صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
709. (476) باب الرخصة فى ترك الاضطجاع بعد ركعتي الفجر،
فجر کی دو سنّتوں کے بعد نہ لیٹنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: Q1122
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ بِالِاضْطِجَاعِ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ أَمْرَ نَدْبٍ وَإِرْشَادٍ لَا أَمْرَ فَرْضٍ وَإِيجَابٍ، وَالرُّخْصَةِ فِي الْحَدِيثِ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
حدیث نمبر: 1122
نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ حَتَّى يَقُومَ لِلصَّلاةِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو رکعت (سنّت) ادا کرتے، پھر اگر میں جاگ رہی ہوتی تو میرے ساتھ بات چیت کر لیتے، اور اگر میں سوئی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کھڑے ہونے تک لیٹ جاتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الركعتين قبل الفجر وما فيها من السنن/حدیث: 1122]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1118، 1119، 1148، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 731، ومالك فى (الموطأ) برقم: 454، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1122، 1239، 1240، 1243، 1244، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2509، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1188، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1647، وأبو داود فى (سننه) برقم: 953، والترمذي فى (جامعه) برقم: 374، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1226، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3084، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24706»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1122 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1122
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ فجر کی سنتوں کے بعد اور فرض نماز کی اقامت سے قبل دائیں کروٹ لینا مستحب فعل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض اوقات فجر کی سنتوں کے بعد نہ لیٹنا بیانِ جواز کے لیے ہے۔
➋ دائیں پہلو لیٹنے کی حکمت یہ ہے کہ دل بائیں جانب ہوتا ہے، لہٰذا دائیں کروٹ لینے سے انسان نیند میں غرق نہیں ہوتا، بلکہ تھوڑی سی استراحت کے بعد وہ فرض نماز کے لیے بشاش ہو جاتا ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ فجر کی سنتوں کے بعد اور فرض نماز کی اقامت سے قبل دائیں کروٹ لینا مستحب فعل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض اوقات فجر کی سنتوں کے بعد نہ لیٹنا بیانِ جواز کے لیے ہے۔
➋ دائیں پہلو لیٹنے کی حکمت یہ ہے کہ دل بائیں جانب ہوتا ہے، لہٰذا دائیں کروٹ لینے سے انسان نیند میں غرق نہیں ہوتا، بلکہ تھوڑی سی استراحت کے بعد وہ فرض نماز کے لیے بشاش ہو جاتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1122]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1122 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق