🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
شب قدر کی صبح سورج کا طلوع ہوتے وقت سرخ اور کمزور ہونا۔ سورج کی اس کیفیت سے شپ قدر پر استدلال کرنا، بشرطیکہ روایت صحیح ہو کیونکہ زمعہ کے حافظے کے بارے میں میرے دل میں عدم اطمینان ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2192
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ وَهْرَامَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ: " لَيْلَةٌ طَلْقَةٌ، لا حَارَّةٌ وَلا بَارِدَةٌ، تُصْبِحُ الشَّمْسُ يَوْمَهَا حَمْرَاءَ ضَعِيفَةً"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر کے بارے میں فرمایا: ”یہ ایک خوشگوار رات ہے، نہ گرم، نہ سرد اس کی صبح سورج سرخ اور کمزور ہوتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2192]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2192، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 424، 425، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2802»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ شب قدر کی صبح سورج کے بلند ہونے تک اس کی شعائیں نہیں ہوں گی۔ اسی طرح شام کے وقت بھی اس کی شعائیں نہیں ہوں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2193
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ لأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ؛ فَإِنَّ صَاحِبَنَا يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ: مَنْ يَقُمِ الْحَوْلَ يُصِبْهَا. قَالَ:" رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ عَلِمَ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ، وَلَكِنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَتَّكِلُوا، أَوْ أَحَبَّ أَنْ لا يَتَّكِلُوا. وَاللَّهِ إِنَّهَا لَفِي رَمَضَانَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، لا يَسْتَثْنِي". قَالَ: قُلْتُ: أَبَا الْمُنْذِرِ، أَنَّى عَلِمْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ: بِالآيَةِ الَّتِي أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: قُلْتُ لِزِرٍّ: مَا الآيَةُ؟ قَالَ: " تَطْلُعُ الشَّمْسُ صَبِيحَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةِ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ مِثْلَ الطَّسْتِ حَتَّى تَرْتَفِعَ"
حضرت زرّ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، کیونکہ ہمارے ساتھی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ جو شخص سارا قیام کرے وہ شب قدر پالے گا۔ تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمان پر رحم فرمائے۔ یقیناً انہیں علم ہے کہ شب قدر رمضان المبارک میں ہے لیکن اُنہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ لوگ بھروسہ کرلیں (اور عبادت میں محنت چھوڑ دیں) یا اُنہوں نے پسند کیا ہے کہ لوگ بھروسہ نہ کریں۔ اللہ کی قسم، شب قدر رمضان المبارک میں ستائیسویں رات ہے، اُنہوں نے اس میں استثنا، نہیں کیا (بلکہ قسم کے ساتھ ستا ئیسویں رات قرار دی) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی، ابومنذر یہ بات آپ کو کیسے معلوم ہوئی؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ اس نشانی سے معلوم ہوئی جو نشانی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی تھی۔ جناب عاصم کہتے ہیں کہ میں نے زرّ رحمه الله سے کہا کہ وہ نشانی کیا ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ شب قدر کی صبح سورج تھال کی مانند طلوع ہوگا، بلند ہونے تک اس کی شعاعیں نہیں ہوں گی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2193]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 762، 762، وابن الجارود فى "المنتقى"، 446، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2187، 2188، 2191، 2193، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3689، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5357، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3392، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1378، والترمذي فى (جامعه) برقم: 793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8643، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21581»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شب قدر میں زمین میں فرشتوں کی کثرت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2194
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ السَّابِعَةِ، أَوِ التَّاسِعَةِ وَعِشْرِينَ، وَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ أَكْثَرُ فِي الأَرْضِ مِنْ عَدَدِ الْحَصَى"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شب قدر ستائیسویں یا اُنتیسویں رات ہے اور اس رات میں فرشتے کنکریوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2194]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2194، وأحمد فى (مسنده) برقم: 10885، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2668، والبزار فى (مسنده) برقم: 9447، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2522، 4937»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کا بیان کہ شب قدر میں عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے والا شب قدر کی فضیلت پالیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2195
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَجَّاجِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْحَسْنَاءِ الْيَمَانِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ فِي جَمَاعَةٍ فِي رَمَضَانَ فَقَدْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے عشاء کی نماز رمضان المبارک میں باجماعت ادا کی تو اُس نے شب قدر کو پالیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2195]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شب قدر دکھانے کے بعد آپ کو شب قدر بھلا دینے کا بیان
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت ابوسلمہ کی سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ”بیشک مجھے شب قدر دکھائی گئی تھی پھر مجھے بھلا دی گئی۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2196]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم برقم: 2177»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب قدر نیند اور بیداری دونوں حالتوں میں دیکھی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2197
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، ثُمَّ أَيْقَظَنِي أَهْلِي فَنَسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے شب قدر (خواب میں) دکھائی گئی پھر مجھے میرے گھر والوں نے بیدار کر دیا تو میں وہ بھول گیا۔ لہٰذا تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2197]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1166، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2197، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3678، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3378، 3379، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1823، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8620»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس امید اور خیال کا بیان کہ شب قدر کا علم اُٹھایا جانا، اُن کی اُمّت کو اطلاع ملنے سے زیادہ بہتر ہے کیونکہ شب قدر کا حاصل کرنے کی طمع کے ساتھ ایک رات کی بجائے کئی راتیں عبادت میں محنت و کوشش کرنا افضل و اعلیٰ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2198
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يُخْبِرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَتَلاحَى رَجُلانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ: " إِنِّي خَرَجْتُ لأُخْبِرَكُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَتَلاحَى فُلانٌ وَفُلانٌ، فَرُفِعَتْ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ خَيْرًا لَكُمْ، فَالْتَمِسُوهَا فِي التِّسْعِ وَالسَّبْعِ وَالْخَمْسِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ:" فَرُفِعَتْ"، يَعْنِي: مَعْرِفَتِي بِتِلْكَ اللَّيْلَةِ
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شبِ قدر کی خبر دینے کے لئے گھر سے نکلے تو دو مسلمان شخص جھگڑرہے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں تمہیں شب قدر کی خبر دینے کے لئے گھر سے نکلا تھا تو فلاں فلاں شخص جھگڑ رہے تھے تو شب قدر کی معرفت اُٹھالی گئی اور امید ہے کی یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ لہٰذا تم اسے نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ”فَرُفِعَت“ کا معنی ہے یعنی میری اس رات کی معرفت و شناخت اُٹھالی گئی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2198]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 49، 2023، 6049، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2198، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3679، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8642، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23107»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
شب قدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرنے سے بندے کے گناہوں کی بخشش کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2199
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْتُهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً، قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے ایمان اور ثواب کی نیت سے ماہ رمضان کے روزے رکھے تو اُس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2199]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 35، 37، 38، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 759، ومالك فى (الموطأ) برقم: 376، وابن الجارود فى "المنتقى"، 444، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1894، 2199، 2201، 2203، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2546، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1601، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1371، والترمذي فى (جامعه) برقم: 683، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1326، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1682»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
رمضان المبارک کی تئیسویں رات کو دیہاتی شخص کا مدینہ منوّرہ کی مسجد میں نماز ادا کرنا مستحب ہے۔ جبکہ ان کی رہائش مدینہ منوّرہ کے قریب ہو تاکہ وہ شب قدر کو مسجد نبوی میں رہ کر تلاش کریں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2200
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَكُونُ بِالْبَادِيَةِ، وَأَنَا بِحَمْدِ اللَّهِ أُصَلِّي بِهَا، فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ أَنْزِلُهَا لِهَذَا الْمَسْجِدِ، أُصَلِّيهَا فِيهِ، قَالَ:" انْزِلْ لَيْلَةَ ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ" . قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبْدِ اللَّهِ: فَكَيْفَ كَانَ أَبُوكَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: يَدْخُلُ صَلاةَ الْعَصْرِ، ثُمَّ لا يَخْرُجُ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَخْرُجُ وَدَابَّتُهُ يَعْنِي عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَيَرْكَبُهَا فَيَأْتِي أَهْلَهُ
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، میں گاؤں میں رہتا ہوں اور اللہ کا شکر ہے کہ وہاں نماز بھی ادا کرتا ہوں، تو آپ مجھے کسی رات کے بارے میں حُکم دیں جس رات میں اس مسجد میں آگر نماز ادا کروں (یعنی مسجد نبوی میں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تئیسویں رات کو آجانا۔ جناب محمد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ کے بیٹے سے پوچھا، آپ کے والد گرامی کیسے کیا کرتے تھے؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ عصر کی نماز پڑھ کر مسجد نبوی میں داخل ہوجاتے پھر صبح کی نماز ادا کرنے تک نہیں نکلتے تھے۔ پھر وہ مسجد سے نکلتے تو اُن کی سواری مسجد کے دروازے پر ہوتی تھی تو وہ اُس پر سوار ہوکر اپنے گھر والوں کے پاس چلے جاتے۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2200]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2200، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1380»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
«12