْمِلُ شَيْئًا مِنْ دِيَةِ الْعَمْدِ إِلَّا أَنْ يَشَاءُوا ذَلِكَ" .
حضرت ابن شہاب نے کہا کہ عاقلہ پر عمداً خون کرنے کا بار نہیں ڈالا جاتا، مگر خوشی سے دینا چاہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1524]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16460، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17812، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28003، فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 8ق7»
حدیث نمبر: 1525
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
حضرت یحییٰ بن سعید نے بھی ایسا ہی کہا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1525]
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1525]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 43 - كِتَابُ الْعُقُولِ-ح: 8ق7»