اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب تحريم ضرب الخدود وشق الجيوب والدعاء بدعوى الجاهلية
باب: رخسار پر مارنا گریبان پھاڑنا اور جاہلیت کی سی باتیں کرنا حرام ہے
حدیث نمبر: 65
65 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعودٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ، وَشَقَّ الْجُيُوبَ، وَدَعا بِدَعْوى الْجاهِلِيَّةِ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (کسی میت پر) اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑے اور عہدِ جاہلیت کی سی باتیں کرے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 65]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز 39 باب ليس منا من ضرب الخدود»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 66
66 صحيح حديث أَبي مُوسَى رضي الله عنه وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا شَديدًا فَغُشِي عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ في حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْها شَيْئًا؛ فَلَمَّا أَفاقَ قَالَ أَنا بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرئَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ وَالْحالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی (ام عبداللہ بنت ابی رومہ) کی گود میں تھا، (وہ ایک زور دار چیخ مار کر رونے لگی) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کچھ بول نہ سکے، لیکن جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی غم کے وقت) ”چلا کر رونے والی، سر منڈوا دینے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 66]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 23 كتاب الجنائز: 38 باب ما ينهى من الحلق عند المصيبة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
34. باب بيان غلظ تحريم النميمة
باب: چغل خوری سخت حرام ہے
حدیث نمبر: 67
67 صحيح حديث حُذَيْفَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 67]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 50 باب ما يكره من النميمة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبداللہ تھی۔ بڑے منتخب اور گنے چنے صحابہ میں سے تھے۔ آپ کے والد حسیل نے اپنی قوم کا ایک آدمی مار دیا، پھر بھاگ کر مدینہ میں پناہ لی اور بنی عبدالاشہل کے حلیف بن گئے۔ اس لیے قوم نے اس کا نام یمان رکھ دیا تھا۔ بنیادی احادیث کے راوی ہیں جن میں سے بارہ متفق علیہ ہیں۔ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مدائن میں وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
35. بيان غلظ تحريم إِسبال الإِزار والمن بالعطية وتنفيق السلعة بالحلف، وبيان الثلاثة الذين لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر إليهم، ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم
باب: تہبند ٹخنوں سے نیچے رکھنے اور احسان کر کے جتانے اور جھوٹی قسم کھا کر مال بیچنے کی سخت حرمت کا بیان اور ان تین آدمیوں کا بیان جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کو دکھ کا عذاب ہوگا
حدیث نمبر: 68
68 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَةٌ لا يَنْظُرُ اللهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَلا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذابٌ أَليمٌ: رَجُلٌ كَانَ لَهُ فَضْلُ مَاءٍ بِالطَّريقِ فَمَنَعَهُ مِنِ ابْنِ السَّبيلِ؛ وَرَجُلٌ بايَعَ إِمامَهُ لا يُبايِعُهُ إِلاّ لِدُنْيا، فَإِنْ أَعْطاهُ مِنْها رَضِيَ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا سَخِطَ؛ وَرَجُلٌ أَقامَ سِلْعَتَهُ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقالَ وَاللهِ الَّذي لا إِلهَ غَيْرُهُ لَقَدْ أَعْطَيْتُ بِها كَذا وَكَذا، فَصَدَّقَهُ رَجُلٌ ثُمَّ قَرَأَ هذِهِ الآيَةَ (إِنَّ الَّذينَ يَشْتَرونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمانِهِمْ ثَمَنًا قَليلاً)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”تین طرح کے لوگ وہ ہوں گے جن کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نظر بھی نہیں اٹھائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا؛ ایک وہ شخص جس کے پاس راستے میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور اس نے کسی مسافر کو اس کے استعمال سے روک دیا، دوسرا وہ شخص جو کسی حاکم سے بیعت صرف دنیا کے لیے کرے کہ اگر وہ حاکم اسے کچھ دے تو وہ راضی رہے ورنہ خفا ہو جائے، تیسرا وہ شخص جو اپنا (بیچنے کا) سامان عصر کے بعد لے کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، مجھے اس سامان کی قیمت اتنی اتنی مل رہی تھی، اس پر ایک شخص نے اسے سچ سمجھا (اور اس کی بتائی ہوئی قیمت پر اس سامان کو خرید لیا)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلَا يَنظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [سورة آل عمران: 77] ”بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 68]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 42 كتاب المساقاة: 5 باب إثم من منع ابن السبيل من الماء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
36. باب بيان غلظ تحريم قتل الإِنسان نفسه وأن من قتل نفسه بشيء عذب به في النار، وأنه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة
باب: خود کشی کی سخت حرمت اور خود کشی کرنے والے کا عذاب جہنم میں مبتلا ہونا اور جنت میں سوائے مسلمان کے کسی کا نہ جانا
حدیث نمبر: 69
69 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ في نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى فِيهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيها أَبَدًا، وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ في يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ في نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فيها أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَديدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ في يَدِهِ يَجَأُ بِها في بَطْنِهِ في نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيها أَبَدًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خود کشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہو گا اور اس میں ہمیشہ پہاڑ سے گرتا رہے گا، اور جس نے زہر پی کر خود کشی کر لی تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں وہ اسے اسی طرح ہمیشہ پیتا رہے گا، اور جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خود کشی کر لی تو اس کا ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے وہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 69]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 76 كتاب الطب: 56 باب شرب السم والدواء به وبما يخاف منه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 70
70 صحيح حديث ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، وَكانَ مِنْ أَصْحابِ الشَّجَرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلى مِلَّةٍ غَيْرِ الإِسْلامِ فَهُوَ كَما قَالَ، وَلَيْسَ عَلى ابْنِ آدَمَ نَذْرٌ فِيما لا يَمْلِكُ، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ في الدُّنْيا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيامَةِ، وَمَنْ لَعَنَ مُؤْمِنًا فَهُوَ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَتْلِهِ
سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ صحابۂ شجرہ (بیعت رضوان کرنے والوں) میں سے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے (کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میں نصرانی ہوں، یہودی ہوں) تو وہ ایسے ہی ہو جائے گا جیسے اس نے کہا اور کسی انسان پر ان چیزوں کی نذر صحیح نہیں ہوتی جو اس کے اختیار میں نہ ہوں۔ اور جس نے دنیا میں کسی چیز سے خود کشی کر لی اسے اسی چیز سے آخرت میں عذاب ہوگا، اور جس نے کسی مسلمان پر لعنت بھیجی تو یہ اس کا خون کرنے کے برابر ہے اور جو شخص کسی مسلمان کو کافر کہے تو وہ ایسا ہے جیسے اس کا خون کیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 70]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 44 باب ما ينهى من السباب واللعن»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو یزید ہے۔ آپ بیعت رضوان میں شریک ہوئے، بقول امام ترمذی بدر میں حاضر ہوئے۔ تین نبوی کو پیدا ہوئے، اور ۴۵ ہجری کو وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 71
71 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: شَهِدْنا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَقالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يَدَّعِي الإِسْلامَ: هذا مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَلَمّا حَضَرَ الْقِتالُ قاتَلَ الرَّجُلُ قِتالاً شَديدًا فَأَصابَتْهُ جِراحَةٌ، فَقِيلَ يا رَسُولَ اللهِ الَّذِي قُلْتَ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِنَّه قَدْ قاتَلَ الْيَوْمَ قِتالاً شَدِيدًا، وَقَدْ مَاتَ، فَقالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلى النَّارِ قَالَ فَكادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتابَ؛ فَبَيْنَما هُمْ عَلى ذلِكَ إِذْ قِيلَ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ وَلكِنَّ بِهِ جِراحًا شَدِيدًا، فَلَمّا كانَ مِنَ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلى الْجِراحِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ: فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذلِكَ، فَقالَ: اللهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنّي عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِلالاً فَنادى في النَّاسِ: إِنَّه لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلاّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَإِنَّ اللهَ لَيُؤَيِّدُ هذا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفاجِرِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں موجود تھے، آپ نے ایک شخص کے متعلق جو اپنے کو مسلمان کہتا تھا، فرمایا: ”یہ شخص دوزخ والوں میں سے ہے۔“ جب جنگ شروع ہوئی تو وہ شخص (مسلمانوں کی طرف سے) بڑی بہادری کے ساتھ لڑا اور وہ زخمی بھی ہو گیا، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخ میں جائے گا، آج تو وہ بڑی بے جگری کے ساتھ لڑا ہے اور (زخمی ہو کر) مر بھی گیا ہے۔ آپ نے اب بھی وہی جواب دیا: ”جہنم میں گیا۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ممکن تھا کہ بعض لوگوں کے دل میں کچھ شبہ پیدا ہو جاتا، لیکن ابھی لوگ اسی غور و فکر میں تھے کہ کسی نے بتایا کہ ابھی وہ مرا نہیں ہے، البتہ زخم کاری ہے۔ پھر جب رات آئی تو اس نے زخموں کی تاب نہ لا کر خود کشی کر لی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ پھر آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے لوگوں میں یہ اعلان کر دیا: ”مسلمان کے سوا جنت میں کوئی اور داخل نہیں ہو گا اور اللہ تعالیٰ کبھی کبھی اپنے دین کی امداد کسی فاجر شخص سے بھی کرا لیتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 71]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 182 باب إن الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر»
وضاحت: کیونکہ وہ مسلمان ہو چکا ہے جس کا خون محفوظ ہے۔ اور اسلام اس غلطی پر غالب آگیا ہے جو اس نے تیرا ہاتھ کاٹا تھا۔ یعنی قصاص کی وجہ سے تیرا خون بہانا جائز ہوگیا ہے۔ (مرتبؒ)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 72
72 صحيح حديثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقى هُوَ وَالْمُشْرِكُونَ فَاقْتَتَلُوا فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلى عَسْكَرِهِ، وَمالَ الآخَرُونَ إِلى عَسْكَرِهِمْ، وَفي أَصْحابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لا يَدَعُ لَهُمْ شاذَّةً وَلا فَاذَّةً إِلاَّ اتَّبَعَهَا يَضْرِبُها بِسَيْفِهِ، فَقالُوا ما أَجْزَأَ مِنّا الْيَوْمَ أَحَدٌ كَما أَجْزَأَ فُلانٌ؛ فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَما إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنا صَاحِبُهُ قَالَ فَخَرَجَ مَعَهُ كُلَّما وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ، وَإِذا أَسْرَعَ أسرع مَعَهُ؛ قَالَ فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَديدًا، فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالأَرْضِ، وَذُبابَهُ بَيْنَ ثَدْييْهِ ثُمَّ تَحامَلَ عَلى نَفْسِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ قَالَ: وَما ذَاكَ قَالَ: الرَّجُلُ الَّذي ذَكَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: أَنا لَكُمْ بِهِ، فَخَرَجْتُ في طَلَبِهِ، ثُمَّ جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ، فَوَضَع نَصْلَ سَيْفِهِ في الأَرْضِ، وَذُبابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، ثُمَّ تَحامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فيما يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيما يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهْوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (اپنے اصحاب کے ہمراہ احد یا خیبر کی لڑائی میں) مشرکین سے مڈبھیڑ ہوئی اور جنگ چھڑ گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس دن لڑائی سے فارغ ہو کر) اپنے پڑاؤ کی طرف واپس ہوئے اور مشرکین اپنے پڑاؤ کی طرف، تو آپ کی فوج کے ساتھ ایک شخص تھا؛ لڑائی لڑنے میں اس کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر پڑ جاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیتا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے ہم میں کوئی بھی اس طرح نہ لڑ سکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: ”لیکن وہ شخص دوزخی ہے“۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے (اپنے دل میں) کہا: اچھا میں اس کا پیچھا کروں گا (دیکھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیوں دوزخی فرمایا ہے)۔ بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ (دوسرے دن لڑائی میں موجود) رہا، جب کبھی وہ کھڑا ہو جاتا تو یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور جب وہ تیز چلتا تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہو گیا، زخم بڑا گہرا تھا اس لیے اس نے چاہا کہ موت جلدی آ جائے اور اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلے میں کر لیا اور تلوار پر گر کر اپنی جان دے دی۔ اب وہ صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا بات ہوئی؟“ انہوں نے بیان کیا کہ وہی شخص جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بڑا شاق گزرا تھا، میں نے ان سے کہا کہ تم سب لوگوں کی طرف سے میں اس کے متعلق تحقیق کرتا ہوں، چنانچہ میں اس کے پیچھے ہو لیا، اس کے بعد وہ شخص سخت زخمی ہوا اور چاہا کہ جلدی موت آ جائے، اس لیے اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابل کر لیا اور اس پر گر کر خود جان دے دی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں ہوتا ہے“۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 56 كتاب الجهاد: 77 باب لا يقول فلان شهيد»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا سہل بن سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو العباس الساعدی تھی۔ ان کا نام حزن تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر سہل رکھ دیا۔ بڑے مشہور صحابی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ان کی عمر ۱۵سال تھی۔ مدینہ منورہ میں سب سے آخر میں فوت ہونے والے صحابی ہیں۔ ۹۱ ہجری کو وفات پائی۔ متعدد احادیث کے راوی ہیں۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 73
73 صحيح حديث جُنْدُبَ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ فَجَزِعَ، فَأَخَذَ سِكِّينًا فَحَزَّ بِها يَدَهُ فَما رَقَأَ الدَّمُ حَتّى مَاتَ، قَالَ اللهُ تَعالَى بادَرَنِي عَبْدي بِنَفْسِهِ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھلے زمانے میں ایک شخص (کے ہاتھ میں) زخم ہو گیا تھا اور اسے اس سے بڑی تکلیف تھی، آخر اس نے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خون بہنے لگا اور اسی سے وہ مر گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے نے خود میرے پاس آنے میں جلدی کی اس لیے میں نے بھی جنت کو اس پر حرام کر دیا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 60 كتاب الأنبياء: 50 باب ما ذكر عن بني إسرائيل»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا جندب بن عبداللہ بن سفیان رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اپنے دادا کی طرف منسوب ہوتے تھے۔ کوفہ اور بصرہ میں رہائش پذیر رہے۔ انہیں جندب الخیر، جندب الفاروق اور جندب ابن ام جندب بھی کہا جاتا ہے۔ ۶۴ ہجری کوفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
37. باب غلظ تحريم الغلول وأنه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون
باب: مال غنیمت چوری کرنا سخت حرام ہے اور جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے
حدیث نمبر: 74
74 صحيح حديث أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: افْتَتَحْنَا خَيْبَرَ وَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلا فِضَّةً، إِنَّما غَنِمْنا الْبَقَرَ وَالإِبِلَ وَالْمَتاعَ وَالْحَوائِطَ، ثُمَّ انْصَرَفْنا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلى وادي الْقُرى وَمَعَهُ عَبْدٌ لَهُ يُقالُ لَهُ مِدْعَمٌ، أَهْداهُ لَهُ أَحَدُ بَني الضِّبابِ؛ فَبَيْنَما هُوَ يَحُطُّ رَحْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جاءَهُ سَهْمٌ عائِرٌ حَتّى أَصابَ ذَلِكَ الْعَبْدَ فَقالَ النَّاسُ: هَنيئًا لَهُ الشَّهادَةُ فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلى وَالَّذي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ الَّتي أَصابَها يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغانِمِ لَمْ تُصِبْها الْمَقاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نارًا فَجاءَ رَجُلٌ، حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِشِراكٍ أَوْ بِشِراكَيْنِ، فَقالَ: هذا شَيْءٌ كُنْتُ أَصَبْتُهُ فَقالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شِراكٌ أَوْ شِرَاكانِ مِنْ نارٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو مال غنیمت میں ہمیں سونا اور چاندی نہیں ملا تھا، بلکہ گائے، اونٹ، سامان اور باغات ملے تھے، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی القریٰ کی طرف لوٹے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مدعم نامی غلام تھا جو بنی ضباب کے ایک صحابی نے آپ کو ہدیہ میں دیا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ کسی نامعلوم سمت سے ایک تیر آ کر اس کو لگا، لوگوں نے کہا: مبارک ہو شہادت! لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو چادر اس نے خیبر میں تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے چرائی تھی، وہ اس پر آگ کا شعلہ بن کر بھڑک رہی ہے۔“ یہ سن کر ایک دوسرے صحابی ایک یا دو تسمے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یہ میں نے اٹھا لیے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بھی جہنم کا تسمہ بنتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 64 كتاب المغازى: 38 باب غزوة خيبر»
الحكم على الحديث:
«صحیح»