🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. باب حكم بول الطفل الرضيع وكيفية غسله
باب: شیر خوار بچے کے پیشاب کو دھونے کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 164
164 صحيح حديث أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اپنا چھوٹا بچہ لے کر آئی جو کھانا نہیں کھاتا تھا (یعنی شیر خوار تھا)، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گود میں بٹھا لیا، اس بچے نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، آپ نے پانی منگا کر کپڑے پر چھڑک دیا اور اسے نہیں دھویا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 164]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 59 باب بول الصبيان»
وضاحت: شیر خوار بچہ جس نے کچھ بھی کھانا پینا نہیں سیکھا ہے اس کے پیشاب پر پانی کے چھینٹے کافی ہیں۔ مگر یہ حکم صرف مرد بچوں کے لیے ہے بچیوں کا پیشاب بہرحال دھونا ہی ہوگا۔ (راز) راوي حدیث: سیدہ ام قیس بن محصن رضی اللہ عنہا آپ سیّدناعکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں، بقول بعض آپ کا نام آمنہ تھا۔ مکہ میں اسلام قبول کیا تھا، بیعت کی اور مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ ۲۴ احادیث کی راوی ہیں۔ جن میں سے دو متفق علیہ ہیں۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. باب غسل المني في الثوب وفركه
باب: منی سے آلودہ کپڑے کو دھونے اور کھرچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 165
165 صحيح حديث عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَتْ: كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَخْرُجُ إِلَى الصَّلاَةِ وَأَثَرُ الغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ، بُقَعُ الْمَاءِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس منی کے بارے میں پوچھا گیا جو کپڑے کو لگ جائے، تو انہوں نے فرمایا کہ میں منی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھو ڈالتی تھی، پھر آپ نماز کے لیے باہر تشریف لے جاتے اور دھونے کا نشان (یعنی) پانی کے دھبے آپ کے کپڑے میں باقی ہوتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 64 باب غسل المني وفركه، وغسل ما يصيب المرأة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. باب نجاسة الدم وكيفية غسله
باب: خون کی نجسات اور اس کے دھونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 166
166 صحيح حديث أَسْماءَ قَالَتْ: جَاءتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ إِحْدَانَا تَحِيضُ فِي الثَّوْبِ كَيْفَ تَصْنَعُ قَالَ: تَحُتُّهُ ثُمَّ تَقْرُصُهُ بِالْمَاءِ وَتَنْضَحُهُ ثُمَّ تُصَلي فِيهِ
راویِ حدیث: سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابتدا میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دس سال بڑی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے بیٹے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں۔ «ذَاتُ النِّطَاقَيْنِ» ”دو پٹکوں والی“ کے لقب سے معروف ہیں۔ ہجرت کے وقت حاملہ تھیں، اسی بطن سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تھے۔ اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی تھی کہ اے بیٹے عزت کی زندگی گزارو اور عزت کی موت مرو اور دشمن تمہیں قیدی نہ بنا سکے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت سے دس یا بیس دن بعد سو برس کی عمر میں 73 ہجری کو مکہ میں وفات پائی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 166]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاری فی: ۴۔ کتاب الوضوء: ۶۳۔ باب غسل الدم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. باب الدليل على نجاسة البول ووجوب الاستبراء منه
باب: پیشاب کی نجاست اور اس سے سخت پرہیز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 167
167 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ، فَقَالَ: إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ؛ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَبْرِى مِنَ الْبَوْلِ؛ وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ لِمَ فَعَلْتَ هذَا قَالَ: لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں پر سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دونوں قبر والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور کسی بڑے گناہ پر نہیں۔ ایک تو ان میں سے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کیا کرتا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی لے کر بیچ سے اس کے دو ٹکڑے کیے اور ہر ایک قبر پر ایک ٹکڑا گاڑ دیا، لوگوں نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایسا) کیوں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید جب تک یہ ٹہنیاں خشک نہ ہوں، ان پر عذاب میں کچھ تخفیف رہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 167]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 56 باب ما جاء في غسل البول»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں