🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1874. ‏(‏133‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَمَرَ هَذَا الْمُحْرِمَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ بِغَسْلِ الطِّيبِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ خَلُوقٌ فِيهِ زَعْفَرَانٌ وَالتَّزَعْفُرُ غَيْرُ جَائِزٍ لِلْحَلَالِ
اس بات کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محرم کو اپنے جسم پر لگی خوشبو دھونے کا حُکم دیا تھا کیونکہ اس خوشبو میں زعفران ملا ہوا تھا اور زعفرانی خوشبو تو غیر محرم کے لئے بھی حرام ہے چہ جائیکہ محرم اسے استعمال کرے۔ اس کے لئے تو بالاولیٰ حرام ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2672
ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَعَبْدُ الْمَلَكِ ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَالْحَجَّاجُ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ عَلَيْهَا رَدْغٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْرَمْتُ فَمَا تَرَى، وَالنَّاسُ يَسْخَرُونَ مِنِّي، قَالَ: فَأَطْرَقَ عَنْهُ هُنَيْهَةً، قَالَ: ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ: " اخْلَعْ عَنْكَ هَذِهِ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ هَذَا الزَّعْفَرَانَ، وَاصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا كُنْتَ تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ" ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: قَالَ حَجَّاجٌ: ثنا عَطَاءٌ، بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَنَا هَذَا الْحَدِيثُ: يَخْرِقُ جُبَّتَهُ، فَلَمَّا بَلَغَنَا هَذَا الْحَدِيثُ أَخَذْنَا بِهِ
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے جبہ پہنا ہوا تھا جو زعفران میں لتھڑا ہوا تھا۔ تو اُس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں نے اس طرح احرام باندھا (جیسے آپ دیکھ رہے ہیں) جبکہ لوگ میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اب آپ مجھے کیا حُکم دیتے ہیں۔ آپ نے تھوڑی دیر اپنا سر مبارک جھکا لیا اور اُسے جواب نہ دیا۔ پھر اُسے بلایا اور حُکم دیا: یہ جبہ اتار دو اور اپنے جسم سے اس زعفران کو دھو ڈالو اور اپنے عمرے میں اسی طرح عمل کرو جس طرح تم اپنے حج میں کرتے ہو۔ حدیث کے آخر میں ہے، امام عطاء فرماتے ہیں کہ ہمیں ہی حدیث پہنچنے سے پہلے ہم کہتے تھے کہ ایسا شخص اپنے جبے کو پھاڑ ڈالے، پھر جب ہمیں یہ حدیث مل گئی تو ہم نے اسی کے مطابق عمل اختیار کرلیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2672]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1536، 1789، 1847، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1180، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1179، وابن الجارود فى "المنتقى"، 492، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2670، 2671، 2672، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3778، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2667، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1819، والترمذي فى (جامعه) برقم: 835، 836، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9189، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2474، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18231»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1875. ‏(‏134‏)‏ بَابُ ذِكْرِ زَجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَزَعْفُرِ الْمُحِلِّ وَالْمُحْرِمِ جَمِيعًا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم اور غیر محرم کو زعفرانی خو شبو لگانے سے منع کیا ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2673
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرِّجَالَ عَنِ التَّزَعْفُرِ" ، قَالَ حَمَّادٌ: يَعْنِي الْخَلُوقَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفرانی خوشبو استعمال کرنے سے منع کیا ہے۔ جناب حماد کہتے ہیں کہ آپ کی مراد خلوق خوشبو ہے (جس میں زعفران ملا ہوتا ہے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2673]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5846، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2101، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2673، 2674، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5464، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2705، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4179، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2815، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9061، 9062، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12160»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2674
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ . ح وَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو زعفرانی خوشبو اور رنگ سے منع کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2674]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5846، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2101، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2673، 2674، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5464، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2705، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4179، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2815، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9061، 9062، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12160»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1876. ‏(‏135‏)‏ بَابِ ذِكْرِ دَلِيلٍ ثَانٍ يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ مَا تَأَوَّلَتُ
زعفرانی خوشبو کے ممنوع ہونے کی ایک اور دلیل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2675
أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ يَعْلَى بِغَسْلِ الطِّيبِ الَّذِي كَانَ عَلَى الْمُحْرِمِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ الْمُحِلَّ أَيْضًا بِغَسْلِ الْخَلُوقِ الَّذِي كَانَ قَدْ تُخَلَّقَ بِهِ، فَسَوَّى فِي الْأَمْرِ بِغَسْلِ الْخَلُوقِ بَيْنَ الْمُحْرِمِ وَالْمُحِلِّ‏.‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2675
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: شَحَيْتُ يَوْمًا، فَقَالَ لِي صَاحِبٌ لِي: اذْهَبْ بِنَا إِلَى الْمَنْزِلِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ، وَتَخَلَّقْتُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمْسَحُ وُجُوهَنَا، فَلَمَّا دَنَا مِنِّي جَعَلَ يُجَافِي يَدَهُ عَنِ الْخَلُوقِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ لِي:" يَا يَعْلَى، مَا حَمَلَكَ عَلَى الْخَلُوقِ، أَتَزَوَّجْتَ؟" قُلْتُ: لا، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَاذْهَبْ فَاغْسِلْهُ"، قَالَ: فَمَرَرْتُ عَلَى رَكِيَّةٍ فَجَعَلْتُ أَقَعُ فِيهَا، ثُمَّ جَعَلْتُ أَتَدَلَّكُ بِالتُّرَابِ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ جِئْتُ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَعَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ، الْعُلا تَابَ وَاسْتَهَلَّتِ السَّمَاءُ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ أَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْلَى بْنَ مُرَّةَ بِغَسْلِ الْخَلُوقِ، وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، كَمَا أَمَرَ الْمُحْرِمَ بِغَسْلِ الْخَلُوقِ
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میرا رنگ بدلا ہوا تھا (طبیعت ناساز تھی) تو میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ گھر چلو، تو میں گھر گیا، میں نے غسل کیا اور خلوق خوشبو لگائی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مبارک یہ تھا کہ آپ (نماز کے وقت) ہمارے چہروں پر اپنا دست مبارک پھیرتے (اور ہمارے لئے دعائے خیر فرماتے) پھر جب آپ میرے قریب ہوئے تو آپ نے زعفرانی خوشبو سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھ سے کہا: اے یعلی، تم نے زعفرانی خوشبو کیوں لگائی ہوئی ہے کیا شادی کی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حُکم دیا۔ جاؤ اور اس خوشبو کو دھو ڈالو۔ سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک کنویں پر گیا اور اُس میں نہایا پھر میں نے مٹی کے ساتھ مل مل کر وہ خوشبو صاف کردی۔ پھر میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا: یعلی توبہ کرکے اپنے بہترین دین پر واپس آ گیا ہے اور آسمان والا بھی خوش ہوگیا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کو زعفرانی خوشبو دھونے کا حُکم دیا حالانکہ وہ غیر محرم تھے جیسا کہ آپ نے محرم کو زعفرانی خوشبو دھونے کا حُکم دیا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2675]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2675، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5136، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2816، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17824»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1877. ‏(‏136‏)‏ بَابُ الْبَيَانِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْمُحْرِمَ فِي الْجُبَّةِ عَلَيْهِ خَرْقُ الْجُبَّةِ، وَغَيْرُ جَائِزٍ لَهُ نَزْعُهَا فَوْقَ رَأْسِهِ
ان علماء کے قول کے برخلاف بیان جو کہتے ہیں کہ جس محرم نے جبہ پہنا ہوا ہو اسے وہ جبہ پھاڑ کر اتارنا چاہیے اور سر کے اوپر سے اتارنا اس کے لئے جائز نہیں ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1878. ‏(‏137‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي حَلْقِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ إِذَا مَرِضَ أَوْ أَذَاهُ الْقُمَّلُ أَوِ الصِّيبَانُ أَوْ هُمَا،
محرم جب بیمار ہو جائے یا اسے بڑی جوئیں اور چھوٹی جوئیں تکلیف دے رہی ہوں تو وہ سر کے بال منڈوا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2676
وَإِيجَابِ الْفِدْيَةِ عَلَى حَالِقِ الرَّأْسِ وَإِنْ كَانَ حَلْقُهُ مِنْ مَرَضٍ أَوْ أَذًى بِرَأْسِهِ
مگر اسے فدیہ دینا واجب ہوگا اگر چہ اس نے کسی بیماری یا سر میں تکلیف کی بنا پر ہی سر منڈوایا ہو [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2676]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2676
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا كَثِيرُ الشَّعْرِ، فَقَالَ: " كَأَنَّ هَوَامَّ رَأْسِكَ يُؤْذِيكَ؟" فَقُلْتُ: أَجَلْ، قَالَ:" فَاحْلِقْهُ وَاذْبَحْ شَاةً نَسِيكَةً، أَوْ صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقَ بِثَلاثَةِ آصُعٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينٍ"
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میرے بال کافی بڑے اور گھنے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا سر منڈوا لو اور ایک بکری قربان کرو یا تین روزے رکھو یا تین صاع اناج چھ مسکینوں میں صدقہ کردو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2676]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1814، 1815، 1816، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1201، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1575، وابن الجارود فى "المنتقى"، 495، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2676، 2677، 2678، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3978، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2851، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1856، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3079، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 289، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7811، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2780، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18388»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں