🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب الأَمْرِ بِالصَّبْرِ عِنْدَ ظُلْمِ الْوُلاَةِ وَاسْتِئْثَارِهِمْ:
باب: حاکموں کے ظلم اور بےجا ترجیح پر صبر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1845 ترقیم شاملہ: -- 4781
وحَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُلْ خَلَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
معاذ نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی اور یہ نہیں کہا: اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں بات کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4781]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں لیکن اس میں یہ لفظ نہیں ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تنہائی میں بات کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4781]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1845
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب فِي طَاعَةِ الأُمَرَاءِ وَإِنْ مَنَعُوا الْحُقُوقَ:
باب: امرا کی اطاعت کرنے کا حکم اگرچہ وہ حق تلفی ہی کریں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1846 ترقیم شاملہ: -- 4782
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ؟، ثُمَّ سَأَلَهُ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ؟، ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، وَقَالَ: اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ "،
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے علقمہ بن وائل حضرمی سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اللہ کے نبی! آپ کیسے دیکھتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے لوگ حکمران بنیں جو ہم سے اپنے حقوق کا مطالبہ کریں اور ہمارے حق ہمیں نہ دیں تو اس صورت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا، اس نے دوبارہ سوال کیا، آپ نے پھر اعراض فرمایا، پھر جب اس نے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو اس کو اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کھینچ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو کیونکہ جو ذمہ داری ان کو دی گئی اس کا بار ان پر ہے اور جو ذمہ داری تمہیں دی گئی ہے، اس کا بوجھ تم پر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4782]
علقمہ بن وائل حضرمی اپنے باپ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے نبی اللہ! بتائیے، اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہوں جو ہم سے اپنے حقوق کی ادائیگی کا مطالبہ کریں اور ہمیں ہمارے حقوق سے محروم رکھیں تو آپ اس صورت میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا، انہوں نے پھر سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بے رخی اختیار کی، پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری یا تیسری بار سوال کیا تو انہیں اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کھینچ لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور مانو، کیونکہ ان کا بار ان پر ہے اور تمہارا بار تم پر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4782]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1846
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1846 ترقیم شاملہ: -- 4783
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ ".
شبابہ نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور کہا: اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے اس (پوچھنے والے) کو کھینچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو، جو ذمہ داری ان پر ڈالی گئی اس کا بوجھ ان پر ہے اور جو تم پر ڈالی گئی اس کا بوجھ تم پر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4783]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ اسے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کھینچ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور مانو، کیونکہ ان کا بار ان پر ہے اور تمہارا بار تم پر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4783]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1846
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب الأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وَتَحْذِيرِ الدُّعَاةِ إِلَى الْكُفْرِ:
باب: فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1847 ترقیم شاملہ: -- 4784
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ ، يَقُولُ: " كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ، وَشَرٍّ فَجَاءَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ؟، قَالَ: نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ، قُلْتُ: وَمَا دَخَنُهُ؟، قَالَ: قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي، وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْكِرُ، فَقُلْتُ: هَلْ بَعْدَ ذَلِكَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟، قَالَ: نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: نَعَمْ، قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَرَى إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟، قَالَ: تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، فَقُلْتُ: فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ؟، قَالَ: فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ ".
ابوادریس خولانی نے کہا: میں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں اس خوف سے کہیں میں اس میں مبتلا نہ ہو جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم جاہلیت اور شر میں تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر (اسلام) عطا کی، تو کیا اس خیر کے بعد پھر سے شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا اس شر کے بعد پھر خیر ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن اس (خیر) میں کچھ دھندلاہٹ ہو گی۔ میں نے عرض کی: اس کی دھندلاہٹ کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت کے بجائے دوسرا طرزِ عمل اختیار کریں گے اور میرے نمونہ عمل کے بجائے دوسرے طریقوں پر چلیں گے، تم ان میں اچھائی بھی دیکھو گے اور برائی بھی دیکھو گے۔ میں نے عرض کی: کیا اس خیر کے بعد، پھر کوئی شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر بلانے والے، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس کو جہنم میں پھینک دیں گے۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہمارے سامنے ان کی (بری) صفات بیان کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ لوگ بظاہر ہماری طرح کے ہوں گے اور ہماری ہی طرح گفتگو کریں گے۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر وہ زمانہ میری زندگی میں آ جائے تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مسلمانوں کی جماعت اور مسلمانوں کے امام کے ساتھ وابستہ رہنا۔ میں نے عرض کی: اگر اس وقت مسلمانوں کی جماعت ہو نہ امام؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان تمام فرقوں (بٹے ہوئے گروہوں) سے الگ رہنا، چاہے تمہیں درخت کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ تمہیں موت آئے تو تم اسی حال میں ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4784]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں اس خوف سے سوال کرتا تھا کہ کہیں میں اس میں مبتلا نہ ہو جاؤں، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ ہمارے پاس (اسلام کی صورت میں) یہ خیر لے آیا، تو کیا اس خیر کے بعد شر (بے دینی) ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ تو میں نے پوچھا: کیا اس شر (بے دینی) کے بعد خیر ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس میں کدورت ہو گی۔ پھر میں نے پوچھا: اس میں کدورت کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے لوگ ہوں گے جو میری سنت (طریقہ) کے سوا راہ اختیار کریں گے اور میری سیرت کے سوا طرز عمل اپنائیں گے، ان میں معروف و منکر دونوں پاؤ گے۔ میں نے پوچھا: کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ جہنم کے دروازے پر بلانے والے ہوں گے جو ان کی اس دعوت کو قبول کر لیں گے تو وہ انہیں اس جہنم میں پھینک دیں گے۔ تو میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں ان کی صفت بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ ہماری قوم سے ہوں گے اور ہماری بولی بولیں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر یہ دور مجھے پا لے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیال میں میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو مسلمانوں کی جمعیت اور ان کے امام کے ساتھ وابستہ رہنا۔ میں نے عرض کیا: اگر ان کی جمعیت اور امام نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تمام فرقوں سے الگ رہو، اگرچہ تمہیں کسی درخت کے تنے کو چبانا پڑے، حتیٰ کہ تمہیں موت آئے اور تم اسی حالت پر ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4784]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1847
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1847 ترقیم شاملہ: -- 4785
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ : " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ فَجَاءَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَنَحْنُ فِيهِ، فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: كَيْفَ؟، قَالَ: يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ، وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي، وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟، قَالَ: تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ ".
ابوسلام سے روایت ہے، کہا: حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم شر میں مبتلا تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیر عطا فرمائی، ہم اس خیر کی حالت میں ہیں، کیا اس خیر کے پیچھے شر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کی: کیا اس شر کے پیچھے خیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا اس خیر کے پیچھے پھر شر ہو گا؟ فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: وہ کس طرح ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ایسے امام (حکمران اور رہنما) ہوں گے جو زندگی گزارنے کے میرے طریقے پر نہیں چلیں گے اور میری سنت کو نہیں اپنائیں گے اور جلد ہی ان میں ایسے لوگ کھڑے ہوں گے جن کی وضع قطع انسانی ہو گی، دل شیطانوں کے دل ہوں گے۔ (حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر میں وہ زمانہ پاؤں (تو کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امیر کا حکم سننا اور اس کی اطاعت کرنا، چاہے تمہاری پیٹھ پر کوڑے مارے جائیں اور تمہارا مال چھین لیا جائے پھر بھی سننا اور اطاعت کرنا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4785]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم شر میں مبتلا تھے، تو اللہ خیر لے آیا اور ہم اس سے وابستہ ہیں، تو کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے پوچھا: کیا اس شر کے بعد بھی خیر کا دور ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے دریافت کیا: کیا اس خیر کے بعد شر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: کیا کیفیت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد ایسے امام ہوں گے، جو میری ہدایت سے رہنمائی حاصل نہیں کریں گے، اور نہ میرا طریقہ اپنائیں گے، اور ان میں ایسے افراد پیدا ہوں گے جن کے دل شیطانوں کے دل ہوں گے اور بدن انسانوں کے ہوں گے۔ میں نے پوچھا: اگر میں ان کو پا لوں، تو اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سننا اور امیر کی اطاعت کرنا، اگرچہ تیری پشت پر مار پڑے اور تیرا مال چھین لیا جائے، سن اور مان۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4785]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1847
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1848 ترقیم شاملہ: -- 4786
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَى عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ "،
جریر بن حازم نے کہا: ہمیں غیلان بن جریر نے ابوقیس بن ریاح سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (امامِ وقت کی) اطاعت سے نکل گیا اور جماعت چھوڑ دی اور مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو شخص اندھے تعصب کے جھنڈے کے نیچے لڑا، اپنی عصبیت (قوم، قبیلے) کی خاطر غصے میں آیا یا اس نے کسی عصبیت کی طرف دعوت دی یا کسی عصبیت کی خاطر مارا گیا تو (یہ) جاہلیت کی موت ہو گی اور جس نے میری امت کے اچھوں اور بروں (دونوں) کو مارتے ہوئے ان کے خلاف خروج (بغاوت کا رستہ اختیار) کیا، کسی مومن کا لحاظ کیا نہ کسی معاہد کے عہد کا پاس کیا تو نہ اس کا میرے ساتھ کوئی رشتہ ہے، نہ میرا اس سے کوئی رشتہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4786]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (حاکم) کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت سے الگ ہو گیا اور اسی حالت پر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جو اندھیرے میں کسی جھنڈے تلے لڑا، محض عصبیت کی بنا پر غضبناک ہوتا ہے، یا عصبیت کی دعوت دیتا ہے یا عصبیت کی بنا پر مدد کرتا ہے اور قتل کر دیا جاتا ہے تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے اور جو میری امت کے خلاف نکلتا ہے، نیک اور بد ہر ایک کو مارتا ہے اور مومن سے بھی احتراز نہیں کرتا اور نہ کسی سے کیا ہوا عہد پورا کرتا ہے تو اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور میں اس سے بری ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4786]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1848
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1848 ترقیم شاملہ: -- 4787
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَقَالَ: لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا.
ایوب نے غیلان بن جریر سے، انہوں نے زیاد بن ریاح قیسی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس طرح جریر کی حدیث ہے، البتہ انہوں نے لا يتحاشى من مومنها کہا۔ (معنی کنارے پر نہیں رہتا، لحاظ نہیں کرتا ہی کے ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4787]
امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں «لَا يَتَحَاشَىٰ» وہ کسی چیز کی پروا نہیں کرتے تھے کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4787]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1848
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1848 ترقیم شاملہ: -- 4788
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِلْعَصَبَةِ وَيُقَاتِلُ لِلْعَصَبَةِ فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي، وَمَنْ خَرَجَ مِنْ أُمَّتِي عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي بِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي "،
مہدی بن میمون نے ہمیں غیلان بن جریر سے حدیث بیان کی، انہوں نے زیاد بن رباح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (مسلمان کے امیر کی) اطاعت سے نکلا اور جماعت سے الگ ہو گیا، پھر مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور جو شخص اندھے تعصب کے جھنڈے تلے مارا گیا، عصبیت کے لیے غضب ناک ہوتا رہا اور عصبیت کے لیے لڑتا رہا، وہ میری امت میں سے نہیں ہے۔ اور میری امت میں سے جس شخص نے میری امت کے خلاف خروج کیا، نیک اور بد ہر شخص کو مارتا رہا، نہ مومن کا لحاظ کیا، جس کے ساتھ اس (اطاعت کے) عہد جیسا عہد کیا اس کے ساتھ وفا نہ کی تو وہ مجھ سے (میرے ساتھ تعلق رکھنے والوں میں سے) نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4788]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو امام کی اطاعت نہیں کرتا، (اور یہاں تک) جماعت سے جدا ہو جاتا ہے، پھر مر جاتا ہے، تو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے، اور جو اندھے جھنڈے تلے قتل کر دیا جاتا ہے، عصبیت کی خاطر غصے میں آتا ہے اور عصبیت کی بنا پر جنگ کرتا ہے تو اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں، اور میری امت کا جو شخص میری امت کے خلاف کھڑا ہوتا ہے اور اس کے نیک و بد ہر ایک کو قتل کرتا ہے، امت کے مومن فرد سے بھی پرہیز نہیں کرتا اور جس سے عہد کیا ہے اس کو بھی پورا نہیں کرتا تو وہ مجھ سے نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4788]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1848
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1848 ترقیم شاملہ: -- 4789
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا ابْنُ الْمُثَنَّى فَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ، وَأَمَّا ابْنُ بَشَّارٍ، فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے غیلان بن جریر سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ ابن مثنیٰ نے اپنی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اور ابن بشار نے اپنی روایت میں دوسروں کی روایت کی طرح کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4789]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ ابن مثنیٰ اور ابن بشار رحمہما اللہ سے روایت کرتے ہیں، ابن مثنیٰ کی روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں ہے، لیکن ابن بشار نے دوسروں کی طرح کہا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4789]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1848
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1849 ترقیم شاملہ: -- 4790
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ".
حماد بن زید نے ہمیں جعد ابوعثمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابورجاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے امیر میں ایسی بات دیکھے جو اسے ناپسند ہے تو صبر کرے، کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا اور (اسی حالت میں) مر گیا تو یہ جاہلیت کی موت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4790]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناگوار چیز دیکھتا ہے وہ صبر سے کام لے (بغاوت نہ کرے) کیونکہ جو شخص ایک بالشت بھر جماعت سے الگ ہوتا ہے اور مر جاتا ہے تو اس کی موت جاہلیت کے انداز کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4790]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1849
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں