🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1856. ‏(‏115‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي غَسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ
محرم کو اپنا سر دھونے کی رخصت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2650
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حسينٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: امْتَرَى الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ وَهُمَا بِالْعَرْجِ فِي غُسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ، وَقَالَ مَرَّةً فِي غَسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ أَسْأَلُهُ، فَأَتَيْتُهُ بِالْعَرْجِ، وَهُوَ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَآنِي ضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى صَدْرِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ أَسْأَلُكَ: كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟" فَأَمَرَ بِدَلْوٍ فَصَبَّ، فَأَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا فِي رَأْسِهِ ، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ"، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لَهُ الْمِسْوَرُ: لا أُمَارِيكَ فِي شَيْءٍ بَعْدَهَا أَبَدًا
جناب عبد اللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا عرج مقام پر محرم کے اپنا سر دھونے کے بارے میں اختلاف ہو گیا۔ ایک مرتبہ راوی نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کے حالت احرام میں) اپنا سر مبارک دھونے کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ تو انہوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے بھیجا۔ میں اُن کے پاس عرج مقام پر حاضر ہوا تو وہ کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کر رہے تھے۔ میں نے اُنہیں سلام کیا۔ اُنہوں نے جب مجھے دیکھا تو کپڑا اپنے سینے پر لپیٹ لیا حتّیٰ کہ میں نے اُن کے سینے کو دیکھا۔ میں نے عرض کیا، مجھے آپ کے بھتیجے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ میں آپ سے دریافت کروں کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں اپنا سر مبارک کیسے دھوتے ہوئے دیکھا تھا۔ لہٰذا اُنہوں نے پانی کا ایک ڈول منگوایا، اس میں سے پانی انڈیلا اور اپنے سر پر بہایا۔ پھر اپنے سر کے اگلے اور پچھلے حصّے کو ہاتھوں سے ملا۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ جناب عبداللہ بن حنین کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو آ کر بتایا تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہنے لگے کہ میں اس کے بعد کبھی بھی آپ سے کسی مسئلے میں بحث و تکرار نہیں کروںگا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2650]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1840، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1205، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1154، وابن الجارود فى "المنتقى"، 486، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2650، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3948، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5998، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2664، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1840، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1834، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2934، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9224، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2673، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24012»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1857. ‏(‏116‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْحِجَامَةِ لِلْمُحْرِمِ مِنْ غَيْرِ قَطْعِ شَعَرٍ وَلَا حَلْقِهِ
محرم بغیر بال کاٹے یا منڈوائے سینگی لگوا سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2651
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " احْتَجَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" ، ثُمَّ سَمِعْتُ عَمْرًا بَعْدَ ذَلِكَ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ:" احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ"، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ جناب سفیان کہتے ہیں کہ پھر میں نے جناب عمرو بن دینار کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے طاوس نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں امام عمرو بن دینار نے یہ روایت امام عطاء اور طاوس دونوں سے بیان کی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2651]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1835، 1938، 1939، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1202، وابن الجارود فى "المنتقى"، 427، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2651، 2655، 2657، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3531، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1571، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2845، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1835، والترمذي فى (جامعه) برقم: 775، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1682، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8361، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1874»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1858. ‏(‏117‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ادِّهَانِ الْمُحْرِمِ بِدُهْنٍ غَيْرِ مُطَيَّبٍ
محرم حالت احرام میں غیر خوشبودار تیل استعمال کرسکتا ہے

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2652
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَيَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا فَرْقَدٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادَّهَنَ بِزَيْتٍ غَيْرِ مُقَتَّتٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا خَائِفٌ أَنْ يَكُونَ فَرْقَدٌ السَّبَخِيُّ وَاهِمًا فِي رَفْعِهِ هَذَا الْخَبَرَ، فَإِنَّ الثَّوْرِيَّ، رَوَى عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَدْهِنُ بِالزَّيْتِ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يُحْرِمَ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں غیر خوشبودار تیل لگایا تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ اس روایت کو مرفوع بیان کرنے میں فرقد سبخی کو وہم ہوا ہے۔ کیونکہ امام سفیان ثوری رحمه الله نے منصور کے واسطے سے حضرت سعید بن جبیر رحمه الله سے بیان کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو تیل لگاتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2652]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1537، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2652، 2653، والترمذي فى (جامعه) برقم: 962، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3083، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4875»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2653
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهْمًا عِلْمِي هُوَ الصَّحِيحُ، الادِّهَانُ بِالزَّيْتِ فِي حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، إِنَّمَا هُوَ مِنْ فِعْلِ ابْنِ عُمَرَ لا مِنْ فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ أَحْفَظُ وَأَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ، وَأَتْقَنَ مِنْ عَدَدٍ مِثْلِ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، وَهَكَذَا رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، عَنْ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، رَوَاهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، فَقَالَ: عِنْدَ الإِحْرَامِ. ح حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَرَوَاهُ الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ حَمَّادٍ ، فَقَالَ: إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَاللَّفْظَةُ الَّتِي ذَكَرَهَا وَكِيعٌ، وَالَّتِي ذَكَرَهَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ لَوْ كَانَ الدُّهْنُ مُقَتَّتًا بِأَطْيَبِ الطِّيبِ جَازَ الادِّهَانُ بِهِ إِذَا أَرَادَ الإِحْرَامَ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَطَيَّبَ حِينَ أَرَادَ الإِحْرَامَ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ، وَالْمِسْكُ أَطْيَبُ الطِّيبِ عَلَى مَا خَبَّرَ الْمُصْطَفي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: غَيْرَ مُقَتَّتٍ غَيْرَ مُطَيَّبٍ.
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق یہ بات صحیح ہے کہ حضرت سعید بن جبیر کی روایت میں تیل لگانے کا عمل سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے نہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ اور منصور راوی (جنہوں نے اسے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل قرار دیا ہے) وہ فرقد سبخی جیسے کئی راویوں سے بڑھ کر علم حدیث کے حافظ اور متقن عالم ہیں۔ اسی طرح حجاج بن منہال نے بھی امام حماد سے بیان کیا ہے۔ امام وکیع بن جراح نے بھی بیان کیا ہے (کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) احرام باندھتے وقت تیل لگاتے تھے۔ جناب ہیشم بن جمیل بھی امام حماد سے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو تیل لگاتے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں لہٰذا جو الفاظ امام وکیع اور ہیشم بن جمیل نے بیان کیے ہیں (کہ احرام باندھتے وقت یا احرام کا ارادہ کرتے وقت تیل لگاتے تھے) ان الفاظ کے مطابق تو بہترین خوشبودار تیل لگانا بھی جائز ہے جب کہ احرام کا ارادہ کرتے وقت لگایا جائے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کا ارادہ کرتے وقت کستوری کی ملاوٹ والی بہترین خوشبو لگائی تھی۔ جبکہ کستوری سب سے اعلیٰ اور عمدہ خوشبو ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے۔ (لہٰذا احرام کے وقت تیل لگایا جا سکتا ہے جیسا کہ امام حماد کے کئی شاگردوں نے روایت کیا ہے۔ جبکہ فرقد سبخی کا حالت احرام میں تیل لگانے کی مرفوع روایت بیان کرنا ان کا وہم ہے)۔ جناب محمد بن یحیٰی کہتے ہیں کہ غیر مقتت کا معنی ہے، غیر خوشبودار۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2653]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1537، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2652، 2653، والترمذي فى (جامعه) برقم: 962، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3083، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4875»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1859. ‏(‏118‏)‏ بَابُ إِبَاحَةِ مُدَاوَاةِ الْمُحْرِمِ عَيْنَهُ- إِذَا أَصَابَهُ رَمَدٌ- بِالصَّبِرِ
جب محرم کی آںکھیں دکھتی ہوں تو وہ ایلوے کی پٹی کرسکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2654
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، حَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا اشْتَكَى عَيْنَيْهِ، وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ"
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شخص کی حالت احرام میں آنکھیں دُکھتی ہوں تو وہ ایلوے کی لیپ کرلے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2654]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1204، وابن الجارود فى "المنتقى"، 488، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2654، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3954، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2710، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1838، والترمذي فى (جامعه) برقم: 952، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1971، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9218، وأحمد فى (مسنده) برقم: 429»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1860. ‏(‏119‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي السِّوَاكِ لِلْمُحْرِمِ
