صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
864. (631) بَابُ الْإِقَامَةِ لِصَلَاةِ الْخَوْفِ
نماز خوف کے لئے اقامت کہنے کا بیان-
حدیث نمبر: Q1364
وَقَدْ كُنْتُ بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ مَعَانِي الْقُرْآنِ، أَنَّ قَوْلَهُ تَعَالَى: فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ. تَحْمِلُ مَعْنَيَيْنِ: أَيْ صَلَّيْتَ لَهُمْ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي أَيْ أَمَرْتَ بِإِقَامَةِ الصَّلَاةِ لِاجْتِمَاعِ النَّاسِ لِلصَّلَاةِ، وَأَعْلَمْتُ أَنَّ هَذَا عَلَى هَذَا الْمَعْنَى مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْنَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا: أَنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْأَمْرِ، كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الْفَاعِلِ، فَإِذَا أَمَرَ الْإِمَامُ الْمُؤَذِّنَ بِالْإِقَامَةِ جَازَ أَنْ يُقَالَ: أَقَامَ الصَّلَاةَ إِذْ هُوَ الْآمِرُ بِهَا، فَأُقِيمَ بِأَمْرِهِ
میں کتاب معانی القرآن میں بیان کر چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: «فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ» [ سورة النساء: 102 ] ”آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) انہیں نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوں“ کے دو معنی ہو سکتے ہیں [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الخوف/حدیث: Q1364]
حدیث نمبر: Q1364
يْ صَلَّيْتَ لَهُمْ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي أَيْ أَمَرْتَ بِإِقَامَةِ الصَّلَاةِ لِاجْتِمَاعِ النَّاسِ لِلصَّلَاةِ، وَأَعْلَمْتُ أَنَّ هَذَا عَلَى هَذَا الْمَعْنَى مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْنَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا: أَنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْأَمْرِ، كَمَا تُضِيفُهُ إِلَى الْفَاعِلِ، فَإِذَا أَمَرَ الْإِمَامُ الْمُؤَذِّنَ بِالْإِقَامَةِ جَازَ أَنْ يُقَالَ: أَقَامَ الصَّلَاةَ إِذْ هُوَ الْآمِرُ بِهَا، فَأُقِيمَ بِأَمْرِهِ
حدیث نمبر: 1364
نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، نَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنِ الصَّلاةِ فِي السَّفَرِ، أَقْصُرُهُمَا؟ قَالَ: لا، إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، وَإِنَّمَا الْقَصْرُ وَاحِدَةٌ عِنْدَ الْقِتَالِ، ثُمَّ قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَتْ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً، وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا فِي وُجُوهِ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ تِلْكَ الطَّائِفَةُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ، فَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ جَابِرٍ: إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، أَرَادَ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ عَنْ صَلاةِ الْمُسَافِرِ
جنا ب یزید الفقیر بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، جبکہ اُن سے سوال کیا گیا کہ کیا سفر میں دو رکعت نماز قصر ہے؟ تو اُنہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ بیشک سفر میں دو رکعات نماز قصر نہیں ہے، بلکہ قصر نماز تو جنگ کے وقت ایک رکعت ادا کرنا ہے۔ پھر فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نماز کی اقامت کہی گئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک گروہ کھڑا ہوگیا۔ اور ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آراء تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کھڑے گروہ کو ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ پڑھائی۔ پھر وہ چلے گئے۔ اور اُن کی جگہ پر کھڑے ہو گئے جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے پھر وہ گروہ آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت اور دو سجدے ادا کرائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ کے پیچھے کھڑے ہونے والوں نے بھی سلام پھیر دیا اور (دشمن کے سامنے کھڑے) گروہ نے بھی سلام پھیرلیا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان کہ سفر میں دو رکعات نماز قصر نہیں۔ ان سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ دو رکعات مسافر کی نماز قصر نہیں ہے (بلکہ مسافر کی مکمّل نماز ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الخوف/حدیث: 1364]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1364، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1545، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1947»
865. (632) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْقِتَالِ وَالْكَلَامِ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ، قَبْلَ إِتْمَامِ الصَّلَاةِ، إِذَا خَافُوا غَلَبَةَ الْعَدُوِّ
نماز خوف کے دوران نماز کی تکمیل سے پہلے لڑائی اور گفتگو کرنے کی رخصت ہے جبکہ دشمن کے غلبے کا ڈر پیدا ہوجائے
حدیث نمبر: 1365
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، وَكَانَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، مُرْ أَصْحَابَكَ" فَيَقُومُوا طَائِفَتَيْنِ، طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ خَلَّفَكَ، فَتُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْكَعُ وَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَتَقُومُ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ قَامَ الَّذِينَ يَلُونَكَ وَخَرَّ الآخَرُونَ سُجَّدًا، ثُمَّ تَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى قَائِمَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، ثُمَّ تُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنْ هَاجَمَهُمْ هَيْجٌ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمُ الْقِتَالُ وَالْكَلامُ"
جناب سلیم بن عبدالسلوالی بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں تھے اور اُن کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام بھی موجود تھے۔ اُنہوں نے دیگر صحابہ سے پو چھا، آپ میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے، پھر نماز خوف کا طریقہ بتا تے ہوئے کہا کہ اپنے ساتھیوں کو حُکم دیں کہ وہ دو گرہوں میں کھڑے ہو جائیں ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آراء ہو جائے اور دوسرا گروہ آپ کے پیچھے صف بنالے۔ پھر تم تکبیر کہو تو وہ سب بھی تکبیر کہہ کر نماز شروع کر دیں۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ بھی رکوع کریں، پھر تم سر اُٹھاؤ تو وہ سب بھی سراُٹھائیں پھر تم سجدہ کرو تو تمہارے قریب والا گروہ سجدہ کرلے۔ اور دوسرا وہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے۔ پھر جب سجدے سے سر اُٹھا لو تو تمہارے قریب والے لوگ کھڑے ہو جائیں اور دوسرے گروہ والے سجدہ کرلیں۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ سب بھی رکوع کرلیں۔ پھر تم سجدے کروتو تمہارے قریب والا گروہ بھی سجدے کرلے جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے۔ پھر جب تم اپنا سر سجدوں سے اُٹھا لو تو دشمن کے سامنے کھڑے ہونے والے سجدہ کرلیں، پھر تم اُن کے ساتھ مل کر سلام پھیر دو، اور تم اپنے ساتھیوں کو حُکم دو کہ اگر اُن پر زوردار حملہ ہو جائے تو اُن کے لئے جنگ کرنا اور بات چیت کرنا حلال ہو جائے گا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الخوف/حدیث: 1365]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1343، 1365، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1452، 2425، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1249، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1528، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1246، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6087، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23740»
866. (633) بَابُ إِبَاحَةِ صَلَاةِ الْخَوْفِ رُكْبَانًا وَمُشَاةً فِي شِدَّةِ الْخَوْفِ
شدید خوف کی حالت میں نماز خوف سوار ہوکر اور پیدل چلتے ہوئے ادا کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: Q1366
قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا
اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: «فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا» [ سورة البقرة: 239 ] ”پھر اگر تم خوف کی حالت میں ہوتو پیدل یا سوار ہی (نماز پڑھ لو)“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الخوف/حدیث: Q1366]
حدیث نمبر: 1366
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: " فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ صَلَّوْا رِجَالا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ، أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةَ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا" . قَالَ نَافِعٌ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ رَوَى ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَى أَصْحَابُ مَالِكٍ هَذَا الْخَبَرَ عَنْهُ، فَقَالُوا: قَالَ نَافِعٌ: لا أَرَى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَهُ إِلا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب اُن سے نماز خوف کے متعلق سوال کیا جاتا، تو وہ طویل حدیث بیان کرتے اور فرماتے کہ پھر اگر خوف اس سے بھی شدید ہو تو تم اپنے قدموں پر کھڑے کھڑے یا سوار ہوکر، قبلہ رُخ ہو کر یا قبلہ رُخ ہوئے بغیر ہی نماز پڑھ لو۔ جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام مالک کے شاگردوں نے یہ روایت ان سے بیان کی تو انہوں نے کہا جناب نافع نے فرمایا، میرے خیال میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہ روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الخوف/حدیث: 1366]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 943، 4133، 4535، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 839، ومالك فى (الموطأ) برقم: 634، وابن الجارود فى "المنتقى"، 259، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 980، 981، 1349، 1354، 1355، 1366، 1367، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2879، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1537، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 564، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1258، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2263، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1775، 1776، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6268»
حدیث نمبر: 1367
ثناهُ يُونُسُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ مَالِكٍ ، ح وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ ، عَنِ الشَّافِعِيِّ ، عَنْ مَالِكٍ
امام صاحب نے اپنی سند کے ساتھ امام مالک سے امام شافعی رحمه الله کی روایت بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الخوف/حدیث: 1367]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 943، 4133، 4535، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 839، ومالك فى (الموطأ) برقم: 634، وابن الجارود فى "المنتقى"، 259، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 980، 981، 1349، 1354، 1355، 1366، 1367، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2879، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1537، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1243، والترمذي فى (جامعه) برقم: 564، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1258، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2263، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1775، 1776، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6268»
867. (634) بَابُ صَلَاةِ الْإِمَامِ الْمَغْرِبَ بِالْمَأْمُومِينَ صَلَاةَ الْخَوْفِ
امام کا مقتدیوں کا نماز مغرب نماز خوف پڑھانے کا بیان
حدیث نمبر: 1368
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِالْقَوْمِ صَلاةَ الْمَغْرِبِ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَجَاءَ الآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتٌّ رَكَعَاتٍ، وَلِلْقَوْمِ ثَلاثٌ ثَلاثٌ"
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو نماز مغرب (نماز خوف کے طور پر) تین رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے، دوسرا گروہ آیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی تین رکعات پڑھائیں، اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھ رکعات ہوگئیں اور صحابہ کرام کی تین تین رکعات ہوئیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الخوف/حدیث: 1368]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1368، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2881، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1255، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 835، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1248، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5189، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1781، 1783، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20736»
868. (635) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي وَضْعِ السِّلَاحِ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ إِذَا كَانَ بِالْمُصَلِّي أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كَانَ مَرِيضًا.
نمازِ خوف میں ہتھیار اُتار کر رکھ دینے کی رخصت کا بیان جبکہ نمازی کو بارش کی وجہ سے تکلیف کا سامنا ہو یا وہ بیمار ہو
حدیث نمبر: 1369
ثنا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى وَهُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى" قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ:" كَانَ جَرِيحًا"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت «إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَىٰ أَن تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ» [ سورة النساء: 102 ] ”اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو(ہتھیار اتار کر نماز پڑھ لو)“ اُس وقت نازل ہوئی جب سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ زخمی تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الخوف/حدیث: 1369]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4599، وابن الجارود فى "المنتقى"، 264، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1369، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3221، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11056، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6100»