اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. باب الاستنجاء بالماء من التبرز
باب: بول و براز سے پانی کے ساتھ استنجاء کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 154
154 صحيح حديث أَنسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رفع حاجت کے لیے باہر تشریف لے جاتے تو میں آپ کے پاس پانی لاتا اور آپ اس سے استنجا فرماتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 56 باب ما جاء في غسل البول»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
85. باب المسح على الخفين
باب: موزوں پر مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 155
155 صحيح حديث جَرِيرٍ بْنِ عَبْدِ اللهِ بَالَ ثُمَّ تَوضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، فسُئِلَ فَقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ هذَا
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا، پھر کھڑے ہوئے اور (موزوں سمیت) نماز پڑھی، آپ سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 155]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 25 باب الصلاة في الخفاف»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 156
156 صحيح حديث حُذَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُنِي أَنَا وَالنَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَمَاشَى، فَأَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ خَلْفَ حَائِطٍ فَقَامَ كَمَا يَقُومُ أَحَدُكُمْ، فَبَالَ، فَانْتَبَذْتُ مِنْهُ، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَجِئْتُهُ، فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ حَتَّى فَرَغَ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے کہ ایک قوم کی کوڑی (کوڑا پھینکنے کی جگہ) پر (جو) ایک دیوار کے پیچھے (تھی) پہنچے تو آپ اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح ہم تم میں سے کوئی (شخص) کھڑا ہوتا ہے، پھر آپ نے پیشاب کیا اور میں ایک طرف ہٹ گیا، تب آپ نے مجھے اشارہ کیا تو میں آپ کے پاس (پردہ کی غرض سے) آپ کی ایڑیوں کے قریب کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ آپ پیشاب سے فارغ ہو گئے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 61 باب البول عند صاحبه والتستر بالحائط»
وضاحت: قضائے حاجت کرتے ہوئے جو چیز ملحوظ رکھنی چاہیے وہ ہے چھینٹوں سے بچنا۔ پس عام حالات میں بیٹھ کر ہی یہ بات ممکن ہوتی ہے جب کہ اس قسم کے خاص موقعوں پر کھڑے ہو کر چھینٹوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اس لیے اگر بیٹھنا مشکل اور دشوار ہو یا کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں احتیاط ہو تو کھڑے ہو کر پیشاب کرنے میں مضائقہ نہیں البتہ عام حالات میں بیٹھ کر پیشاب کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 157
157 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، (ایک دفعہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع حاجت کے لیے باہر گئے تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ پانی کا ایک برتن لے کر آپ کے پیچھے گئے، جب آپ قضاے حاجت سے فارغ ہو گئے تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے (آپ کو وضو کراتے ہوئے) آپ (کے اعضاء مبارکہ) پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 48 باب المسح على الخفين»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عیسیٰ یا ابو محمد یا ابو عبداللہ تھی۔ حدیبیہ سے پہلے مسلمان ہوئے اور صلح حدیبیہ اور بیعت رضوان۔ جنگ یمامہ اور شام وعراق کی فتوحات میں شریک رہے کئی مرتبہ کوفہ کے حاکم اور گورنر مقرر ہوئے۔ ستر سال کی عمر میں پچاس ہجری کو ماہ شعبان میں فوت ہوئے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 158
158 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: يَا مُغِيرَةُ خُذِ الإِدَاوَةَ؛ فَأَخَذْتُهَا، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي؛ فَقَضَى حَاجَتَهُ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ، فَذَهَبَ لِيُخْرِجَ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا فَضَاقَتْ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ثُمَّ صَلَّى
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوہ تبوک) میں تھا، آپ نے ایک موقع پر فرمایا: ”مغیرہ! پانی کی چھاگل اٹھا لے“، میں نے اسے اٹھا لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میری نظروں سے چھپ گئے، آپ نے قضائے حاجت کی، اس وقت آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ ہاتھ کھولنے کے لیے آستین اوپر چڑھانی چاہتے تھے لیکن وہ تنگ تھی، اس لیے آستین کے اندر سے ہاتھ باہر نکالا، میں نے آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے وضو کی طرح وضو کیا اور اپنے خفین (موزے) پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 7 باب الصلاة في الجبة الشأمية»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 159
159 صحيح حديث الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رضي الله عنه، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: أَمَعَكَ مَاءٌ قُلْتُ: نَعَمْ؛ فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَمَشَى حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ الإِدَاوَةَ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ ذِرَاعيْهِ مِنْهَا، حَتَّى أَخْرَجَهُمَا مِنْ أَسْفَلِ الْجبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ أَهْوَيْتُ لأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: دَعْهُما فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طاهِرَتَيْنِ فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ایک رات سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ نے دریافت فرمایا: ”تمہارے پاس پانی ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور چلتے رہے یہاں تک کہ رات کی تاریکی میں آپ چھپ گئے، پھر واپس تشریف لائے تو میں نے برتن کا پانی آپ کو استعمال کرایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا، ہاتھ دھوئے، آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے جس کی آستینیں چڑھانی آپ کے لیے دشوار تھیں، چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالے اور بازوؤں کو (کہنیوں تک) دھویا، پھر سر پر مسح کیا، پھر میں بڑھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں لیکن آپ نے فرمایا: ”رہنے دو، میں نے طہارت کے بعد انہیں پہنا تھا“، چنانچہ آپ نے ان پر مسح کیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 77 كتاب اللباس: 11 باب جبة الصوف في الغزو»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
86. باب حكم ولوغ الكلب
باب: برتن میں کتے کے منہ ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 160
160 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کتا برتن میں سے (کچھ) پی لے تو اس کو سات مرتبہ دھو لو (تو پاک ہو جائے گا)“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 160]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 33 باب الماء الذي يغسل به شعر الإنسان»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
87. باب النهي عن البول في الماء الراكد
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 161
161 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ في الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے (اور نہ) پھر اسی میں غسل کرنے لگے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 4 كتاب الوضوء: 68 باب البول في الماء الدائم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
88. باب وجوب غسل البول وغيره من النجاسات إِذَا حصلت فِي المسجد وأن الأرض تطهر بالماء من غير حاجة إلى حفرها
باب: مسجد میں پیشاب کو پانی سے دھونا ضروری ہے اور زمین پانی پیشاب سے پاک ہو جاتی ہے اس کی کھدائی ضروری نہیں
حدیث نمبر: 162
162 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَامُوا إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تُزْرِمُوهُ ثُمَّ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَيْهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی طرف دوڑے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پیشاب کو مت روکو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ڈول منگوایا اور وہ پیشاب کی جگہ پر بہا دیا گیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 162]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 78 كتاب الأدب: 35 باب الرفق في الأمر كله»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
89. باب حكم بول الطفل الرضيع وكيفية غسله
باب: شیر خوار بچے کے پیشاب کو دھونے کا طریقہ
حدیث نمبر: 163
163 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ، فَيَدْعُو لَهُمْ، فَأُتِيَ بِصَبِيٍّ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَتْبَعَهُ إِيَّاهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا کرتے تھے، ایک مرتبہ ایک بچہ لایا گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور پیشاب کی جگہ پر اسے ڈالا، کپڑے کو دھویا نہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطهارة/حدیث: 163]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 80 كتاب الدعوات: 3 باب الدعاء للصبيان بالبركة ومسح رؤوسهم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»