محرم مسواک کرسکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الدَّرَامِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَطَاوُسٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَهَلْ تَسَوَّكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں سینگی لگوائی۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے شاگردوں نے پوچھا) کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں مسواک بھی کی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2655]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1835، 1938، 1939، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1202، وابن الجارود فى "المنتقى"، 427، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2651، 2655، 2657، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3531، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1571، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2845، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1835، والترمذي فى (جامعه) برقم: 775، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1682، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8361، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1874»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1861. ‏(‏120‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي تَلْبِيدِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ كَيْ لَا يَتَأَذَّى بِالْقُمَّلِ وَالصِّيبَانِ فِي الْإِحْرَامِ
محرم اپنے سرپر لیپ کرسکتا ہے تاکہ بڑی چھوٹی جوئیں اسے تکیف نہ دیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2656
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُهِلُّ مُتَلَبِّدًا" ، ثنا يُونُسُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكٍ: يُلَبِّدُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ؟ قَالَ: بِالصَّمْغِ وَالْغَاسُولِ
سیدنا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر پر لیپ کیے ہوئے تلبیہ کہتے ہوئے سُنا۔ جناب وہب بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمه الله سے پوچھا، محرم اپنے سر پر کس چیز کا لیپ کرے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ گوند اورخطمی (نیلے رنگ کا پھول جو بطور دوا استعمال ہوتا ہے) کے ساتھ۔۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2656]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1540، 1549، 1554، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1184، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1192، وابن الجارود فى "المنتقى"، 476، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2621، 2622، 2656، 2716، 2888، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3799، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1657، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2682، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1747، والترمذي فى (جامعه) برقم: 825، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2918، 3047، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9067، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2449، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4543»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1862. ‏(‏121‏)‏ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي حِجَامَةِ الْمُحْرِمِ عَلَى الرَّأْسِ وَإِنْ كَانَ الْمَحْجُومِ ذَا جُمَّةٍ أَوْ وَفْرَةٍ، بِذِكْرِ خَبَرٍ مُخْتَصَرٍ غَيْرِ مُتَقَصٍّ
محرم کو سر میں سینگی لگوانے کی رخصت ہے اگرچہ اس کے بال کندھوں تک یا کانوں کے برابر ہوں۔ اس سلسلے میں ایک مختصر غیر مفصل روایت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2657
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى رَأْسِهِ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ ابْنِ بُحَيْنَةَ مِنْ هَذَا الْبَابِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت احرام میں اپنے سر میں سینگی لگوائی۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ابن بحينه کی روایت بھی اسی مسئلہ کے متعلق ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2657]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1835، 1938، 1939، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1202، وابن الجارود فى "المنتقى"، 427، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2651، 2655، 2657، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3531، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1571، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2845، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1835، والترمذي فى (جامعه) برقم: 775، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1682، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8361، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2512، 2513، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1874»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1863. ‏(‏122‏)‏ بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا احْتَجَمَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ وَجَعٍ وَجَدَهُ بِرَأْسِهِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک میں کسی تکلیف کی وجہ سے سینگی لگوائی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنِ الصَّائِمِ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ: مَا كُنَّا نَرَى إِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ إِلا لِجَهْدِهِ، وَلَمْ يُسْنِدْهُ، وَقَالَ:" قَدِ احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَمِنْ وَجَعٍ وَجَدَهُ فِي رَأْسِهِ"
جناب حمید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، کیا روزے دار سینگی لگوا سکتا ہے۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ہم روزے دار کی تکلیف اور کمزوری کی وجہ سے سینگی لگوانا ناپسند کرتے تھے۔ لیکن انہوں نے یہ بات مرفوع بیان نہیں کی۔ اور انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک میں ایک تکلیف کی بنا پر حالت احرام میں سینگی لگوائی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2658]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1940، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2658، 2659، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3952، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1671، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2849، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1837، 2375، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8363، 19587، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12879»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں