اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
165. باب كراهة مسح الحصى وتسوية التراب في الصلاة
باب: نماز میں کنکریاں ہٹانے اور مٹی صاف کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 318
318 صحيح حديث مُعَيْقيبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ، قَالَ: إِنْ كُنْتَ فَاعِلاً فَوَاحِدَةً
سیدنا معیقیب بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے، جو ہر مرتبہ سجدہ کرتے ہوئے کنکریاں برابر کرتا تھا، فرمایا کہ: ”اگر ایسا کرنا ہے تو صرف ایک ہی بار کر۔“ (کیونکہ بار بار ایسا کرنا نماز میں خشوع و خضوع کے خلاف ہے) [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 318]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 21 كتاب العمل في الصلاة: 8 باب مسح الحصا في الصلاة»
وضاحت: راوي حدیث: سیّدنا معیقیب بن ابی فاطمہ الدوسی رضی اللہ عنہ ہاجرین میں سے ہیں۔ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر مبارک کے امین رہے۔ سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیت المال کے نگران مقرر تھے۔ پھر سیّدنا عثمان کی مہر کے محافظ رہے۔ آپ کو جذام کا مرض لاحق تھا۔ چالیس ہجری کو وفات پائی۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
166. باب النهي عن البصاق في المسجد، في الصلاة وغيرها
باب: دوران نماز یا نماز کے علاوہ مسجد میں تھوکنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 319
319 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارَ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلاَ يَبْصُقْ قِبَلَ وَجْههِ، فَإِنَّ اللهَ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی دیوار پر تھوک دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ ڈالا اور لوگوں سے خطاب کر کے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز میں ہو تو سامنے نہ تھوکے؛ کیونکہ نماز میں منہ کے سامنے اللہ عزوجل ہوتا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 319]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 33 باب حكّ البزاق باليد من المسجد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 320
320 صحيح حديث أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ، ثُمَّ نَهى أَنْ يَبْزُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ، وَلكِنْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر بلغم دیکھا تو آپ نے اسے کنکری سے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: ”کوئی شخص سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے، البتہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لینا چاہیے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 320]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 36 باب ليبزق عن يساره أو تحت قدمه اليسرى»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 321
321 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا، فَقَالَ: إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر بلغم دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لی اور اسے صاف کر دیا، پھر فرمایا: ”جب کوئی شخص تھوکے تو اسے سامنے یا داہنی طرف نہ تھوکنا چاہیے، البتہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 321]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 34 باب حكّ المخاط بالحصى من المسجد»
وضاحت: اس حدیث میں نماز کی قید نہیں۔ مگر سیّدنا انس رضی اللہ عنہ والی حدیث (نمبر ۳۲۳) میں نماز کی قید ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت مطلق ہے۔ یعنی نماز میں ہو یا غیر نماز میں، مسجد میں ہو یا غیر مسجد میں، قبلہ رخ تھوکنا منع ہے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 322
322 صحيح حديث عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي جِدار الْقِبْلَةِ مُخاطًا، أَوْ بُصَاقًا، أَوْ نُخَامةً فَحَكَّهُ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار پر رینٹ (ناک کا مواد) یا تھوک یا بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ ڈالا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 322]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 23 باب حك البزاق باليد من المسجد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 323
323 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ، فَلاَ يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلاَ عَنْ يَمِينِهِ، وَلكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَو تَحْتَ قَدَمِهِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، اس لیے وہ اپنے سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے، ہاں بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 323]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 36 باب ليبزق عن يساره أو تحت قدمه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
حدیث نمبر: 324
324 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبُزَاق فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے (زمین میں) چھپا دینا ہے۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 324]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 37 باب كفارة البزاق في المسجد»
الحكم على الحديث:
«صحیح»
167. باب جواز الصلاة في النعلين
باب: جوتیاں پہن کر نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 325
325 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ الأَزْدِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ: نَعَمْ
سعید بن یزید ازدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتیاں پہن کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 325]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 8 كتاب الصلاة: 24 باب الصلاة في النعال»
وضاحت: سنن ابوداود اور مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں کے خلاف کرو۔ وہ جوتیوں میں نماز پڑھتے۔ سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نماز میں جوتے اتارنا مکروہ جانتے تھے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نعل عربوں کا ایک خاص جوتا ہے۔ ان عام جوتوں میں نماز جائز نہیں۔ خواہ وہ پاک صاف بھی ہوں۔ دلائل کی رو سے ایسا کہنا صحیح نہیں ہے۔ جوتوں میں نماز بلا کراہت جائز اور درست ہے بشرطیکہ وہ پاک اور صاف ستھرے ہوں۔ (راز)
الحكم على الحديث:
«صحیح»
168. باب كراهة الصلاة في ثوب له أعلام
باب: پھول دار کپڑے میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 326
326 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلاَمٌ، فَقَالَ: شَغَلَتْنِي أَعْلاَمُ هذِهِ اذهبوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”اس کے نقش و نگار نے مجھے غافل کر دیا، اسے لے جا کر ابو جہم کو واپس کر دو اور ان سے (بجائے اس کے) سادی چادر مانگ لاؤ۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 326]
تخریج الحدیث: «صحیح، _x000D_ أخرجه البخاري في: 10 كتاب الأذان: 93 باب الالتفات في الصلاة»
وضاحت: یہ چادر ابو جھم نے آپ کو تحفہ میں دی تھی مگر اس کے نقش و نگار آپ کو پسند نہیں آئے کیونکہ ان کی وجہ سے نماز کے خشوع و خضوع میں فرق آ رہا تھا اس لئے آپ نے اسے واپس کرا دیا۔ معلوم ہوا کہ نماز میں غافل کرنے والی کوئی چیز نہ ہونی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
«صحیح»
169. باب كراهة الصلاة بحضرة الطعام
باب: کھانے کی موجودگی میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 327
327 صحيح حديث أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضي الله عنه، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رات کا کھانا سامنے رکھ دیا گیا ہو اور نماز بھی کھڑی ہو گئی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 327]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 70 كتاب الأطعمة: 58 باب إِذا حضر العشاء فلا يعجل عن عشائه»
الحكم على الحديث:
«صحیح»