صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب فَضِيلَةِ الْخيْلِ وَأَنَّ الْخَيْرَ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا
باب: گھوڑوں کی فضیلت اور ان کی پیشانیوں میں خیر کے باندھے ہونے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 1873 ترقیم شاملہ: -- 4851
وحَدَّثَنَاه إِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، َأَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الْجَعْدِ:
جریر نے حصین سے اسی سند کے ساتھ خبر دی، البتہ جریر نے (عروہ بارقی کے بجائے) عروہ بن جعد (نسب کے ساتھ) کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4851]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں، لیکن عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کی بجائے عروہ بن جعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4851]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1873
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1873 ترقیم شاملہ: -- 4852
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ جَمِيعًا، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرِ الْأَجْرَ وَالْمَغْنَمَ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ سَمِعَ عُرْوَةَ الْبَارِقِيَّ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ابواحوص اور سفیان نے شبیب بن غرقدہ سے، انہوں نے حضرت عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، اس میں ”اجر اور غنیمت“ کا ذکر نہیں کیا اور سفیان کی حدیث (کی سند) میں ہے: انہوں نے عروہ بارقی سے سنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4852]
امام صاحب اپنے کئی اساتذہ کی دو سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں اجر و غنیمت کا ذکر نہیں ہے، عروہ بارقی رضی اللہ عنہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا ذکر سفیان کی روایت میں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4852]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1873
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1873 ترقیم شاملہ: -- 4853
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْجَعْدِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا وَلَمْ يَذْكُرِ الْأَجْرَ وَالْمَغْنَمَ.
عیزار بن حریث نے عروہ بن جعد (بارقی) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت بیان کی اور ”اجر اور غنیمت“ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4853]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن اس میں اجر و غنیمت کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4853]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1873
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1874 ترقیم شاملہ: -- 4854
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ "،
عبیداللہ کے والد معاذ اور یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے، انہوں نے ابوتیاح سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برکت گھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4854]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برکت گھوڑوں کی پیشانی میں ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4854]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1874
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1874 ترقیم شاملہ: -- 4855
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ سَمِعَ أَنَسًا يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
خالد بن حارث اور محمد بن جعفر نے شعبہ سے، انہوں نے ابوتیاح سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، اسی (سابقہ حدیث) کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4855]
امام صاحب رحمہ اللہ دو اساتذہ کی دو سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4855]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1874
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
27. باب مَا يُكْرَهُ مِنْ صِفَاتِ الْخَيْلِ:
باب: گھوڑے کی کون سی قسمیں بری ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 1875 ترقیم شاملہ: -- 4856
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ ".
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے سلم بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑوں میں شِکال کو ناپسند فرماتے تھے۔ (شِکال کا مفہوم اگلی حدیث میں بیان ہوا ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4856]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے میں «الشِّكَالَ» (شکال) کو ناپسند فرماتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4856]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1875 ترقیم شاملہ: -- 4857
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَالشِّكَالُ أَنْ يَكُونَ الْفَرَسُ فِي رِجْلِهِ الْيُمْنَى بَيَاضٌ، وَفِي يَدِهِ الْيُسْرَى أَوْ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى وَرِجْلِهِ الْيُسْرَى.
عبداللہ بن نمیر اور عبدالرزاق نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں یہ اضافہ کیا: شکال یہ ہے کہ گھوڑے کے داہنے پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں میں سفیدی ہو (الٹی طرف کے آگے اور پیچھے دو قدم سفید ہوں۔) [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4857]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی دو سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، عبدالرزاق رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: ” «الشِّکَالُ» یہ ہے کہ گھوڑے کے دائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ میں سفیدی ہو یا دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں میں ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4857]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1875 ترقیم شاملہ: -- 4858
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ وَفِي رِوَايَةِ، وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَلَمْ يَذْكُرْ النَّخَعِيَّ.
محمد بن جعفر اور وہب بن جریر نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن یزید نخعی سے، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح وکیع کی حدیث ہے۔ اور وہب کی روایت میں (سند اس طرح) ہے: انہوں نے عبداللہ بن یزید سے روایت کی لیکن نخعی کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4858]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی دو سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، لیکن ابن وہب کی روایت میں عبداللہ بن یزید کی نسبت نخعی کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4858]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1875
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
28. باب فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْخُرُوجِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ:
باب: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 1876 ترقیم شاملہ: -- 4859
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ وَهُوَ ابْنُ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَإِيمَانًا بِي وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا، مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ كَلْمٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهِ، حِينَ كُلِمَ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ مِسْكٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ يَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً، فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو، فَأُقْتَلُ ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ ".
جریر نے عمارہ بن قعقاع سے، انہوں نے ابوزرعہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے خود (ایسے شخص کی) ضمانت دی ہے کہ جو شخص اس کے راستے میں نکلا، میرے راستے میں جہاد، میرے ساتھ ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کے سوا اور کسی چیز نے اسے گھر سے نہیں نکالا، اس کی مجھ پر ضمانت ہے کہ میں اسے جنت میں داخل کروں گا، یا پھر اسے اس کی اسی قیام گاہ میں واپس لے آؤں گا جس سے وہ (میری خاطر) نکلا تھا، جو اجر اور غنیمت اس نے حاصل کی وہ بھی اسے حاصل ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جو زخم بھی اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے (تو زخم کھانے والا) قیامت کے دن اسی حالت میں آئے گا جس حالت میں اس کو زخم لگا تھا، اس (زخم) کا رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کسی بھی لشکر سے مختلف رویہ اپناتے ہوئے (گھر میں) نہ بیٹھتا، لیکن میرے پاس اتنی وسعت نہیں ہوتی کہ میں سب مسلمانوں کو سواریاں مہیا کر سکوں اور نہ ہی ان (سب) کے پاس اتنی وسعت ہوتی ہے اور یہ بات ان کو بہت شاق گزرتی ہے کہ وہ مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! مجھے یہ پسند ہے کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، پھر قتل کر دیا جاؤں اور پھر جہاد کروں، پھر قتل کر دیا جاؤں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4859]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں نکلنے والے کو ضمانت دی، جبکہ وہ صرف اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے، اس پر یقین رکھتے ہوئے اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے ہوئے، وہ میری ضمانت میں ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں گا، یا اپنے جس گھر سے وہ نکلا، اس میں اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس لاؤں گا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! جو زخم بھی اللہ کی راہ میں لگے گا، قیامت کے دن وہ زخم اسی حالت میں آئے گا جس میں وہ لگتے وقت تھا، اس کا رنگ خون والا رنگ ہو گا اور مہک کستوری کی طرح ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر مجھے اندیشہ نہ ہوتا کہ مسلمانوں کے لیے دشواری ہو گی، تو میں کسی دستے سے کبھی پیچھے نہ بیٹھتا جب وہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ میں ان سب کو سواری مہیا کر سکوں اور ان کے پاس اپنے طور پر سواری حاصل کرنے کی مقدرت نہیں اور مجھ سے پیچھے رہنا ان کے لیے دشواری کا باعث ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں جنگ لڑتے ہوئے شہید ہو جاؤں (پھر زندگی ملے) پھر غزوہ میں حصہ لیتے ہوئے شہید ہو جاؤں (پھر زندگی ملے) پھر جہاد کروں اور شہید ہو جاؤں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4859]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1876 ترقیم شاملہ: -- 4860
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابن فضیل نے عمارہ سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4860]
یہی روایت مصنف اپنے دو اور اساتذہ کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4860]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1876
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة