🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
703. (470) بَابُ إِبَاحَةِ الْقِرَاءَةِ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِنْهُمَا بِآيَةٍ وَاحِدَةٍ سِوَى فَاتِحَةِ الْكِتَابِ،
نمازِ فجر کی دو سنّتوں کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے علاوہ ایک آیت کی تلاوت کرنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1115
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنِ ابْنِ يَسَارٍ وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " أَكْثَرُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ، إِلَى آخِرِ الآيَةِ، وَفِي الأُخْرَى قُلْ يَأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ، إِلَى قَوْلِهِ اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 64
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فجر کی دو رکعات (سنّت) میں یہ آیت (آخر تک) تلاوت فرماتے تھے: «‏‏‏‏قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ» ‏‏‏‏ ”تم کہو، ہم اللہ پر ایمان لائے، اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا ہے اور جو ابراہیم پر نازل کیا گیا“ آخر آیت تک [ سوره البقرۃ: 136 ] اور دوسری رکعت میں یہ آیت پڑھتے «‏‏‏‏قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ۔۔۔ اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ» ‏‏‏‏ [ سورة آل عمران: 64 ] ”آپ کہہ دیجیے، اے اہل کتاب ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔۔۔۔ اس بات کے گواہ رہو کہ بیشک ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1115]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 727، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1115، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1156، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 943، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1259، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4952، 4953، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2066»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
704. (471) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَقَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ إِذَا فَاتَتَا قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ
نماز فجر کی دو سنّتیں جب نمازی صجح کی نماز سے پہلے نہ پڑھ سکے تو وہ نماز کے بعد اور سورج طلوع ہونے سے پہلے پڑھ سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1116
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، وَنَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو ،" أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، وَلَمْ يَكُنْ رَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيْهِ" حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَيْسٍ جَدِّ سَعْدٍ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ؟" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَكْعَتَا الْفَجْرِ لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُهُمَا، فَهُمَا هَاتَانِ، قَالَ:" فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
سیدنا قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز ادا کی جبکہ اُنہوں نے فجر کی دو سنّتیں ادا نہیں کی تھیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو وہ کھڑے ہوئے اور فجر کی دو سنّتیں ادا کیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روکا نہیں۔ جناب سعد کے دادا سیدنا قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز اداکی، پھر اُنہوں نے اُٹھ کر دو رکعات (سنّت) پڑھنی چاہیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ دو رکعتیں کونسی ہیں؟“ اُنہوں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، یہ فجر کی دو سنّتیں ہیں، میں انہیں ادا نہیں کر سکا تھا،۔ تو وہ یہ دو رکعتیں ہیں پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1116]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1116، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1563، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1022، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1267، والترمذي فى (جامعه) برقم: 422، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1154، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4462، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1439، 1440، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24257، 24258، والحميدي فى (مسنده) برقم: 892»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
