🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
157. باب النهي عن بناء المساجد على القبور
باب: قبروں پر مساجد بنانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
308 صحيح حديث عَائِشَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالاَ: لَمَّا نَزَلَ برَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَفِقَ يَطْرَحُ خَمِيصَةَ لَهُ عَلَى وَجْهِهِ، فَإِذَا اغْتَمَّ بهَا كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ، فَقَالَ، وَهُوَ كَذلِكَ: لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيائِهِمْ مَسَاجِدَ يُحَذِّرُ مَا صَنَعُوا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں اپنی چادر کو بار بار چہرے پر ڈالتے، جب کچھ افاقہ ہوتا تو چادر ہٹا دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی اضطراب و پریشانی کی حالت میں فرمایا: ”یہود و نصاری پر خدا کی پھٹکار ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔“ آپ یہ فرما کر امت کو ایسے کاموں سے ڈراتے تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 308]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 55 باب حدثنا أبُو اليمان»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
158. باب فضل بناء المساجد والحث عليها
باب: مسجد بنانے کی فضیلت اور اس کی رغبت دلانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 309
309 صحيح حديث عُثْمَانَ بْنِ عَفَّان عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلاَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ، عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ، حِينَ بَنَى مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ أَكْثَرْتُمْ، وَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ بَنَى مَسْجدًا يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللهِ بَنَى اللهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ
عبید اللہ خولانی روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے متعلق لوگوں کی باتوں کو سن کر فرمایا کہ تم لوگوں نے بہت زیادہ باتیں کی ہیں، حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”جس نے مسجد بنائی، اس سے مقصود اللہ پاک کی رضا ہو تو اللہ تعالیٰ ایسا ہی ایک مکان جنت میں اس کے لیے بنائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 309]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 65 باب من بنى مسجدًا»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
159. باب الندب إِلى وضع الأيدي على الركب في الركوع ونسخ التطبيق
باب: رکوع میں ہاتھوں کا گھٹنوں پر رکھنا اور تطبیق کا منسوخ ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310
310 صحيح حديث سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ مُصْعَبُ ابْنُ سَعْدٍ: صَلَيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي فَطَبَّقْتُ بَيْنَ كَفَّيَّ، ثُمَّ وَضَعْتُهُمَا بَيْنَ فَخِذَيَّ، فَنَهَانِي أَبِي، وَقَالَ: كُنَّا نَفْعَلُهُ؛ فَنُهِينَا عَنْهُ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِينَا عَلَى الرُّكَبِ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کے بیٹے مصعب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں نماز پڑھی اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر رانوں کے درمیان رکھ لیا، اس پر میرے والد نے مجھے ٹوکا اور فرمایا کہ ہم بھی پہلے اسی طرح کرتے تھے لیکن بعد میں اس سے روک دیے گئے اور یہ حکم ہوا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھیں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 310]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 118 باب وضع الأكف على الركب في الركوع»
وضاحت: سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے رکوع میں دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا کر دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنا منقول ہے۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ باب لا کر اشارہ فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا ہے۔ (راز)

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
160. باب تحريم الكلام في الصلاة ونسخ ما كان من إِباحته
باب: نماز میں باتیں کرنا حرام ہے اور اجازت منسوخ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
311 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلاَةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا، وَقَالَ: إِنَّ فِي الصَّلاَةِ شُغْلاً
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (پہلے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور ہم سلام کرتے تو آپ اس کا جواب دیتے تھے، جب ہم نجاشی کے یہاں سے واپس ہوئے تو ہم نے (پہلے کی طرح نماز ہی میں) سلام کیا لیکن اس وقت آپ نے جواب نہیں دیا بلکہ (نماز سے فارغ ہو کر) فرمایا کہ: ”نماز میں آدمی کو فرصت کہاں۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 21 كتاب العمل في الصلاة: 2 باب ما ينهى من الكلام في الصلاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
312 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاَةِ، يُكَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ، حَتَّى نَزَلَتْ هذِهِ الآيَةُ (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا للهِ قَانِتِينَ) فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پہلے ہم نماز پڑھتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے، کوئی بھی شخص اپنے دوسرے بھائی سے اپنی کسی ضرورت کے لیے بات کر لیتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿سب ہی نمازوں کی پابندی رکھو اور خاص طور پر بیچ والی نماز کی اور اللہ کے سامنے فرماں برداروں کی طرح کھڑے ہوا کرو﴾ [سورة البقرة: 238] ، اس آیت کے ذریعے ہمیں نماز میں چپ رہنے کا حکم دیا گیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 312]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 2 سورة البقرة: 43 باب وقوموا لله قانتين أي مطيعين»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عمر یا ابو عامر تھی۔ احد کے موقعہ پر چھوٹے تھے۔ اس لیے خندق میں پہلی مرتبہ میدان میں آئے۔ سترہ غزوات میں حصہ لیا۔ آنکھیں دکھتی تھیں جس کی وجہ سے نظر نہیں آتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے آنکھیں درست کر دی تھیں۔ ۶۶یا ۶۸ ہجری کو کوفہ میں وفات پائی۔

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
313 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ، فَانْطَلَقْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا، فَأَتَيْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مَا اللهُ أَعْلَمُ بِهِ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَعَلَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنِّي أَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّةِ الأُولَى؛ ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ، وَقَالَ: إِنَّمَا مَنَعَنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي وَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی ایک ضرورت کے لیے (غزوہ بنی مصطلق میں) بھیجا۔ میں جا کر واپس آیا، میں نے کام پورا کر دیا تھا، پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے کوئی جواب نہیں دیا، میرے دل میں اللہ جانے کیا بات آئی اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس لیے خفا ہیں کہ میں دیر سے آیا ہوں، میں نے پھر دوبارہ سلام کیا اور جب اس مرتبہ بھی آپ نے کوئی جواب نہ دیا تو اب میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ خیال آیا، پھر میں نے (تیسری مرتبہ) سلام کیا اور اب آپ نے جواب دیا اور فرمایا: ”پہلے دو بار جو میں نے جواب نہ دیا تو اس وجہ سے تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی اونٹنی پر تھے اور اس کا رخ قبلہ کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری طرف تھا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 313]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 21 كتاب العمل في الصلاة: 15 باب لا يردّ السلام في الصلاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
161. باب جواز لعن الشيطان في أثناء الصلاة
باب: نماز کے اندر شیطان پر لعنت کرنا درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
314 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلاَةَ، فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا وَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ، فَذَكَرْتُ قَوْلَ أَخِي سُلَيْمَانَ (رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لاَ يَنْبَغِي لأَحدٍ مِنْ بَعْدِي) فَرَدَّهُ خَاسِئًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گزشتہ رات ایک سرکش جن اچانک میرے پاس آیا، وہ میری نماز میں خلل ڈالنا چاہتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے سوچا کہ مسجد کے کسی ستون کے ساتھ اسے باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب بھی اسے دیکھو، پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان کی یہ دعا یاد آ گئی: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي﴾ [سورة ص: 35] ”اے میرے رب! مجھے ایسا ملک عطا فرما دے جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو۔“”پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شیطان کو ذلیل کر کے دھتکار دیا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 314]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 75 باب الأسير أو الغريم يربط في المسجد»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
162. باب جواز حمل الصبيان في الصلاة
باب: دوران نماز میں بچوں کو اٹھا لینا درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
315 صحيح حديث أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا
سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہما بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے وقت اٹھائے رہتے تھے، ابو العاص بن ربیعہ بن عبد شمس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو اتار دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھا لیتے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 315]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 106 باب إذا حمل جارية صغيرة على عنقه في الصلاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
163. باب جواز الخطوة والخطوتين في الصلاة
باب: نماز میں ضرورت سے دو ایک قدم چلنا درست ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 316
316 صحيح حديث سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ أَبُو حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ: إِنَّ رِجَالاً أَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، وَقَدِ امْتَرَوْا فِي الْمِنْبَرِ، مِمَّ عُودُهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذلِكَ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنِّي لأَعْرِفُ مِمَّا هُوَ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ أَوَّلَ يَوْمٍ وُضِعَ، وأَوَّلَ يَوْمٍ جَلَسَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلاَنَةَ (امْرأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ) : مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ أَنْ يَعْمَلَ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ فَأَمَرَتْهُ فَعَمِلَهَا مِنْ طَرْفَاء الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ ههُنَا ثُمَّ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَيْهَا، وَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ رَكَع وَهُوَ عَلَيْهَا، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ عَادَ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا صَنَعْتُ هذَا لِتَأْتَمُّوا وَلِتُعلَّمُوا صَلاَتِي
ابوحازم بن دینار رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ کچھ لوگ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان کا آپس میں اس (بات) پر اختلاف تھا کہ منبر نبوی ( «عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ») کی لکڑی کس درخت کی تھی، اس لیے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا: خدا گواہ ہے، میں جانتا ہوں کہ منبر نبوی کس لکڑی کا تھا، پہلے دن جب وہ رکھا گیا اور سب سے پہلے جب اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو میں اس کو بھی جانتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی فلاں عورت کے پاس، جن کا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نام بھی بتایا تھا، ایک آدمی کو بھیجا کہ ”اپنے بڑھئی غلام سے میرے لیے لکڑیاں جوڑ دینے کے لیے کہیں تاکہ مجھے لوگوں سے کچھ کہنا ہو تو اس پر بیٹھا کروں۔“ چنانچہ انہوں نے اپنے غلام سے کہا اور وہ غابہ کے جھاؤ کی لکڑی سے اسے بنا کر لایا۔ اس انصاری خاتون نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہاں رکھوایا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی پر (کھڑے ہو کر) نماز پڑھائی، اسی پر کھڑے کھڑے تکبیر کہی، اسی پر رکوع کیا، پھر الٹے پاؤں لوٹے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا اور پھر دوبارہ اسی طرح کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو خطاب فرمایا: ”لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا کہ تم میری پیروی کرو اور میری طرح نماز پڑھنی سیکھ لو۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 316]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 11 كتاب الجمعة: 26 باب الخطبة على المنبر»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
164. باب كراهة الاختصار في الصلاة
باب: نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 317
317 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، قَالَ: نُهِيَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے“ سے منع فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 317]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 21 كتاب العمل في الصلاة: 17 باب الخصر في الصلاة»

الحكم على الحديث:
«صحیح»
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں