صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
130. ( 129) بَابُ التَّغْلِيظِ فِي الْمَسْحِ عَلَى الرِّجْلَيْنِ، وَتَرْكِ غَسْلِهِمَا فِي الْوُضُوءِ،
وضو میں پاؤں پر مسح کرنے اور انہیں نہ دھونے پر وعید کا بیان
حدیث نمبر: Q166
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْمَاسِحَ لِلْقَدَمَيْنِ التَّارِكَ لِغَسْلِهِمَا مُسْتَوْجِبٌ لِلْعِقَابِ بِالنَّارِ، إِلَّا أَنْ يَعْفُوَ اللَّهُ وَيَصْفَحَ- نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عِقَابِهِ-.
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ پاؤں کو دھونے کی بجائے اُن کا مسح کرنے والا آگ کے عذاب کا مستحق ہے۔ سوائے اس کے کہ اللہ تعالی معاف فرمادے اور درگزر کرے، ہم اللہ تعالی کے عذاب سے اُس کی پناہ مانگتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: Q166]
حدیث نمبر: 166
نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: تَخَلَّفَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلاةُ صَلاةُ الْعَصْرِ، وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ أَرْجُلَنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا: " وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَفَّانَ بْنِ مُسْلِمٍ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیھچے رہ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچے اور ہمیں عصر کی نماز نے جلدی میں ڈال دیا تھا اور ہم (جلدی جلدی) وضو کر رہے تھے۔ ہم اپنے قدموں کا مسح کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ دیکھ کر کہ ہم پاؤں پوری طرح دھونے کے بجائے اُن کا مسح کر رہے ہیں) دو یا تین بار بآوازِ بلند فرمایا: ”(خشک رہ جانے والی) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ یہ عفان بن مسلم کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 60، 96، 163، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 241، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 161، 166، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1055، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 111، وأبو داود فى (سننه) برقم: 97، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 450، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 320، 321، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6639»
131. ( 130) بَابُ غَسْلِ أَنَامِلِ الْقَدَمَيْنِ فِي الْوُضُوءِ،
وضو میں پاؤں کی انگلیاں دھونے کا بیان
حدیث نمبر: Q167
وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْفَرْضَ غَسْلُهُمَا لَا مَسْحُهُمَا.
اور اس میں دلیل ہے کہ دونوں پاؤں دھونا فرض ہے ان کا مسح کرنا نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: Q167]
حدیث نمبر: 167
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا أَبُو عَامِرٍ ، نا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَامِرٍ وَهُوَ ابْنُ شَقِيقِ بْنِ حَمْزَةَ الأَسَدِيُّ ، عَنْ شَقِيقٍ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ " يَتَوَضَّأُ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَغَسَلَ أَنَامِلَهُ، وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ"، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ كَالَّذِي رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ
حضرت ابووائل شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو تین تین بار وضو کرتے ہوئے دیکھا، اور اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصّےکا مسح کیا، اوراپنے دونوں قدم تین تین باردھوئے، اوراپنی اُنگلیاں دھوئیں، اپنی داڑھی کا خلال کیا، اور اپنا چہرہ دھویا، اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس طرح (وضو) کرتے ہوئے دیکھا ہے جیسے تم نے مجھے کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 226، وابن الجارود فى "المنتقى"، 74، 79، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2، 3، 151، 152، 158، 167، 1489، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 360، 1041، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 529، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 84، وأبو داود فى (سننه) برقم: 106، والترمذي فى (جامعه) برقم: 31، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 285، 285 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 214، والدارقطني فى (سننه) برقم: 271، وأحمد فى (مسنده) برقم: 407»
132. ( 131) بَابُ تَخْلِيلِ أَصَابِعِ الْقَدَمَيْنِ فِي الْوُضُوءِ.
وضو میں پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا
حدیث نمبر: Q168
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ ذَكَرْنَا خَبَرَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَخْلِيلِ أَصَابِعِ الْقَدَمَيْنِ ثَلَاثًا.
امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم پاؤں کی اُنگلیوں کے تین بار خلال کے متعلق سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کر چکے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: Q168]
حدیث نمبر: 168
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَيَانٍ الْمَدَائِنِيُّ ، وَجَمَاعَةٌ غَيْرُهُمْ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: " أَسْبَغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلِ الأَصَابِعَ، وَبَالِغْ فِي الاسْتِنْشَاقِ إِلا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا"
سیدنا لقیط بن صبره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے وضو کے متعلق بیان فرمایئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمّل وضو کرو، اُنگلیوں کا خلال کرو، اور اگر تم روزے کی حالت میں نہ ہو تو ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 168]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 88، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 150، 168، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1054، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 524، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 87، وأبو داود فى (سننه) برقم: 142، 3973، والترمذي فى (جامعه) برقم: 38، 788، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 407، 448، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 228، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16642»
133. ( 132) بَابُ صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تین تین بار وضو کرنے کی کیفیت کا بیان
حدیث نمبر: 169
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي صِفَةِ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا.
امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین تین بار وضو کرنے کی کیفیت کے متعلق سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم کی احادیث (ذکر ہو چکی) ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 169]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 169»
134. ( 133) بَابُ إِبَاحَةِ الْوُضُوءِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ.
دو دو بار وضو کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 170
نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَبِيرٍ الصُّورِيُّ بِالْفُسْطَاطِ ، نا شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ، نا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا فُلَيْحٌ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ"
سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سےروایت ہےکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےدو دو مرتبہ وضو کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 170]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 158، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 170، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 375، والدارقطني فى (سننه) برقم: 310، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16727»
135. ( 134) بَابُ إِبَاحَةِ الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً
ایک ایک مرتبہ وضو کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: Q171
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ غَاسِلَ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً مُؤَدٍّ لِفَرْضِ الْوُضُوءِ؛ إِذْ غَاسِلُ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً وَاقِعٌ عَلَيْهِ اسْمُ غَاسِلٍ، وَاللَّهُ- عَزَّ وَجَلَّ- أَمَرَ بِغَسْلِ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ بِلَا ذِكْرِ تَوْقِيتٍ، وَفِي وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً مَرَّةً، وَمَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَثَلَاثًا ثَلَاثًا وَغَسْلِ بَعْضِ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ شَفْعًا، وَبَعْضِهِ وِتْرًا دِلَالَةٌ عَلَى أَنَّ هَذَا كُلَّهُ مُبَاحٌ، وَأَنَّ كُلَّ مَنْ فَعَلَ فِي الْوُضُوءِ مَا فَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ مُؤَدٍّ لِفَرْضِ الْوُضُوءِ؛ لِأَنَّ هَذَا مِنَ اخْتِلَافِ الْمُبَاحِ، لَا مِنَ اخْتِلَافِ الَّذِي بَعْضُهُ مُبَاحٌ وَبَعْضُهُ مَحْظُورٌ.
اور اس دلیل کا بیان کہ اعضائے وضو ایک ایک بار دھونے والے پر بھی غاسل (دھونے والے) کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور الله تعالی نے مقدار کے تعین کے بغیر اعضائے وضو کو دھونے کا حکم دیا ہے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک، دو دو اور تین تین مرتبه اعضائے وضو کو دھونے اور بعض کو جفت اور بعض کو طاق مرتبہ دھونے میں یہ دلیل ہے کہ (وضو میں) یہ سب طریقے جائز ہیں۔ اور جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف اوقات میں وضو کے مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقے پرعمل کرلے وہ فرض وضو کو ادا کرنے والا ہوگا۔ کیونکہ یہ (وضو کے) مباح (طریقوں) کا اختلاف ہے یہ ایسا اختلاف نہیں کہ جس میں بعض (طریقے) مباح ہوں اور بعض ممنوع اور ناجائز ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: Q171]
حدیث نمبر: 171
نا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضو کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الوضوء وسننه/حدیث: 171]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 140، 157، وابن الجارود فى "المنتقى"، 76، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 148، 171، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1076، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 80، وأبو داود فى (سننه) برقم: 133، 137، 138، والترمذي فى (جامعه) برقم: 36، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 403، 411، 439، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 231،وأحمد فى (مسنده) برقم: 1914»