705. (472) بَابُ قَضَاءِ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ إِذَا نَسِيَهُمَا الْمَرْءُ
جب آدمی فجر کی دو سنّتیں بھول جائے تو انہیں سورج طلوح ہونے کے بعد قضا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1117
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَعَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، حَدَّثَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ عَاصِمٍ ، نَا هَمَّامٌ ، نَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ نَسِيَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرَ، فَلْيُصَلِّهِمَا إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز فجر کی دو سنّتیں بھول جائے تو وہ انہیں سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھ لے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1117]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1117، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2472، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1020، 1157، والترمذي فى (جامعه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4628، 4629، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1436»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
706. (473) بَابُ قَضَاءِ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ
سورج طلوع ہونے کے بعد فجر کی دو سنّتوں کو قضا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1118
إِذَا نَامَ الْمَرْءُ عَنْهُمَا فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ
جبکہ نمازی انہیں ادا کرنے سے سو یا رہ جائے اور سورج طلوع ہونے کے بعد بیدار ہو [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: Q1118]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1118
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَعْرَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ؛ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ"، فَفَعَلْنَا، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ حِينَ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، وَصَلَّى الْغَدَاةَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں رات کے آخری حصّے میں آرام کے لئے پڑاؤ ڈالا، پھر ہم سورج طلوع ہونے کے بعد ہی بیدار ہوئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر شخص اپنی سواری کی لگام پکڑ لے (اور یہاں سے چل دے) کیونکہ اس جگہ شیطان ہمارے پاس آ گیا ہے۔ (اور ہماری نماز فوت ہو گئی ہے)“ چنانچہ ہم نے حُکم کی تعمیل کی (کچھ آگے جا کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا پھر اذان کے بعد دو رکعات سنّت ادا کیں اور نماز فجر پڑھائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1118]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 680، ومالك فى (الموطأ) برقم: 35، ابن الجارود فى "المنتقى"، 266، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 988، 999، 1118، 1252، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1459، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 617، وأبو داود فى (سننه) برقم: 435، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3163، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 697، 1155، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1924، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9665»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
707. (474) بَابُ الدُّعَاءِ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
نماز فجر کی دو سنّتوں کے بعد دعا مانگنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1119
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ ، حَدَّثَنَا آدَمُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَعَثَنِي الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ مُمْسِيًا، وَهُوَ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ تَهْدِي بِهَا قَلْبِي، وَتَجْمَعُ بِهَا شَمْلِي، وَتَلُمُّ بِهَا شَعْثِي، وَتَرُدُّ بِهَا الْغَيَّ، وَتُصْلِحُ بِهَا دِينِي، وَتَحْفَظُ بِهَا غَائِبِي، وَتَرْفَعُ بِهَا شَاهِدِي، وَتُزَكِّي بِهَا عَمَلِي، وَتُبَيِّضَ بِهَا وَجْهِي، وَتُلْهِمُنِي بِهَا رُشْدِي، وَتَعْصِمُنِي بِهَا مِنْ كُلِّ سَوْءٍ، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي إِيمَانًا صَادِقًا، وَيَقِينًا لَيْسَ بَعْدَهُ كُفْرٌ، وَرَحْمَةً أَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْفَوْزَ عِنْدَ الْقَضَاءِ، وَنُزُلَ الشُّهَدَاءِ، وَعَيْشَ السُّعَدَاءِ، وَمُرَافَقَةَ الأَنْبِيَاءِ، وَالنَّصْرَ عَلَى الأَعْدَاءِ، اللَّهُمَّ أُنْزِلُ بِكَ حَاجَتِي، وَإِنْ قَصُرَ رَأْيِي، وَضَعُفَ عَمَلِي، وَافْتَقَرْتُ إِلَى رَحْمَتِكَ، فَأَسْأَلُكَ يَا قَاضِيَ الأُمُورِ، وَيَا شَافِيَ الصُّدُورِ، كَمَا تُجِيرُ بَيْنَ الْبُحُورِ أَنْ تُجِيرَنِي مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ، وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُورِ، وَمَنْ فِتْنَةِ الْقُبُورِ، اللَّهُمَّ مَا قَصُرَ عَنْهُ رَأْيِي، وَضَعُفَ عَنْهُ عَمَلِي، وَلَمْ تَبْلُغْهُ نِيَّتِي مِنْ خَيْرٍ وَعَدْتَهُ أَحَدًا مِنْ عِبَادِكَ، أَوْ خَيْرٍ أَنْتَ مُعْطِيهِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، فَإِنِّي أَرْغَبُ إِلَيْكَ فِيهِ، وَأَسْأَلُكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ غَيْرَ ضَالِّينَ وَلا مُضِلِّينَ، حَرْبًا لأَعْدَائِكَ، سِلْمًا لأَوْلِيَائِكَ، نُحِبُّ بِحُبِّكَ النَّاسَ، وَنُعَادِي بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ، اللَّهُمَّ هَذَا الدُّعَاءُ وَعَلَيْكَ الاسْتِجَابَةُ أَوِ الإِجَابَةُ شَكَّ ابْنُ خَلَفٍ وَهَذَا الْجَهْدُ وَعَلَيْكَ التُّكْلانُ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، اللَّهُمَّ ذَا الْحَبْلِ الشَّدِيدِ، وَالأَمْرِ الرَّشِيدِ، أَسْأَلُكَ الأَمْنَ يَوْمَ الْوَعِيدِ، وَالْجَنَّةَ يَوْمَ الْخُلُودِ مَعَ الْمُقَرَّبِينَ الشُّهُودِ، الرُّكَّعِ السُّجُودِ، الْمُوفِينَ بِالْعُهُودِ، إِنَّكَ رَحِيمٌ وَدُودٌ، وَأَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ، سُبْحَانَ الَّذِي تَعَطَّفَ الْعِزَّ وَقَالَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لَبِسَ الْمَجْدَ وَتَكَرَّمَ بِهِ، سُبْحَانَ الَّذِي لا يَنْبَغِي التَّسْبِيحُ إِلا لَهُ، سُبْحَانَ الَّذِي أَحْصَى كُلَّ شَيْءٍ فَعَلِمَهُ، سُبْحَانَ ذِي الْفَضْلِ وَالنِّعَمِ، سُبْحَانَ ذِي الْقُدْرَةِ وَالْكَرَمِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُورًا فِي قَلْبِي، وَنُورًا فِي قَبْرِي، وَنُورًا فِي سَمْعِي، وَنُورًا فِي بَصَرِي، وَنُورًا فِي شَعْرِي، وَنُورًا فِي بَشَرِي وَنُورًا فِي لَحْمِي، وَنُورًا فِي دَمِي، وَنُورًا فِي عِظَامِي، وَنُورًا بَيْنَ يَدَيَّ، وَنُورًا مِنْ خَلْفِي، وَنُورًا عَنْ يَمِينِي، وَنُورًا عَنْ شِمَالِي، وَنُورًا مِنْ فَوْقِي، وَنُورًا مِنْ تَحْتِي، اللَّهُمَّ زِدْنِي نُورًا، وَأَعْطِنِي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي نُورًا"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شام کو حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خالہ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے۔ چنانچہ (رات کے وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُٹھ کر نماز تہجّد پڑھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو سنّتیں ادا کیں تو یہ دعا مانگی۔ «‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ تَهْدِي بِهَا قَلْبِي، وَتَجْمَعُ بِهَا شَمْلِیْ، وَتَلُمُّ بِهَا شَعَثِي، وَتَرُدُّ بِهَا الْغَیِّ، وَتُصْلِحُ بِهَا دِیْنِیْ، وَتَحْفَظُ بِهَا غَائِبِي، وَتَرْفَعُ بِهَا شَاهِدِي، وَتُزَكِّي بِهَا عَمَلِي، وَتَبْیَضُّ بِھَا وَجْھِیْ، وَتُلْهِمُنِي بِهَا رُشَدِي، وَتَعْصِمُنِي بِهَا مِنْ كُلِّ سُوءٍ، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي إِيمَانًا صَادِقاً، وَيَقِينًا لَيْسَ بَعْدَهُ كُفْرٌ، وَرَحْمَةً أَنَالُ بِهَا شَرَفَ كَرَامَتِكَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْفَوْزَ فِي الْقَضَاءِ، وَنُزُلَ الشُّهَدَاءِ، وَعَيْشَ السُّعَدَاءِ، وَمَرَافَقَةَ الْأنْبِيَاءِ، وَالنَّصْرَ عَلَى الأَعْدَاءِ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أُنْزِلُ بِكَ حَاجَتِي وَإِنْ قَصُرَ رَأْيِي، وَضَعُفَ عَمَلِي، وَافْتَقَرْتُ إِلَى رَحْمَتِكَ، فَأَسْأَلُكَ يَا قَاضِيَ الأُمُورِ وَيَا شَافِيَ الصُّدُورِ كَمَا تُجِيرُ بَيْنَ الْبُحُورِ أَنْ تُجِيرَنِي مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ، وَمِنْ دَعْوَةِ الثُّبُورِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْقُبُورِ۔ اللَّهُمَّ مَا قَصُرَ عَنْهُ رَأْيِي، وَضَعُفَ عَنْهُ عَمَلِيْ، وَلَمْ تَبْلُغْهُ نِيَّتِي مِنْ خَيْرٍ وَعَدْتَّهُ أَحَدًا مِنْ عِبَادِكَ، أَوْ خَيْرٍ أَنْتَ مُعْطِيهِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، فَإِنِّي أَرْغَبُ إِلَيْكَ فِيهِ، وَأَسْأَلُكَ یَا رَبَّ الْعَالَمِينَ۔ اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا هُدَاۃً مُهْتَدِينَ، غَيْرَ ضَالِّينَ وَلاَ مُضِلِّينَ، وَحَرْباً لِأَعْدَائِكَ، سَلَمًا لِأَوْلِيَائِكَ، نُحِبُّ بِحُبِّكَ النَّاسَ، وَنُعَادِي بِعَدَاوَتِكَ مَنْ خَالَفَكَ۔ اللَّهُمَّ هَذَا الدُّعَاءُ، وَعَلَيْكَ الاِسْتِجَابَةُ، أَوِالْإِجَابَةُ، شَكَّ ابْنُ خَلْفٍ، وهٰذَا الْجَهْدُ، وَعَلَيْكَ التُّكْلَانُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَٰهِ۔ اللَّهُمَّ ذَا الْحَبْلِ الشَّدِيدِۃِ وَالأَمْرِ الرَّشِيدِ، أَسْأَلُكَ الأَمْنَ يَوْمَ الْوَعِيدِ، وَالْجَنَّةَ يَوْمَ الْخُلُودِ، مَعَ الْمُقَرَّبِينَ الشُّهُودِ، الرُّكَّعِ السُّجُودِ الْمُوفِينَ بِالْعُهُودِ، إِنَّكَ رَحِيمٌ وَدُودٌ، وَأَنْتَ تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ، سُبْحـانَ الَّذِي تُعْطِفُ الْعِزَّ وَقَالَ بِهٖ، سُبْحـانَ الَّذِي لَبِسَ الْمَجْدَ وَتَكَرَّمَ بِهٖ، سُبْحـانَ الَّذِي لاَ يَنْبَغِي التَّسْبِيْحُ إِلَّا لَهُ، سُبْحـانَ الَّذِي أَحْصٰی کُلَّ شَیْءٍ فَعَلَّمَهُ، سُبْحـانَ ذِی الْفَضْلِ وَالنَّعَمِ، سُبْحـانَ ذِی الْقُدْرَةِ وَالْكَرَمِ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِیْ نُوْرًا فِیْ قَلْبِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ قَبْرِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ سَمْعِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ بَصَرِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ شَعْرِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ بَشَرِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ لَحْمِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ دَمِیْ، وَ نُوْرًا فِیْ عِظَامِیْ، وَ نُوْرًا مِنْ بَیْنَ یَدَیَّ، وَ نُوْرًا مِنْ خَلْفِیْ، وَ نُوْرًا عَنْ یَمِیْنِیْ، وَ نُوْرًا عَنْ شِمَالِیْ، وَ نُوْرًا مِنْ فَوْقِیْ، وَ نُوْرًا مِنْ تَحْتِیْ، اَللّٰھُمَّ زِدْنِیْ نُوْرًا، وَ أَعْطِنِیْ نُوْرًا، وَ اجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا.» ‏‏‏‏ ” اے اللہ میں تجھ سے تیری عظیم رحمت کا سوال کرتا ہوں کہ جس کے ساتھ تو میرے دل کو ہدایت عطا فرما دے، تو اس کے ساتھ میرے متفرق امور کو جمع فرما دے اور میرے پراگندہ و منتشر کاموں کو اکٹھا فرما دے۔ میری کجی کو درست کردے، اس کے ساتھ میرے دین کی اصلاح فرما دے اور میرے باطنی اعمال کی حفاظت فرما دے، میرے ظاہری اعمال کو بلند و بالا فرما دے، اور اس کے ساتھ میرے اعمال کو پاکیزہ بنا دے، اس کے ساتھ میرے چہرے کو روشن فرما دے، اور مجھے اس کے ساتھ رشد و ہدایت والے کاموں کی توفیق عطا فرما (جن سے تیری رضا و خوشنودی حاصل ہو) مجھے اس کے ساتھ ہر برائی سے محفوظ فرما، اے اللہ، مجھے سچا ایمان اور ایسا عظیم یقین عطا فرما جس کے بعد کوئی کفر نہ ہو، اور ایسی عظیم رحمت نصیف فرما جس کے ساتھ میں دنیا و آخرت میں شرف و منزلت پالوں۔ اے اللہ، میں تجھ سے فیصلے کے وقت کامیابی، شہداء کا مقام و مرتبہ، سعادت مندوں کی زندگی، انبیائے کرام کی رفاقت اور دشمنوں پر غلبہ اور مدد کا طلبگار ہوں۔ اے اللہ، میں تیرے سامنے اپنی حاجت و ضرورت پیش کرتا ہوں اگرچہ میری عقل ناقص، اور میرا عمل ضعیف و کمزور ہے۔ میں تیری رحمت کا محتاج ہوں لہٰذا میں تجھ ہی سے مانگتا ہوں، اے معاملات کا فیصلہ فرمانے والے، اے سینوں کو (ریا کاری جیسے امراض سے) شفا دینے والے، تو جس طرح سمندروں کو (باہم) ملنے سے روکتا ہے، مجھے بھی جہنم کے عذاب سے پناہ عطا فرما۔ اور ہلاکت کی دعا کرنے سے محفوظ فرما۔ اور قبر کے فتنے سے بچا۔ اے اللہ، جس خیر و بھلائی (کے سوال تک) میری عقل نہ پہنچ سکی، اور میرا عمل بھی اس سے کمزور ہوا اور میری نیت و ارادہ بھی اس تک نہ پہنچ سکا اور تو نے اپنے بندوں میں سے کسی کے ساتھ اس کے عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہو یا وہ خیر و بھلائی جو تُو اپنی کسی مخلوق کو عطا کرنے والا ہو، تو میں بھی اس کی رغبت و شوق رکھتا ہوں، اور تجھ سے اس کا سوال کرتا ہوں، اے جہانوں کو پالنے والے۔ اے اللہ، ہمیں سیدھی راہ دکھانے والا ہدایت یافتہ بنا دے، گمراہ ہونے والا اور گمراہ کرے والے نہ بنانا، ہمیں اپنے دشمنوں کے لئے جنگ اور اپنے دوستوں کے لئے امن و سلامتی والا بنا - ہم تیری محبت کی بنا پر لوگوں سے محبت و پیار کریں، اور تیری دشمنی کی بدولت تیرے دشمنوں سے عداوت رکھیں۔ اے اللہ، یہ میری دعا ہے اور تو قبول و منظور فرما۔ اور یہ میری جدوجہد ہے اور تجھ پر ہی بھروسہ ہے۔ اور اللہ کی مدد و حمایت کے بغیر نیکی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی ہمت نہیں ہے - اے اللہ، مظبوط رسّی (دین) والے، اور درست و سیدھے معاملے والے، میں تجھ سے عذاب کے دن امن کا سوال کرتا ہوں، اور ہمیشگی کے دن جنّت مانگتا ہوں، اپنے پروردگار کا دیدار کرنے والے مقربین کے ساتھ کثرت سے رکوع و سجود کرنے والوں اور وعدہ پورا کرنے والوں کے ساتھ، بیشک تو بڑا مہربان اور محبت و شفقت کر نے والا ہے، اور تُو جو چاہتا ہے کر تا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے عزت کی چادر اوڑھی اور اُسے اپنے لئے خاص فرمایا۔ پاک ہے وہ ذات جس نے عظمت و کبریائی کا لباس پہنا اور اس کے ساتھ مکرم ہوا ـ پاک ہے وہ ذات کہ جس کے سوا کسی کے لئے تسبیح جائز نہیں ہے۔ وہ ذات پاک ہے جس نے ہر چیز کو شمار کیا اور وہ اُسے جانتا ہے۔ پاک ہے وہ ذات فضل و انعام والی۔ پاک ہے وہ ذات قدرت و کرم والی۔ اے اللہ، میرے دل میں نور ڈال دے، میری قبر میں نور کردے، میرے کانوں میں نور ڈال دے، میری آنکھوں میں نور پیدا کر دے، میرے بالوں میں نور ڈال دے، اور میری جلد میں نور پیدا فرما دے، میرے گوشت میں نور ڈال دے، میرے خون میں نور پیدا کر دے، میری ہڈیوں میں بھی نور، اور میرے سامنے بھی نور، اور میرے پیچھے بھی نور، میرے دائیں جانب بھی نور، میرے بائیں جانب بھی نور، میرے اوپر بھی ایک نور اور میرے نیچے بھی نور کر دے۔ اے اللہ، میرے نور میں اضافہ فرما، مجھے نور عطا فرما اور میرے لئے نور ہی نور پیدا فرمادے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1119]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، 697، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، 884، 1093، 1094، 1103، 1119، 1121، 1524، 1533، 1534، 1675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
708. (475) بَابُ اسْتِحْبَابِ الِاضْطِجَاعِ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
فجر کی دو سنّتوں کے بعد (دائیں کروٹ کے بل) لیٹنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1120
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ" ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يَكْفِي أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقِيلَ لَهُ: هَلْ تُنْكِرُ مِمَّا يَقُولُ شَيْئًا، قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ، وَجَبُنَّا، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: مَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسَوْا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص فجر کی دو سنّتیں ادا کرے تو اسے اپنی دائیں کروٹ پر لیٹنا چاہیے۔ تو مروان بن حکم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا تو کیا ہم میں سے کسی شخص کے لئے مسجد کی طرف چلنا کافی نہیں ہو گا۔ حتیٰ کہ وہ (سنّتیں پڑھ کر) لیٹ جائے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تک ان کی یہ بات پہنچی تو اُنہوں نے فرمایا کہ ابوہریرہ (ہمیں) بکثرت احادیث بیان کرتے ہیں تو ان سے عرض کی گئی کہ وہ جو بات بیان کر رہے ہیں کیا آپ اُس کا انکار کرتے ہیں؟ اُنہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ لیکن اُنہوں نے (بکثرت احادیث بیان کرنے میں) جرأت سے کام لیا اور ہم بزدل بنے رہے، لہٰذا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو اُنہوں نے فرمایا تو اس میں میرا کیا قصور ہے کہ میں نے (فرامین نبوی) یاد رکھے اور وہ بھول گئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1120]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1120، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2468، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1460، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1261، والترمذي فى (جامعه) برقم: 420، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1199، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4965، 4966، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9492، والبزار فى (مسنده) برقم: 9215، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 6443»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1121
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: زُرْتُ خَالَتِي، فَوَافَقْتُ لَيْلَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: " ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى سَمِعْتُ ضَفِيزَهُ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَخَرَجَ فَصَلَّى"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنی خالہ سے ملنے گیا اور میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی موافقت کی (یعنی یہ رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی میری خالہ کے ہاں تھی) آگے حدیث بیان کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت (سنّتیں) پڑھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خرّاٹے سنے پھر نماز کی اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور نماز پڑھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1121]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 117، 138، 183، 697، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 256،، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 127، 448، 449، 884، 1093، 1094، 1103، 1119، 1121، 1524، 1533، 1534، 1675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1445، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6335، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 441، وأبو داود فى (سننه) برقم: 58، 610، والترمذي فى (جامعه) برقم: 232، 3419، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 423، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 315، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1868»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
709. (476) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَرْكِ الِاضْطِجَاعِ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ،
فجر کی دو سنّتوں کے بعد نہ لیٹنے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1122
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ بِالِاضْطِجَاعِ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ أَمْرَ نَدْبٍ وَإِرْشَادٍ لَا أَمْرَ فَرْضٍ وَإِيجَابٍ، وَالرُّخْصَةِ فِي الْحَدِيثِ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1122
نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ حَتَّى يَقُومَ لِلصَّلاةِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعت (سنّت) ادا کرتے، پھر اگر میں جاگ رہی ہوتی تو میرے ساتھ بات چیت کر لیتے، اور اگر میں سوئی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کھڑے ہونے تک لیٹ جاتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1122]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1118، 1119، 1148، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 731، ومالك فى (الموطأ) برقم: 454، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1122، 1239، 1240، 1243، 1244، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2509، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1188، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1647، وأبو داود فى (سننه) برقم: 953، والترمذي فى (جامعه) برقم: 374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1226، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3084، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24706»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں