🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. باب السواك
باب: مسواک کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 144
144 صحيح حديث حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوص فَاهُ بِالسِّوَاكِ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 144]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 73 باب السواك»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. باب خصال الفطرة
باب: سنت باتوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 145
145 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْفِطْرَة خَمْسٌ أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: الْخِتَانُ، وَالاِسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ ”پانچ چیزیں فطری ہیں (یا فرمایا کہ) پانچ چیزیں فطرت سے ہیں: ختنہ کرانا، زیرِ ناف بال مونڈنا، بغل کے بال نوچنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کم کرانا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 145]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 63 باب قص الشارب»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 146
146 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ، وَفِّرُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں خوب کترواؤ۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 146]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 64 باب تقليم الأظفار»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 147
147 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أنْهِكوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللِّحَى
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مونچھیں خوب کتروا لیا کرو اور داڑھی کو بڑھاؤ۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 147]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 65 باب إعفاء اللحى»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. باب الاستطابة
باب: استنجاء کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
148 صحيح حديث أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَتَيْتمُ الْغَائِطَ فَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلاَ تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّأْمَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللهَ تَعَالَى
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو اس وقت نہ تو قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ کرو بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف اس وقت اپنا منہ کر لیا کرو۔“ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم جب شام آئے تو یہاں کے بیت الخلا قبلہ رخ بنے ہوئے تھے (جب ہم قضائے حاجت کے لیے جاتے) تو ہم مڑ جاتے اور اللہ عز وجل سے استغفار کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 29 باب قبلة أهل المدينة وأهل الشام والمشرق»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا خالد بن زید بن کلیب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوایوب انصاری ہے نجار قبیلہ سے تعلق تھا۔ ہجرت کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ہی نزول فرمایا تھا۔ بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک تھے۔ بدر اور دیگر تمام غزوات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خارجیوں کے مدمقابل جنگ میں حصہ لیا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ان کے بیٹے یزید کے ساتھ ۵۲ہجری میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا اور یہیں پر شہید ہوئے اور قلعہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ یزید نے آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 149
149 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقولُ: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِذَا قَعَدْتَ عَلَى حَاجَتِكَ فَلاَ تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلاَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لَقَدِ ارْتَقَيْتُ يَوْمًا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنَا، فَرَأَيْتُ رسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلاً بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ لوگ کہتے تھے کہ جب قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو نہ بیت المقدس کی طرف، حالانکہ ایک دن میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے دو اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 149]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 12 باب من تبرز على لبنتين»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 150
150 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ ارْتَقَيْتُ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعضِ حَاجَتِي فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَةِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ (ایک دن میں اپنی بہن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے مکان کی چھت پر اپنی کسی ضرورت سے چڑھا، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کرتے وقت قبلہ کی طرف پشت اور شام کی طرف منہ کیے ہوئے نظر آئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 150]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 14 باب التبرز في البيوت»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. باب النهي عن الاستنجاء باليمين
باب: داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 151
151 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ، وَإِذَا أَتَى الْخَلاَءَ فَلاَ يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ وَلاَ يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پانی پیے تو برتن میں سانس نہ لے اور جب پاخانہ (بیت الخلاء) میں جائے اپنی شرمگاہ کو داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 151]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 18 باب النهي عن الاستنجاء باليمين»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ پنی کنیت ابوقتادہ انصاری سے معروف تھے اور مشہور گھڑ سوار تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ہمارے بہترین گھڑ سوار ابوقتادہ ہیں۔ غزوہ احد، خندق اور حدیبیہ میں شامل رہے۔ ۵۴ہجری میں مدینہ میں وفات پائی۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. باب التيمن في الطهور وغيره
باب: طہارت وغیرہ میں داہنی طرف شروع کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 152
152 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ فِي تَنَعُّلِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَطُهُورِهِ، وَفِي شَأْنِهِ كُلِّهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہننے، کنگھی کرنے، وضو کرنے اور اپنے ہر کام میں داہنی طرف سے کام کی ابتدا کرنے کو پسند فرمایا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 152]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 21 باب التيمن في الوضوء والغسْل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. باب الاستنجاء بالماء من التبرز
باب: بول و براز سے پانی کے ساتھ استنجاء کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 153
153 صحيح حديث أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلاَءَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلاَمٌ [ص:62] إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَعَنَزَةً؛ يَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانے (بیت الخلاء) میں جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن اور نیزہ لے کر چلتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی سے طہارت کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 153]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 17 باب حمل العنزة مع الماء في الاستنجاء»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں