صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب الأَنْفَالِ:
باب: لوٹ کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1749 ترقیم شاملہ: -- 4559
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ وَفِيهِمْ ابْنُ عُمَرَ، وَأَنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتِ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنُفِّلُوا سِوَى ذَلِكَ بَعِيرًا، فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
لیث نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا، ان میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کے حصے بارہ بارہ اونٹ تک پہنچ گئے اور اس کے علاوہ انہیں ایک ایک اونٹ زائد (بھی) ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (فیصلے) کو تبدیل نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4559]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ نجد کی طرف روانہ کیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان میں شریک تھے، اور ان کے حصے میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور اس کے علاوہ بطور انعام ایک اونٹ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کوئی تبدیلی نہ فرمائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4559]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1749 ترقیم شاملہ: -- 4560
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا، فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا، وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا "،
علی بن مسہر اور عبدالرحیم بن سلیمان نے عبیداللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی جانب ایک دستہ بھیجا، میں بھی اس میں گیا۔ ہمیں اونٹ اور بکریاں ملیں تو ہمارے حصے بارہ بارہ اونٹوں تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد بھی دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4560]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ نجد کی طرف بھیجا، میں بھی اس کے ساتھ نکلا اور ہمیں بہت سے اونٹ اور بکریاں غنیمت میں حاصل ہوئیں، اس لیے ہمارا عمومی حصہ بارہ بارہ اونٹ بنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بطور انعام ایک ایک اونٹ دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4560]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1749 ترقیم شاملہ: -- 4561
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ،
قطان نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4561]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اور اساتذہ سے عبید اللہ کی مذکورہ بالا سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4561]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1749 ترقیم شاملہ: -- 4562
وحَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ النَّفَلِ، فَكَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُوسَى . ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
ایوب نے ہمیں حدیث بیان کی، اور (ایک دوسری سند سے) ابن عون نے کہا: میں نے غنیمت کے بارے میں پوچھنے کے لیے نافع کی طرف خط لکھا، انہوں نے مجھے جواب بھی لکھا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ دستے میں تھے۔۔، نیز موسیٰ اور اسامہ بن زید نے بھی حدیث بیان کی، ان سب (ایوب، ابن عون، موسیٰ اور اسامہ) نے نافع سے اسی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4562]
امام صاحب یہی حدیث مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، ابن عون کہتے ہیں: میں نے نافع کو خط لکھ کر زائد حصہ (انعام) کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے لکھا: ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک دستہ میں شریک تھے، اور اساتذہ نے بھی نافع کی مذکورہ بالا سند سے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4562]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1749
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1750 ترقیم شاملہ: -- 4563
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " نَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَلًا سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمْسِ، فَأَصَابَنِي شَارِفٌ وَالشَّارِفُ الْمُسِنُّ الْكَبِيرُ "،
عبداللہ بن رجاء نے یونس سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خمس سے ہمارے حصے کے سوا اضافی بھی دیا تو مجھے ایک شارف ملا۔۔ اور شارف سے مراد پختہ عمر کا (مضبوط) اونٹ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4563]
حضرت سالم اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے حصے سے الگ جس میں سے انعام دیا تو مجھے بھی ایک شارف یعنی عمر رحضرت اونٹنی ملی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4563]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1750
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1750 ترقیم شاملہ: -- 4564
وحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ كِلَاهُمَا، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: نَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ رَجَاءٍ.
ابن مبارک اور ابن وہب دونوں نے یونس کے حوالے سے زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث پہنچی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستے کو زائد دیا۔۔ ابن رجاء کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4564]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ کو نفل (زائد حصہ) دیا، جیسا کہ مذکورہ بالا ابن رجاء کی روایت میں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4564]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1750
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1750 ترقیم شاملہ: -- 4565
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ " يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ، خَاصَّةً سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ وَالْخُمْسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلِّهِ ".
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات عام لشکر کی تقسیم سے ہٹ کر بعض دستوں کو، جنہیں آپ روانہ فرماتے تھے، خصوصی طور پر ان کے لیے زائد عطیات دیتے تھے، اور خمس ان سب مہموں میں واجب تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4565]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن دستوں کو بھیجتے، ان کو خصوصی طور پر انہیں کے لیے عطیہ دیتے، جو عام لشکر کے حصہ سے زائد ہوتا، لیکن خمس تمام مالوں میں واجب تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4565]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1750
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
13. باب اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ:
باب: قاتلوں کو مقتول کا سامان دلانا۔
ترقیم عبدالباقی: 1751 ترقیم شاملہ: -- 4566
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو قَتَادَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ،
ہشیم نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے اور انہوں نے ابومحمد انصاری سے روایت کی اور وہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشیں تھے، انہوں نے کہا: حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور انہوں (ابومحمد) نے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4566]
ابو محمد انصاری، جو ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشین ہیں، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے تیسرے نمبر پر آنے والی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4566]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1751 ترقیم شاملہ: -- 4567
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ: وَسَاقَ الْحَدِيثَ،
لیث نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمر بن کثیر بن افلح سے، انہوں نے ابومحمد (المعروف بہ) مولیٰ ابوقتادہ سے روایت کی کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔ اور حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4567]
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت ہے کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور آگے مندرجہ ذیل حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4567]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1751 ترقیم شاملہ: -- 4568
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَا لِلنَّاسِ؟، فَقُلْتُ: أَمْرُ اللَّهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ، قَالَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: فَقُمْتُ، فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي، ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟، فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: لَا هَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ، يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ، فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ "، فَأَعْطَانِي، قَالَ: فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَلَّا لَا يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ.
امام مالک بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب (دشمن سے) ہمارا سامنا ہوا تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچی۔ کہا: میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی دیکھا جو مسلمانوں کے ایک آدمی پر غالب آ گیا تھا، میں گھوم کر اس کی طرف بڑھا حتی کہ اس کے پیچھے آ گیا اور اس کی گردن کے پٹھے پر وار کیا، وہ (اسے چھوڑ کر) میری طرف بڑھا اور مجھے اس زور سے دبایا کہ مجھے اس (دبانے) سے موت کی بو محسوس ہونے لگی، پھر اس کو موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا، اس کے بعد میری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کا حکم ہے۔ پھر لوگ واپس پلٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: ”جس نے کسی کو قتل کیا، (اور) اس کے پاس اس کی کوئی دلیل (نشانی وغیرہ) ہو تو اس (مقتول) سے چھینا ہوا سامان اسی کا ہو گا۔“ کہا: تو میں کھڑا ہوا اور کہا: میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا۔ کہا: تو میں کھڑا ہوا اور کہا: میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ نے تیسری بار یہی فرمایا۔ کہا: میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوقتادہ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟“ تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے سچ کہا ہے۔ اس مقتول کا چھینا ہوا سامان میرے پاس ہے، آپ انہیں ان کے حق سے (دستبردار ہونے پر) مطمئن کر دیجیے۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر سے، جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کرتا ہے، نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے مقتول کا چھینا ہوا سامان تمہیں دے دیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے سچ کہا: وہ انہی کو دے دو۔“ تو اس نے (وہ سامان) مجھے دے دیا، کہا: میں نے (اسی سامان میں سے) زرہ فروخت کی اور اس (کی قیمت) سے (اپنی) بنو سلمہ (کی آبادی) میں ایک باغ خرید لیا۔ وہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام (کے زمانے) میں بنایا۔ لیث کی حدیث میں ہے: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر قریش کے ایک چھوٹے سے لگڑ بگھے کو عطا نہیں کریں گے۔ لیث کی حدیث میں ہے: (انہوں نے کہا) وہ پہلا مال تھا جو میں نے بنایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4568]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جنگ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو جب دشمن کے ساتھ ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے (پھر حملہ کیا) تو میں نے ایک مشرک آدمی کو دیکھا، وہ ایک مسلمان پر غلبہ پا رہا تھا، تو میں اس کی طرف گھوم گیا حتیٰ کہ اس کے پیچھے سے آ گیا اور اس کے شانہ کے پٹھے پر تلوار ماری، وہ میری طرف بڑھا اور مجھے اس قدر زور سے بھینچا کہ مجھے موت نظر آنے لگی، پھر اسے موت نے آ لیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کو یہی منظور ہے، پھر لوگ واپس پلٹے (دشمن کے مقابلہ میں آئے اور جنگ کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کسی کو قتل کیا ہے اور اس پر شہادت موجود ہے تو مقتول سے چھینا ہوا مال اس (قاتل) کو ملے گا۔“ تو میں کھڑا ہو گیا، پھر میں نے سوچا: میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ اس لیے میں بیٹھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات دہرائی تو میں کھڑا ہو گیا، پھر میں نے اپنے آپ سے پوچھا: میرے حق میں گواہی کون دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بات فرمائی، تیسری مرتبہ تو میں کھڑا ہوا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا معاملہ ہے؟ اے ابو قتادہ؟“ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکمل واقعہ سنا دیا، تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے سچ کہا ہے، اس مقتول سے چھینا ہوا مال میرے پاس ہے، تو اس کو اس کے حق کے سلسلہ میں راضی کر دیں کہ یہ مجھے بخوشی دے دے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ایسی صورت میں، آپ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کی طرف اس لیے رخ نہ فرمائیں گے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی سلب تجھے دے دیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر نے سچ کہا، سلب اسے دے دو۔“ تو اس نے سلب مجھے دے دی، تو میں نے وہ زرہ فروخت کر کے اس کے عوض بنو سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور وہ سب سے پہلا مال تھا جو میں نے اسلام کے دور میں حاصل کیا، اور لیث کی حدیث میں یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، آپ وہ مال قریش کی ایک لومڑی کو نہیں دیں گے کہ اس کی خاطر اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظرانداز کر دیں، اور لیث کی حدیث میں ہے کہ وہ پہلا مال تھا جو میں نے سمیٹا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4568]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1751
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة