صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1864. (123) بَابُ إِبَاحَةِ الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ،
محرم اپنے قدم کے اوپر سینگی لگوا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: Q2659
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ احْتَجَمَ مُحْرِمًا غَيْرَ مَرَّةٍ، مَرَّةً عَلَى الرَّأْسِ، وَمَرَّةً عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ
اور اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں کئی بار سینگی لگوائی ہے۔ ایک مرتبہ سر مبارک میں اور دوسری بار قدم کے اوپر لگوائی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2659]
حدیث نمبر: 2659
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں میں تکلیف کی وجہ سے حالت احرام میں پاؤں کے اوپر سینگی لگوائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2659]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1940، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2658، 2659، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3952، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1671، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2849، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1837، 2375، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8363، 19587، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12879»
1865. (124) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الْوَجَعَ الَّذِي وَجَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْرَامِهِ فَاحْتَجَمَ بِسَبَبِهِ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ، وَجَدَهُ بِظَهْرِهِ أَوْ بِوَرِكِهِ لَا بِقَدَمِهِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس تکلیف کی بنا پر حالت احرام میں اپنے قدم مبارک پر سینگی لگوائی تھی، وہ تکلیف آپ کی کمر یا سرین میں تھی، قدم میں نہیں تھی
حدیث نمبر: 2660
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِظَهْرِهِ أَوْ بِوَرِكِهِ" ، لَمْ يَقُلْ لَنَا بُنْدَارٌ: أَوْ بِوَرِكِهِ، قِيلَ لَنَا: إِنَّهُ كَانَ فِي كِتَابِهِ، وَلَمْ يَتَكَلَّمْ بِهِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ بُحَيْنَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" احْتَجَمَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ وَجَعٍ وَجَدَهُ فِي رَأْسِهِ"، فَدَلَّ خَبَرُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ احْتَجَمَ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ، وَإِنَّمَا كَانَتْ لِلْوَثْءِ الَّذِي كَانَ بِظَهْرِهِ أَوْ بِوَرِكِهِ، لأَنَّ فِي خَبَرِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ إِحْدَى الْحِجَامَتَيْنِ كَانَ مِنْ وَجَعٍ وَجَدَهُ فِي رَأْسِهِ، وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ أَنَّ إِحْدَاهُمَا كَانَ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِظَهْرِهِ أَوْ بِوَرِكِهِ، وَقَدْ رَوَى ابْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ،".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمر یا سرین میں درد کی وجہ سے حالت احرام میں سینگی لگوائی تھی۔ جناب بندار کی روایت میں ”سرین“ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ لفظ ان کی کتاب میں موجود تھا مگر انہوں نے بیان نہیں کیا۔ امام ابوبکر رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس اور ابن بُحینه رضی اللہ عنہم کی روایات میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سرین مبارک میں ایک تکلیف کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔ جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے کمر یا کو لہے کی تکلیف کی وجہ سے قدم کے اوپر سینگی لگوائی تھی۔ کیونکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے سر مبارک میں تکلیف کی وجہ سے سر میں سینگی لگوائی تھی۔ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنی کمر یا کو لہے میں درد کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2660]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1487، 1615، 2660، 2661، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2112، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2848، وأبو داود فى (سننه) برقم: 602، 3863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3082، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5154، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1562، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14425»
حدیث نمبر: 2661
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ مِنْ رَهْصَةٍ أَصَابَتْهُ"، حَدَّثَنَاهُ الزِّيَادِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذِهِ الرُّخْصَةُ تُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الْوَثْءُ الَّذِي ذُكِرَ فِي خَبَرِ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
جبکہ ابن خثیم کی روایت میں ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں میں درد کی وجہ سے سینگی لگوائی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ممکن ہے یہ درد وہی ہو جس کی وجہ سے آپ نے سینگی لگوائی ہو اور جس کا تذکرہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2661]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1487، 1615، 2660، 2661، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2112، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2848، وأبو داود فى (سننه) برقم: 602، 3863، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3082، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5154، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1562، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14425»
1866. (125) بَابُ إِبَاحَةِ رُكُوبِ الْمُحْرِمِ الْبُدْنَ إِذَا سَاقَهُ بِلَفْظٍ مُجْمَلٍ غَيْرِ مُفَسَّرٍ
ایک مجمل غیر مفسر روایت کا بیان کہ محرم جب قربانی کا جانور ساتھ لیکر جائے تو اس پر سواری کرسکتا ہے
حدیث نمبر: 2662
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وَحَدَّثَنَا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: " ارْكَبْهَا"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ أَوْ وَيْحَكَ" ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس آئے جو اپنی قربانی کا جانور اونٹ ہانک کر لے جارہا تھا۔ تو آپ نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ۔“ اُس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ تم پر افسوس ہے۔ یا تمہارا بھلا ہو۔“ یہ ابوداؤد کی روایت کے الفاظ ہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2662]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1690، 2754، 6159، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1322، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2662، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2799، والترمذي فى (جامعه) برقم: 911، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3104، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10316، 10317، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12140»
1867. (126) بَابُ ذِكْرِ الْخَبَرِ الْمُفَسِّرِ لِبَعْضِ اللَّفْظَةِ الْمُجْمَلَةِ الَّتِي ذَكَرْتُهَا
گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان
حدیث نمبر: 2663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَحَدَّثَنَاهُ مَرَّةً، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ، قَالَ:" ارْكَبْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا"
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جبکہ آپ سے قربانی کے اونٹ پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک دوسری سواری نہ ملے، اس پر سواری کرلو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2663]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1324، وابن الجارود فى "المنتقى"، 472، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2663، 2664، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4015، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2801، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1761، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10318، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14637»
1868. (127) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَبَاحَ رُكُوبَ الْبُدْنِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کی عدم دستیابی کی صورت میں
حدیث نمبر: Q2664
عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَى رُكُوبِهَا عِنْدَ الْإِعْوَازِ مِنْ وُجُودِ الظُّهْرِ رُكُوبًا بِالْمَعْرُوفِ، وَمِنْ غَيْرِ أَنْ يَشُقَّ الرُّكُوبُ عَلَى الْبَدَنَةِ
قربانی کے اونٹ پر سواری کرنے کی اجازت اس وقت دی ہے جس وقت ضرورت کے مطابق اس پر سواری کی جائے اور اس پر غیر ضروری مشقت نہ ڈالی جائے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2664]
حدیث نمبر: 2664
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، سُئِلَ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ارْكَبْ بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا"
جناب ابو زبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے سنا جبکہ ان سے قربانی کے جانور پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ فرما رہے تھے کہ ”جب تمہیں دوسری سواری نہ ملے تو مجبوری کی حالت میں قربانی کے اونٹ پر سواری کرلو مگر اچھے طریقے کے ساتھ (بلاوجہ سواری نہ کرو اور ضرورت سے زیادہ اس پر مشقت نہ ڈالو)۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2664]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1324، وابن الجارود فى "المنتقى"، 472، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2663، 2664، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4015، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2801، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1761، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10318، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14637»
1869. (128) بَابُ ذِكْرِ الدَّوَابِّ الَّتِي أُبِيحَ لِلْمُحْرِمِ قَتَلْهَا فِي الْإِحْرَامِ
ان جانوروں کا بیان جنہیں محرم حالت احرام میں قتل کرسکتا ہے
حدیث نمبر: Q2665
بِذِكْرِ لَفْظَةٍ مُجْمَلَةٍ فِي ذِكْرِ بَعْضِهِنَّ بِلَفْظٍ عَامٍّ، مُرَادُهُ خَاصٌّ عَلَى أَصْلِنَا
۔ اس سلسلے میں ایک مجمل روایت کا بیان، جبکہ بعض روایات کے الفاظ عام ہیں جب کہ ان سے مراد خاص ہے۔ جیسا کہ ہمارا قاعدہ ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2665]