صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب الأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وَتَحْذِيرِ الدُّعَاةِ إِلَى الْكُفْرِ:
باب: فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا۔
ترقیم عبدالباقی: 1849 ترقیم شاملہ: -- 4791
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا، فَمَاتَ عَلَيْهِ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ".
عبدالوارث نے ہمیں جعد سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابورجاء عطاردی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اپنے امیر کی کوئی بات بری لگے، وہ اس پر صبر کرے، کیونکہ لوگوں میں سے جو شخص بھی سلطان (کی اطاعت) سے ایک بالشت بھی باہر نکلا اور اسی حالت میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4791]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے امیر کی کسی بات کو ناپسند کیا، وہ اس (ناگواری) کو برداشت کرے، (اطاعت نہ چھوڑے) کیونکہ جو انسان بھی سلطان (اقتدار و حکومت) سے ایک بالشت بھر نکلتا ہے اور اسی حالت میں مر جاتا ہے، تو وہ جاہلیت کے دور کی موت مرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4791]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1849
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1850 ترقیم شاملہ: -- 4792
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ".
حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اندھے (قومی، نسلی، لسانی) تعصب کے کسی جھنڈے کے نیچے لڑا، عصبیت کی پکار لگاتے ہوئے، یا عصبیت (والوں) کی حمایت کرتے ہوئے تو (یہ) جاہلیت کی موت ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4792]
حضرت جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اندھے جھنڈے تلے قتل کر دیا جاتا ہے، تعصب کی دعوت دیتا ہے، یا تعصب کی بنا پر مدد کرتا ہے، تو اس کی موت جاہلیت کے زمانہ کی موت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4792]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1850
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1851 ترقیم شاملہ: -- 4793
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: " جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، حِينَ كَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا كَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً، فَقَالَ: إِنِّي لَمْ آتِكَ لِأَجْلِسَ أَتَيْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ، وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً "،
زید بن محمد نے نافع سے روایت کی، انہوں نے کہا: یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں جب حرہ کے واقعے میں جو ہوا سو ہوا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عبداللہ بن مطیع کے پاس گئے، اس نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! (حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت) کے لیے گدا بچھاؤ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں اس لیے تمہارے پاس نہیں آیا، میں تمہارے پاس (صرف) اس لیے آیا ہوں کہ تم کو ایک حدیث سناؤں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے (مسلمانوں کے حکمران کی) اطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں حاضر ہو گا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو گی اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی (مسلمان حکمران) کی بیعت نہیں تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4793]
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، یزید بن معاویہ کے دور میں جب حرہ کا واقعہ پیش آیا، جیسے بھی ہوا، عبداللہ بن مطیع کے پاس آئے، تو انہوں نے کہا: ابو عبدالرحمٰن کے لیے تکیہ رکھو، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں تمہارے پاس بیٹھنے کے لیے نہیں آیا، میں تو تمہیں وہ حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنی ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے اطاعت سے ہاتھ نکالا، وہ قیامت کے دن اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس (عذر کے لیے) کوئی دلیل نہیں ہو گی، اور جو اس حال میں مرے گا کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہیں ہو گی، وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4793]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1851
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1851 ترقیم شاملہ: -- 4794
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ أَتَى ابْنَ مُطِيعٍ فَذَكَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ،
بکیر بن عبداللہ بن اشج نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ ابن مطیع کے پاس گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4794]
امام صاحب یہ حدیث اپنے ایک اور استاد کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4794]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1851
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1851 ترقیم شاملہ: -- 4795
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.
زید کے والد اسلم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی جو نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4795]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ روایت کے ہم معنی حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما ہی سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4795]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1851
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
14. باب حُكْمِ مَنْ فَرَّقَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ مُجْتَمِعٌ:
باب: جو شخص مسلمانوں کے اتفاق میں خلل ڈالے۔
ترقیم عبدالباقی: 1852 ترقیم شاملہ: -- 4796
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، وقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّهُ سَتَكُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ، فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ "،
شعبہ نے زیاد بن علاقہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے عرفجہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جلد ہی فتنوں پر فتنے برپا ہوں گے، تو جو شخص اس امت کے معاملے (نظام سلطنت) کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہے جبکہ وہ متحد ہو تو اسے تلوار کا نشانہ بنا دو، وہ جو کوئی بھی ہو، سو ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4796]
حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”واقعہ یہ ہے کہ یقیناً ناپسندیدہ امور اور فتنوں کا ظہور ہوگا، تو جو انسان اس امت کے اتحاد و وحدت کو پارہ پارہ کرنے کا ارادہ کرے، تلوار سے اس کی گردن اڑا دینا، خواہ وہ کسی درجہ کا مالک ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4796]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1852
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1852 ترقیم شاملہ: -- 4797
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْخَثْعَمِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ . ح وحَدَّثَنِي حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، وَرَجُلٌ سماه كلهم، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَاقْتُلُوهُ.
ابوعوانہ، شیبان، اسرائیل، عبداللہ بن مختار اور ایک آدمی جس کا حماد نے نام لیا تھا، ان سب نے زیاد بن علاقہ سے، انہوں نے حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت بیان کی، مگر ان سب کی حدیث میں: ”اسے قتل کر دو“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4797]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ کی چار سندوں سے حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، صرف یہ فرق ہے کہ یہ اساتذہ «فَاضْرِبُوهُ» ”پس تم اسے قتل کر دو“ کے الفاظ کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4797]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1852
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1852 ترقیم شاملہ: -- 4798
وحَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَرْفَجَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ ".
ابویعفور نے حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب تمہارا نظام (حکومت) ایک شخص کے ذمے ہو، پھر کوئی تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت کو منتشر کرنے کے ارادے سے آگے بڑھے تو اسے قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4798]
حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو انسان تمہارے پاس آئے، جبکہ تم ایک آدمی (امیر) پر متفق ہو اور وہ تم میں اختلاف پیدا کرنا چاہے، تمہارے اتحاد کی لاٹھی (قوت) کو توڑنا چاہے، یا تمہاری جمعیت میں تفریق پیدا کرے تو اسے قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4798]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1852
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
15. باب إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ:
باب: جب دو خلیفوں سے بیعت ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1853 ترقیم شاملہ: -- 4799
وحَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خلیفوں کے لیے بیعت لی جائے تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4799]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خلیفوں کی بیعت کر لی جائے، تو ان میں سے دوسرے کو قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4799]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1853
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
16. باب وُجُوبِ الإِنْكَارِ عَلَى الأُمَرَاءِ فِيمَا يُخَالِفُ الشَّرْعَ وَتَرْكِ قِتَالِهِمْ مَا صَلَّوْا وَنَحْوِ ذَلِكَ:
باب: اگر امیر شرع کے خلاف کوئی کام کرے تو اس کو برا جاننا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 1854 ترقیم شاملہ: -- 4800
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَتَكُونُ أُمَرَاءُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْكِرُونَ، فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَمَنْ أَنْكَرَ سَلِمَ وَلَكِنْ مَنْ رَضِيَ "، وَتَابَعَ، قَالُوا: أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ، قَالَ: لَا مَا صَلَّوْا ".
ہمام بن یحییٰ نے کہا: ہمیں قتادہ نے حسن سے حدیث بیان کی، انہوں نے ضبہ بن محصن سے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلد ہی ایسے حکمران ہوں گے کہ تم انہیں (کچھ کاموں میں) صحیح اور (کچھ میں) غلط پاؤ گے۔ جس نے (ان کی رہنمائی میں) نیک کام کیے وہ بری ٹھہرا اور جس نے (ان کے غلط کاموں سے) انکار کر دیا وہ بچ گیا لیکن جو ہر کام پر راضی ہوا اور (ان کی) پیروی کی (وہ بری ہوا نہ بچ سکا۔)“ صحابہ نے عرض کی: کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں (جنگ نہ کرو)۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4800]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً ایسے حکمران ہوں گے، وہ معروف اور منکر، اچھے برے دونوں قسم کے کام کریں گے، جس نے (اچھے برے کی) شناخت کر لی، وہ بری ہو گیا اور جس نے منکر کا انکار کیا، وہ (گناہ سے) سلامت رہا، لیکن جس نے برے کاموں پر رضامندی کا اظہار کیا اور ان کی پیروی کی (وہ سلامت نہ رہا)۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: کیا ہم ان سے جنگ نہ لڑیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4800]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1854
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة