🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
144. باب اعتدال أركان الصلاة وتخفيفها في تمام
باب: نماز میں تمام ارکان اعتدال سے پورے کرنے اور نماز کو ہلکا پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 273
273 صحيح حديث أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ: إِنِّي لاَ آلُو أَنْ أُصَلِّي بِكُمْ كَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا قَالَ ثَابِتٌ (راوي هذَا الْحَدِيثِ) كَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَكُمْ تَصْنَعُونَهُ، كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَامَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ؛ وَبَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ، حَتَّى يَقولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تھا بالکل اسی طرح تم لوگوں کو نماز پڑھانے میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا ہوں، ثابت (حدیث کے راوی) نے بیان کیا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک ایسا عمل کرتے تھے جسے میں تمہیں کرتے نہیں دیکھتا، جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں اور اسی طرح دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہتے کہ دیکھنے والا سمجھتا کہ بھول گئے ہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 273]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 140 باب المكث بين السجدتين»
وضاحت: حضرت امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صد افسوس کہ لوگوں نے اس سنت کو جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، چھوڑ رکھا ہے حتیٰ کہ ان کے محدث، فقیہ، مجتہد اور مقلد سب ہی اس سنت کے تارک نظر آتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے لیے ان لوگوں نے کون سا بہانہ بنا رکھا ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
145. باب متابعة الإمام والعمل بعده
باب: امام کی پیروی کرنے اور ہر کام امام کے بعد کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 274
274 صحيح حديث الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَضَعَ النَبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ عَلَى الأَرْضِ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھتے تھے، جب آپ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے (یعنی رکوع سے سر اٹھاتے) تو ہم میں سے کوئی اس وقت تک اپنی پیٹھ نہ جھکاتا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی پیشانی زمین پر نہ رکھ دیتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 274]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 133 باب السجود على سبعة أعظم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
146. باب ما يقال في الركوع والسجود
باب: رکوع اور سجدہ میں کیا پڑھنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 275
275 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَلُ الْقُرْآنَ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں اکثر یہ پڑھا کرتے تھے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي» ”اے اللہ، اے ہمارے رب! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، اے اللہ! مجھے بخش دے“ (اس دعا کو پڑھ کر) آپ قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 275]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 139 باب التسبيح والدعاء في السجود»
وضاحت: سورۂ نصر کے حکم (اپنے رب کی پاکی بیان کر اور اس سے بخشش مانگ) کی روشنی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ اور رکوع میں مذکورہ دعا پڑھا کرتے تھے جس کا ترجمہ یہ ہے: ”اے اللہ تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتا ہوں، اے اللہ! تو مجھ کو بخش دے۔“ اس دعا میں تسبیح، تحمید اور استغفار تینوں موجود ہیں۔ اس لیے رکوع اور سجدے میں اس کا پڑھنا افضل ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
147. باب أعضاء السجود والنهي عن كف الشعر والثوب وعقص الرأس في الصلاة
باب: سجدوں کے اعضاء کا بیان اور نماز میں بالوں اور کپڑوں کو نہ روکا جائے اور سر کے بالوں کا جوڑا نہ بنایا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 276
276 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ، وَلاَ يَكُفَّ شَعَرًا وَلاَ ثَوْبًا: الْجَبْهَةِ، وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سات اعضاء پر سجدہ کا حکم دیا گیا تھا اس طرح کہ نہ بالوں کو آپ سمیٹتے نہ کپڑے کو (وہ سات اعضاء یہ ہیں) پیشانی (معہ ناک) دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 276]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 133 باب السجود على سبعة أعظم»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
148. باب ما يجمع صفة الصلاة وما يفتتح به ويختم به
باب: نماز کی صفت کی جامعیت اور جس سے نماز شروع اور ختم کی جاتی ہے اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 277
277 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بحَيْنَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ
سیدنا عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے بازوؤں کے درمیان اس قدر کشادگی کر دیتے کہ دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی تھی۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 277]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 27 باب يبدي ضَبْعيه ويجافي في السجود»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا عبداللہ بن مالک بن قشب رضی اللہ عنہ بحینہ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام ہے۔ ابتدائی دور کے مسلمان ہیں۔ بڑے عبادت گزار، فاضل اور صائم الدھر تھے۔ مدینہ منورہ سے تیس میل کے فاصلے پر ریم جگہ پر قیام فرما تھے۔ مدینہ پر مروان کی اخیر امارت میں ۵۶ہجری میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
149. باب سترة المصلي
باب: نمازی کے سترہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 278
278 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَر بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلي إِلَيْهَا، وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذلِكَ فِي السَّفَرِ، فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن (مدینہ سے) باہر تشریف لے جاتے تو چھوٹے نیزے (برچھے) کو گاڑنے کا حکم دیتے، جب وہ آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا تو آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے، یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں بھی کیا کرتے تھے، (مسلمانوں کے) خلفاء نے اسی وجہ سے برچھا ساتھ رکھنے کی عادت بنا لی ہے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 278]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 90 باب سترة الإمام سترة من خلفه»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 279
279 صحيح حديث ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو سامنے عرض میں کر لیتے اور اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 279]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 98 باب الصلاة إلى الراحلة والبعير والشجر والرحل»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 280
280 صحيح حديث أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّهُ رَأَى بِلاَلاً يُؤَذِّنُ، فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ ههُنَا وَههُنَا بِالأَذانِ
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا، وہ کہتے ہیں: میں بھی ان کے منہ کے ساتھ ادھر ادھر منہ پھیرنے لگا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 280]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 19 باب هل يتتبع المؤذن فاه ههنا وههنا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 281
281 صحيح حديث أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، وَرَأَيْتُ بِلاَلاً أَخَذَ وَضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَاكَ الْوَضوءَ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِه، ثُمَّ رَأَيْتُ بِلاَلاً أَخَذَ عَنَزَةً فَرَكَزَهَا، وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمِّرًا، صَلَّى إِلَى الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ مِنْ بَيْنَ يَدَيِ الْعَنَزَةِ
سیدنا ابو جحیفہ وہب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سرخ چمڑے کے خیمے میں دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرا رہے ہیں اور ہر شخص آپ کے وضو کا پانی حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، اگر کسی کو تھوڑا سا بھی پانی مل جاتا تو وہ اسے اپنے اوپر مل لیتا اور اگر کوئی پانی نہ پا سکتا تو اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی حاصل کرنے کی کوشش کرتا، پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی ایک برچھی اٹھائی جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا تھا اور اسے انہوں نے (بطور سترہ) گاڑ دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ڈیرے میں سے) ایک سرخ پوشاک پہنے ہوئے، تہ بند (پنڈلیوں تک) اٹھائے ہوئے باہر تشریف لائے اور برچھی کی طرف منہ کر کے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی، میں نے دیکھا کہ آدمی اور جانور برچھی کے پرے سے گزر رہے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 281]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 17 باب الصلاة في الثوب الأحمر»
وضاحت: امام ابن قیم رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ آپ کا یہ جوڑا مکمل طور پر سرخ نہ تھا بلکہ اس میں سرخ اور کالی دھاریاں تھیں۔ سرخ رنگ کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ کافروں یا عورتوں کی مشابہت کی نیت سے مرد کو سرخ رنگ والے کپڑے پہننے درست نہیں۔ (راز) راوي حدیث: سیّدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کا اصل نام وہب بن عبداللہ العامری تھا۔ آپ وہب الخیر کے نام سے معروف ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں تشریف لائے۔ صغار صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کوفہ میں محکمہ پولیس کا سربراہ بنا دیا تھا۔ کوفہ میں ۷۴ ہجری کو وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 282
282 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلاَمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنَى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، وَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكَرْ ذلِكَ عَلَيَ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں (ایک مرتبہ) گدھی پر سوار ہو کر چلا، اس زمانے میں بلوغ کے قریب تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دیوار (کی آڑ) نہ تھی۔ میں بعض صفوں کے سامنے سے گزرا اور گدھی کو چھوڑ دیا، وہ چرنے لگی اور میں نماز (نماز کے لیے) صف میں داخل ہو گیا (مگر) کسی نے مجھے اس بات پر ٹوکا نہیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 282]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 18 باب متى يصح سماع الصغير»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں