🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
152. باب الاعتراض بين يدي المصلي
باب: نماز کے سامنے لیٹے رہنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 293
293 صحيح حديث مَيْمُونَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ، وَأَنَا حَائِضٌ، وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں حائضہ ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتی، اکثر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھے چھو جاتا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 293]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 19 باب إذا أصاب المصلي امرأته إذا سجد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
153. باب الصلاة في ثوب واحد وصفة لبسه
باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان اور اس کے پہننے کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 294
294 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَائِلاً سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلاَةِ فِي ثَوبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک پوچھنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کچھ برا نہیں) بھلا کیا تم میں ہر شخص کے پاس دو کپڑے ہیں؟“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 294]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 4 باب الصلاة في الثوب الواحد ملتحفًا به»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 295
295 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى عَاتِقَيْهِ شَيْءٌ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کو بھی ایک کپڑے میں نماز اس طرح نہیں پڑھنی چاہیے کہ اس کے کندھوں پر کچھ نہ ہو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 295]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 5 باب إذا صلى في الثوب الواحد فليجعل على عاتقيه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 296
296 صحيح حديث عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلاً بِهِ، فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ
سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اسے لپیٹے ہوئے تھے اور اس کے دونوں کناروں کو دونوں کاندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 296]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 4 باب الصلاة في الثوب الواحد ملتحفًا به»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو حفص القرشی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پرورش پائی یعنی ربیبہ کے بیٹے ہیں۔ ہجرت سے چند سال پہلے پیدا ہوئے۔ ان کے والد سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ تین ہجری کو وفات پا گئے۔ انہوں نے ہی اپنی والدہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہاکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کروایا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے رضاعی چچا ہیں۔ عبدالملک بن مروان کی خلافت میں ۸۳۔ ہجری کو مدینہ منورہ میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 297
297 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَقَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ
محمد بن منکدر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا اور انہوں نے بتلایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 3 باب عقد الإزار على القفا في الصلاة»
وضاحت: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اکثر لوگوں کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا تھا۔ اس میں وہ سترپوشی کر کے نماز پڑھتے۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کپڑے موجود ہونے کے باوجود اسی لیے ایک کپڑے میں نماز ادا کی تاکہ لوگوں کوا س کا بھی جواز معلوم ہو جائے۔ اور اس طرح نماز جائز اور درست ہوگی۔ جمہور امت کا یہی فتویٰ ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں