صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1627. (72) بَابُ الْأَمْرِ بِقَسْمِ الصَّدَقَةِ فِي أَهْلِ الْبَلْدَةِ الَّتِي تُؤْخَذُ مِنْهُمُ الصَّدَقَةُ
جس شہر والوں سے زکٰوۃ وصول کی جائے گی انہی میں زکوٰۃ تقسیم کرنے کے حُکم کا بیان
حدیث نمبر: 2346
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ ، وَكَانَ ثِقَةً. ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ وَالِيًا، قَالَ: " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لا لَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ" ، هَذَا حَدِيثُ جَعْفَرٍ، وَقَالَ الْمُخَرِّمِيُّ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ:" ادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَجَابُوا لِذَلِكَ، فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ"، وَقَالَ فِي كُلِّهَا: فَإِنْ هُمْ أَجَابُوا لِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو فرمایا: ”بیشک تم ایک اہل کتاب قوم کے پاس جارہے ہو لہٰذا انہیں (سب سے پہلے) ”لَا إِلٰهَ إِلَّا الله“ کی گواہی دینے اور اس بات کی گواہی دینے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، کی دعوت دینا۔ پھر جب وہ اس بات میں تمھاری اطاعت کرلیں تو پھر اُنہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ پھراگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو اُنہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے جو اُن کے مالداروں سے وصول کر کے انہی کے فقراء میں تقسیم کی جائیگی۔ اگر وہ اس بات میں بھی تمہاری فرمانبرداری کرلیں تو پھر تم اُن کے عمدہ مال لینے سے بچنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ مظلوم کی بد دعا اور اللّٰہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے۔ یہ حدیث جناب جعفر کی روایت ہے اور جناب مخرمی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: ”انہیں اس بات کی دعوت دو کہ وہ گواہی دیں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول کرلیں تو اُنہیں بتانا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اُن پر فرض کیا ہے۔“ پوری روایت میں اسی طرح ہے کہ ”پھر اگر وہ تمہاری دعوت قبول کرلیں تو انہیں (اگلی بات) بتانا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2346]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1395، 1458، 1496، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 19، 19، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2275، 2346، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 156، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2434، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1584، والترمذي فى (جامعه) برقم: 625، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1783، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7371، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2058، 2059، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2100»
1628. (73) بَابُ ذِكْرِ تَحْرِيمِ الصَّدَقَةِ الْمَفْرُوضَةِ عَلَى النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض زکوٰۃ حرام ہے
حدیث نمبر: 2347
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ، فَنَزَعَهَا مِنْ فِيَّ، وَقَالَ: " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ، لا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ"
جناب ابو الحوراء بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ میں نے زکوٰة کی کھجوروں میں سے ایک کھجور پکڑ کر مُنہ میں ڈال لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مُنہ سے وہ کھجور کھینچ لی اور فرمایا: ”بیشک ہم آل محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے زکوٰة کا مال حلال نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2347]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 300، 301، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1095، 1096، 2347، 2348، 2349، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 722، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2180، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1744، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1425، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 464، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1740»
حدیث نمبر: 2348
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى , قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ، فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُعَابِهَا، فَأَلْقَاهَا فِي التَّمْرِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ؟ قَالَ: " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ، لا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ"، وَكَانَ يَقُولُ:" دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لا يَرِيبُكُ، فَإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ" ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ
جناب ابو الحوراء بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات یاد ہے کہ میں نے زکوٰة کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لیکر مُنہ میں ڈال لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجور لعاب سمیت کھینچ کر زکوٰة کی کھجوروں میں پھینک دی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا، اس بچّے نے جوکجھور لے لی تھی اس پر آپ پرتو کوئی حرج نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک ہم آل محمد کے لئے زکوٰة کا مال حلال نہیں ہے اور آپ فرمایا کرتے تھے۔ جو چیز تمہیں شک و شبہ میں ڈالے اُسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے کیونکہ خیر و برکت اطمینان قلب میں ہے اور جھوٹ شک و شبہ والا ہوتا ہے۔ پھر مکمّل حدیث بیان [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2348]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 300، 301، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1095، 1096، 2347، 2348، 2349، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 722، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2180، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1744، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1425، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 464، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1740»
1629. (74) بَابُ ذِكْرِالْبَيَانِ أَنّ عَلٰی أَوْلِيَاءِ الْأَطفَالِ مِنْ اٰلِ النَّبِیِّ صلَّی اللّٰہُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ مَنْعُھُمْ مِنْ أَكْلِ مَا حُرِّمَ عَلَی اَلْبَالِغِیْنَ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ آل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچّوں کے اولیاء کے لئے ضروری ہے کہ وہ انہیں اس مال کو کھانے سے منع کریں جوان کے بالغ مرد خواتین پر حرام ہے
حدیث نمبر: 2349
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شَيْبَانَ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَذْكُرُ أَنَّهُ أَدْخَلَنِي مَعَهُ غُرْفَةَ الصَّدَقَةِ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً، فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ، فَقَالَ:" أَلْقِهَا، فَإِنَّهَا لا تَحِلُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ"
جناب ابن شیبان بیان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پوچھا، آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بات یاد ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ آپ مجھے اُس کمرے میں لیکرداخل ہوئے جس میں زکوٰۃ کا مال رکھا ہوا تھا تو میں نے ایک کھجور لیکر مُنہ میں ڈال لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نکال دو کیونکہ یہ مالِ زکوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر کے کسی شخص کے لئے حلال نہیں ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2349]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 300، 301، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1095، 1096، 2347، 2348، 2349، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 722، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2180، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1744، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1425، بدون ترقيم، والترمذي فى (جامعه) برقم: 464، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1740»
1630. (75) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الصَّدَقَةَ الْمُحَرَّمَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ الصَّدَقَةُ الْمَفْرُوضَةُ الَّتِي أَوْجَبَهَا اللَّهُ فِي أَمْوَالِ الْأَغْنِيَاءِ لِأَهْلِ سُهْمَانِ الصَّدَقَةِ، دُونَ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف فرضی زکوٰۃ حرام ہے جو اللہ تعالی نے مستحقین زکوٰۃ کے لئے مالداروں کے اموال میں واجب کی ہے
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰة کی وصولی کے لئے بھیجا تو اُس نے مجھ سے کہا کہ میرے ساتھ چلو (تا کہ تم بھی مال حاصل کرسکو) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے مخزومی شخص کو فرض زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ہے۔“ لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے یہ کہنا: ”بیشک ہمارے لئے زکوٰة کا مال حلال نہیں ہے۔“ یہ آپ کا جواب اس صدقے کے بارے میں تھا جس فرضی صدقے کے بارے میں سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے(وصول کنندہ کی) معاونت کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2350]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم تخريجه برقم: 2344»
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ میں نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اُٹھالی اور یہ کھجور، کھجوروں کی فرض زکوٰۃ کے دسویں یا بیسویں حصّے میں سے تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2351]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث المتقدم: 2347»
اور حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ کی روایت میں بھی (فرضی زکوٰۃ کی وضاحت ہے) جب وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپ سے زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کرنے کا سوال کیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بتایا تھا کہ یہ زکوٰۃ لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ مال محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لئے حلال نہیں ہے اور بلاشبہ اُنہوں نے فرضی زکوٰۃ کی وصولی پر عامل مقرر کرنے کا سوال کیا تھا۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان دونوں کو یہ جواب دینا کہ یہ صدقہ جس پر تم نے عامل مقرر کیے جانے کا مجھ سے سوال کیا ہے یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہے اور یہ مال محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کے لئے حلال نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2352]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، تقدم تخريجه برقم: 2342»
1631. (76) بَابُ ذِكْرِ دَّلَائِلِ أُخْرَى عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ "- صَدَقَةَ الْفَرِيضَةِ دُونَ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ
اس بات کے مزید دلائل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان ”بیشک صدقہ آلِ محمد کے لئے حلال نہیں ہے“ سے آپ کی مراد فرض صدقہ (زکوٰۃ) مراد ہے۔ نفلی صدقہ مراد نہیں ہے
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”ہماری میراث تقسیم نہیں کی جائیگی، جو مال ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوگا۔ بلاشبہ آلِ محمد اس مال میں سے کھائیں گے۔“ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ آپ کی آل آپ کے صدقہ میں سے کھائے گی کیونکہ آپ کا صدقہ فرض صدقہ (زکوٰۃ) نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب قسم الصدقات وذكر أهل سهمانها/حدیث: 2353]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، کتاب فرض الخمس، باب فرض الخمس، حديث: 3092، 3093 ـ صحيح مسلم، کتاب الجہاد، باب قول النبی ﷺ "لا نورث ما تركنا فهو صدقة"، حديث: 1759.»