🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:
باب: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1876 ترقیم شاملہ: -- 4861
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَكَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ، إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ كَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ ".
مغیرہ بن عبدالرحمٰن حزامی نے ابوزناد سے خبر دی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اسے اپنے گھر سے اللہ کی راہ میں جہاد اور اس کلمے کی تصدیق کے علاوہ اور کسی چیز نے نہیں نکالا تو اللہ اس کے لیے اس بات کا کفیل بنا ہے کہ (شہید ہو گیا تو) اسے جنت میں داخل کرے گا یا پھر اس غنیمت اور اجر سمیت جو اسے ملا، اس کے اسی ٹھکانے میں اس کو واپس لے جائے گا جہاں سے وہ (جہاد کے لیے) نکلا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4861]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ذمہ اٹھایا ہے کہ جو اس کی راہ میں جہاد کرے گا، اسے اس کے گھر سے صرف اس کی راہ میں جہاد اور اس کے وعدوں کی تصدیق ہی نکالے گی، تو وہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا اس کے اس گھر میں جس سے وہ نکلا تھا اجر یا غنیمت سمیت واپس لائے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4861]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1876 ترقیم شاملہ: -- 4862
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ ".
عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: کوئی شخص اللہ کی راہ میں زخمی نہیں کیا گیا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کسے زخمی کیا گیا مگر وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم سے خون امڈ رہا ہو گا، رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4862]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے اور اللہ ہی خوب جانتا ہے کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا زخم بہہ رہا ہوگا، رنگ خون آلود ہوگا اور خوشبو کستوری کی طرح ہوگی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4862]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1876 ترقیم شاملہ: -- 4863
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ تَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا، إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ "، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّد ٍ فِي يَدِهِ، لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً، فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً، فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي ".
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں، انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک یہ تھی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر زخم جو مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے، قیامت کے دن پھر اسی طرح اپنی اسی حالت میں ہو گا جس طرح زخم لگتے وقت تھا، اس سے خون ٹپک رہا ہو گا، اس کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری جیسی ہو گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر یہ (ڈر) نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں ڈالوں گا تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ بیٹھا رہتا، لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں ان (مسلمانوں) کو سواریاں مہیا کروں، نہ ان کے پاس اتنی وسعت ہے کہ وہ سواریاں مہیا کر کے میرے پیچھے آئیں، ان کے دل اس پر (بھی) راضی نہیں ہوتے کہ وہ میرے پیچھے گھروں میں بیٹھ رہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4863]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ زخم جو مسلمان کو اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے، قیامت کے دن وہ اس حالت میں ہو گا جس حالت میں لگا تھا، اس سے خون پھوٹ رہا ہو گا، رنگ خون کا رنگ ہو گا اور مہک کستوری والی مہک ہو گی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ مسلمانوں کو دشواری میں مبتلا کروں گا تو میں کسی دستے سے پیچھے نہ بیٹھتا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ میں انہیں سوار کروں اور ان کے پاس اپنے طور پر وسعت نہیں ہے کہ وہ میرے پیچھے روانہ ہو پڑیں اور ان کے نفوس ان کو گوارا نہیں کرتے کہ وہ میرے پیچھے رہ جائیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4863]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1876 ترقیم شاملہ: -- 4864
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَر َ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ أُحْيَى بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے ابوزناد سے، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں مبتلا کروں گا تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا۔ ان کی حدیث کے مانند۔ اور اسی سند کے ساتھ (اور اس میں یہ الفاظ بھی ہیں:) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوزرعہ کی روایت کردہ حدیث کے مطابق۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4864]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر مجھے خطرہ نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو مشقت میں ڈالوں گا، تو میں کسی دستے سے پیچھے نہ رہتا جیسا کہ اوپر ذکر ہوا اور اس سند سے یہ منقول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں چاہتا ہوں، میں اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں جیسا کہ اوپر ابو زرعہ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کر آئے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4864]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1876 ترقیم شاملہ: -- 4865
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ. نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
یحییٰ بن سعید نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ (خدشہ) نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشکل میں ڈالوں گا تو مجھے یہ پسند تھا کہ میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہوں۔ ان سب کی حدیث کی مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4865]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت کو مشقت میں ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں پسند کرتا کہ میں کسی دستہ سے پیچھے نہ رہوں۔ جیسا کہ اوپر گزرا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4865]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1876 ترقیم شاملہ: -- 4866
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ إِلَى قَوْلِهِ مَا تَخَلَّفْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى ".
سہیل نے اپنے والد (ابوصالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا، اللہ اس کے لیے اس بات کی ضمانت دیتا ہے سے لے کر میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا تک۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4866]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ذمہ لیا ہے جو اس کی راہ میں نکلتا ہے۔ اس سے لے کر یہاں تک بیان کیا: میں کسی ایسے دستے سے پیچھے نہ بیٹھتا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4866]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. باب فَضْلِ الشَّهَادَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى:
باب: اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1877 ترقیم شاملہ: -- 4867
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنَّهَا تَرْجِعُ إِلَى الدُّنْيَا، وَلَا أَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدُ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ ".
ابوخالد احمر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے قتادہ اور حمید سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: کوئی بھی ذی روح جو فوت ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لیے بھلائی موجود ہو، یہ بات پسند نہیں کرتا کہ وہ دنیا میں واپس جائے یا دنیا اور جو کچھ بھی دنیا میں ہے، اس کو مل جائے، سوائے شہید کے، صرف وہ شہادت کی جو فضیلت دیکھتا ہے اس کی وجہ سے اس بات کی تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور اللہ کی راہ میں (دوبارہ) شہید کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4867]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی انسان نہیں ہے جو فوت ہوا اور اس کے ہاں اچھا مقام ہو کہ اسے دنیا میں واپس آنا پسند ہو، اگرچہ اسے دنیا و مافیہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4867]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1877
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1877 ترقیم شاملہ: -- 4868
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَأَنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ غَيْرُ الشَّهِيدِ، فَإِنَّهُ يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ، فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: جنت میں داخل ہونے والا کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو یہ پسند کرتا ہو کہ وہ دنیا میں واپس جائے، یا زمین پر موجود کوئی چیز اس کی ہو جائے، سوائے شہید کے، وہ (اپنی) جو عزت افزائی دیکھتا ہے اس کی بنا پر یہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دس بار واپس جائے اور قتل کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4868]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان بھی جنت میں داخل ہوتا ہے، وہ دنیا کی طرف لوٹنا پسند نہیں کرتا، اگرچہ اس کو روئے زمین کی ہر چیز دے دی جائے، مگر شہید وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں لوٹے اور دس دفعہ شہید ہو، اس عزت و احترام کی بنا پر جو اسے حاصل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4868]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1877
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1878 ترقیم شاملہ: -- 4869
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟، قَالَ: لَا تَسْتَطِيعُونَهُ "، قَالَ: فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ، يَقُولُ: " لَا تَسْتَطِيعُونَهُ "، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ: " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى "،
خالد بن عبداللہ واسطی نے سہیل بن ابی صالح سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کے برابر کون سا عمل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: صحابہ نے دو یا تین بار سوال دہرایا، آپ نے ہر بار فرمایا: تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ تیسری بار فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو روزہ دار ہو، اللہ کے سامنے اس کی آیات کے ساتھ زاری کر رہا ہو، وہ اس وقت تک نہ روزے میں وقفہ آنے دے، نہ نماز میں یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آ جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4869]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کون سی چیز اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے بس میں نہیں ہے۔ تو صحابہ کرام نے دوبارہ یا سہ بارہ آپ کے سامنے سوال کا اعادہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر دفعہ یہی فرماتے: وہ تمہارے بس میں نہیں ہے۔ تیسری مرتبہ فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس انسان کی طرح ہے جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے، رات کو قیام کرتا ہے (زندگی میں) اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل پیرا ہے، روزے اور نماز سے تھکتا نہیں ہے، سستی نہیں کرتا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا واپس آ جائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4869]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1878
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1878 ترقیم شاملہ: -- 4870
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابوعوانہ، جریر اور ابومعاویہ سب نے اسی سند کے ساتھ سہیل سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4870]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4870]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1878
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں