اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. باب منع المار بين يدي المصلي
باب: نمازی کے آگے سے گذرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 283
283 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ أَبُو صَالِحِ السَّمَّانُ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ يُصَلِّي إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَدَفَعَ أَبُو سَعِيدٍ فِي صَدْرِهِ، فَنَظَرَ الشَّابُ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلاَّ بَيْنَ يَدَيْهِ؛ فَعَادَ لِيَجْتَازَ فَدَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَشَدَّ مِنَ الأُولَى فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ، فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ خَلْفَهُ عَلَى مَرْوَانَ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَلاِبْنِ أَخِيكَ يَا أَبَا سَعِيدٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعُهُ، فَإِنْ أَبى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ
ابو صالح سمّان رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ کسی چیز کی طرف منہ کیے ہوئے لوگوں کے لیے اسے آڑ بنائے ہوئے تھے۔ ابو معیط کے بیٹوں میں سے ایک جوان نے چاہا کہ آپ کے سامنے سے ہو کر گزر جائے، ابو سعید رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر دھکا دے کر باز رکھنا چاہا۔ جوان نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن کوئی راستہ سوائے سامنے سے گزرنے کے نہ ملا، اس لیے وہ پھر اسی طرف سے نکلنے کے لیے لوٹا۔ اب ابو سعید رضی اللہ عنہ نے پہلے سے بھی زیادہ زور سے دھکا دیا۔ اسے ابو سعید رضی اللہ عنہ سے شکایت ہوئی اور وہ اپنی یہ شکایت مروان کے پاس لے گیا، اس کے بعد ابو سعید رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے گئے۔ مروان نے کہا: اے ابو سعید رضی اللہ عنہ! آپ میں اور آپ کے بھتیجے میں کیا معاملہ پیش آیا؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ”جب کوئی شخص نماز کسی چیز کی طرف منہ کر کے پڑھے اور اس چیز کو آڑ بنا رہا ہو، پھر بھی اگر کوئی سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہیے، اگر اب بھی اسے اصرار ہو تو اس سے لڑنا چاہیے کیونکہ وہ شیطان ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 283]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 100 باب يرد المصلِّي مَن مرَّ بين يديه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 284
284 صحيح حديث أَبِي جُهَيْمٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ
بسر بن سعید رحمہ اللہ نے کہا کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں سیدنا ابو جُہیم عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سنا ہے؟ سیدنا ابو جُہیم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر چالیس تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 284]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 101 باب إثم المارّ بين يدي المصلي»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
151. باب دنو المصلي من السترة
باب: نمازی کے سترہ کے قریب کھڑے ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 285
285 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ بَيْنَ مُصَلَّي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْجِدَارِ مَمَرُّ الشَّاةِ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدہ کرنے کی جگہ اور دیوار کے درمیان ایک بکری کے گزر سکنے کا فاصلہ رہتا تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 285]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 91 باب قدركم ينبغي أن يكون بين المصلِّي والسترة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 286
286 صحيح حديث سَلَمَةَ، قَالَ: كَانَ جِدَارُ الْمَسْجِدِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ مَا كَادَتِ الشَّاةُ تَجُوزُهَا
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مسجد کی دیوار اور منبر کے درمیان بکری کے گزر سکنے کے فاصلے کے برابر جگہ تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 286]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 91 باب قدركم ينبغي أن يكون بين المصلِّي والسترة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا سلمہ بن عمرو بن الاکوع رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عامر اسلمی ہے پہلے پہل حدیبیہ میں شامل ہوئے۔ بڑے بہادر تھے اور تیز دوڑتے تھے حتیٰ کہ گھوڑے سے بھی سبقت لے جاتے تھے۔ مدینے میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔ ۷۴ ہجری میں ۸۰ سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 287
287 صحيح حديث سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ: كُنْتُ آتِي مَعَ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ فَيُصَلِّي عِنْدَ الأُسْطُوَانَةِ الَّتِي عِنْدَ الْمُصْحَفِ، فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ أَرَاكَ تَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدَ هذِهِ الأُسْطُوَانَةِ قَالَ: فَإِنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى الصَّلاَةَ عِنْدهَا
سیدنا یزید بن ابی عبید رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ساتھ (مسجد نبوی) میں حاضر ہوا کرتا تھا، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اس ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے جہاں قرآن شریف رکھا رہتا تھا، میں نے ان سے کہا کہ اے ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ خاص طور سے اسی ستون کو سامنے کر کے نماز پڑھا کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 287]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 95 باب الصلاة إلى الأسطوانة»
وضاحت: سیّدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں مسجد نبوی میں ایک ستون کے پاس قرآن شریف صندوق میں رکھا ہوتا تھا۔ اس کو ستون مصحف کہا کرتے تھے، یہاں اس کا ذکر ہے۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
152. باب الاعتراض بين يدي المصلي
باب: نماز کے سامنے لیٹے رہنے کا بیان
حدیث نمبر: 288
288 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهِيَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِ أَهْلِهِ اعْتِرَاضَ الْجَنَازَةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے بچھونے پر نماز پڑھتے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتی جیسے (نماز کے لیے) جنازہ رکھا جاتا ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 288]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 22 باب الصلاة على الفراش»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 289
289 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ کے سامنے) بچھونے پر آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی، جب آپ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 289]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 103 باب الصلاة خلف النائم»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 290
290 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَهَا (عَائِشَةَ) مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ، الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ فَقَالَتْ: شَبَّهْتُمُونَا بالْحُمُر وَالْكِلاَب وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي عَلَى السَرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقبْلَةِ، مُضْطَجِعَةً، فَتَبْدو لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ فأُوذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْسَلُّ مِنْ عِنْد رِجْلَيْهِ
مسروق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں (یعنی کتا، گدھا اور عورت)، اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم لوگوں نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے برابر کر دیا، حالانکہ اللہ کی قسم! خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ میں چارپائی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے بیچ میں لیٹی رہتی تھی، مجھے کوئی ضرورت پیش آتی اور چونکہ یہ بات مجھے پسند نہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (جب کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوں) بیٹھوں اور اس طرح آپ کو تکلیف ہو، اس لیے میں آپ کے پاؤں کی طرف سے خاموشی کے ساتھ نکل جاتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 290]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 105 باب من قال لا يقطع الصلاة شيء»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 291
291 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: أَعَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ فَيَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيتَوَسَّطُ السَّرِيرَ، فَيُصَلِّي، فَأَكْرَهُ أَنْ أُسَنِّحَهُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِي السَّرِيرِ حَتَّى أنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ تم لوگوں نے ہم عورتوں کو کتوں اور گدھوں کے برابر بنا دیا، حالانکہ میں چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور چارپائی کے بیچ میں آ جاتے (یا چارپائی کو اپنے اور قبلہ کے بیچ میں کر لیتے) پھر نماز پڑھتے، مجھے آپ کے سامنے پڑے رہنا برا معلوم ہوتا، اس لیے میں پائینتی کی طرف سے کھسک کر لحاف سے باہر نکل جاتی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 291]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 99 باب الصلاة إلى السرير»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 292
292 صحيح حديث عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلاَيَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا قَالَتْ: والْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو جایا کرتی تھی، میرے پاؤں آپ کے سامنے (پھیلے ہوئے) ہوتے، جب آپ سجدہ کرتے تو پاؤں کو ہلکے سے دبا دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی، پھر جب قیام فرماتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی، اس زمانہ میں گھروں کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 292]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 104 باب التطوع خلف المرأة»
الحكم على الحديث:
«صحیح»