🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
579. (346) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي إِصْلَاحِ الْمُصَلِّي ثَوْبَهُ فِي الصَّلَاةِ
نمازی کو نماز میں اپنے کپڑے درست کرنے کی اجازت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 906
ناهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَيْسَ فِي حَدِيثِ عَفَّانَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي ثَوْبِهِ
امام صاحب اپنے استاد جناب محمد بن یحییٰ کی سند سے روایت بیان کرتے ہیں مکر عفان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اپنے کپڑے میں داخل کرلیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 906]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 457، 477، 478، 479، 480، 594، 641، 642، 690، 691، 697، 698، 713، 714، 905، 906، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1805، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 878، وأبو داود فى (سننه) برقم: 723، 725، 724، والترمذي فى (جامعه) برقم: 248، 249، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 810، 854، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2342، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19143»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
580. (347) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النُّعَاسَ فِي الصَّلَاةِ لَا يُفْسِدُ الصَّلَاةَ وَلَا يَقْطَعُهَا
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں اونگھ آنا نماز کو فاسد نہیں کرتا اور نہ نماز ٹوٹتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 907
نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ كُرَيْبٍ ، نَا أَبُو أُسَامَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ، فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ ؛ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ" هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عِيسَى. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي الْخَبَرِ دَلالَةٌ عَلَى أَنَّ النُّعَاسَ لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ، إِذْ لَوْ كَانَ النُّعَاسُ يَقْطَعُ الصَّلاةَ لَمَا كَانَ، لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنَّهُ لا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ مَعْنًى، وَقَدْ أَعْلَمَ بِهَذَا الْقَوْلِ أَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَنَا الانْصِرَافَ مِنَ الصَّلاةِ خَوْفَ سَبِّ النَّفْسِ عِنْدَ إِرَادَةِ الدُّعَاءِ لَهَا، لا أَنَّهُ فِي غَيْرِ صَلاةٍ إِذَا نَعَسَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے (نماز ختم کر کے) سو جانا چاہیے حتیٰ کہ اس کی نیند ختم ہو جاۓ کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص اونگھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے تو شاید وہ استغفار کرنا چاہتا ہو مگر (اونگھ کی وجہ سے) اپنے آپ کو بددعا دے بیٹھے۔ یہ عیسیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں دلیل ہے کہ اونگھ سے نماز نہیں ٹوٹتی کیونکہ اگر اونگھ سے نماز ٹوٹ جاتی تو پھرنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا کوئی معنی نہیں بنتا کہ وہ نہیں جانتا شاید کہ وہ دعا و استغفار کرنا چاہتا ہو (مگر اونگھ کی وجہ سے) اپنے لئے بددعا کر بیٹھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز چھوڑ دینے کا حُکم اس خدشے کی وجہ سے دیا ہے کہ کہیں نمازی دعا کی بجاۓ اپنے لئے بددعا نہ کر بیٹھے۔ یہ مطلب نہیں کہ جب اسے اونگھ آجاۓ تو وہ نماز میں نہیں رہتا (اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 907]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 212، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 786، ومالك فى (الموطأ) برقم: 387، ومالك فى (الموطأ) برقم: 387، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 907، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2583، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 162، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 153، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1310، والترمذي فى (جامعه) برقم: 355، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1370، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4803،وأحمد فى (مسنده) برقم: 24925»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں